256 total views, 1 views today

اخترؔ شیرانی ایک مرتبہ دلی آئے۔ شام کے وقت سخت نشے میں مجھ سے سرِ راہ مل گئے اور کہنے لگے: ’’چلو، مجھے شاہد احمد کے ہاں لے چلو، پرانا دوست ہے۔‘‘ مَیں (ن ۔م راشد) انہیں شاہد کے ہاں لے کر پہنچا۔ جب شاہد دروازے پر آئے، تو مَیں نے کہا: ’’اختر شیرانی آپ سے ملنے آئے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی اختر بولے: ’’ارے یار شاہد! فوری ضرورت نکل آئی ہے۔ کچھ رقم ہو تو دے دو۔‘‘ شاہد تھوڑی دیر کے لیے چپ رہے۔ پھر کہنے لگے: ’’مَیں تمہیں نہیں جانتا ، تم میرے رسالے کے مضمون نگار تک نہیں ہو۔ عمر بھر میں تم سے پہلی ملاقات ہے۔ تم کس بنا پر مجھ سے رقم مانگ رہے ہو؟‘‘ اختر اصرار کرتے رہے اور شاہد چپ چاپ ان کی باتیں سنتے رہے۔ پھر چپکے سے دروازہ بند کرکے اندر چلے گئے۔ مَیں نے راستہ میں اختر سے پوچھا: ’’آپ تو اسے پرانا دوست کہہ رہے تھے اور وہ آپ کو پہچانتا تک نہیں۔‘‘ کھسیانی ہنسی ہنس کر کہنے لگے: ’’شاید ٹھیک ہی کہہ رہا تھا۔ دو چار دن کے بعد شاہد سے ملاقات ہوئی، تو انہوں نے قسم کھ کر کہا: ’’اس سے پہلے مَیں نے اختر شیرانی کی صورت تک نہیں دیکھی تھی اور اس طرح سلام دعا کے بغیر کسی کا میرے گھر پر آکر پیسے مانگنا مجھے راس نہیں آتا۔‘‘
(’’مقالاتِ ن م راشد‘‘ مرتب ’’شیما مجید‘‘، مطبوعہ ’’بُک ٹائم کراچی‘‘، سنِ اشاعت 2009ء، صفحہ 361 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے