157 total views, 1 views today

دسمبر کا مہینہ وطنِ عزیز کی تاریخ میں کئی جہتوں سے اہمیت کا حامل رہا ہے، مگر چند خونیں حادثات ایسے ہیں جن کا اثر ذائل ہونا کئی صدیوں تک ناممکن ہوگا۔ ان میں سے دو اہم واقعات ایک ہی تاریخ کو یعنی سولہ دسمبر کو رونما ہوئے۔ پہلا دل دوز حادثہ ’’سقوط ڈھاکہ‘‘ 16 دسمبر 1971ء کو اور دوسرا واقعہ 16دسمبر ہی کو پشاور آرمی پبلک سکول میں معصوم بچوں کے قتلِ عام کا ہے جس کا درد و غم نہ صرف متاثرہ والدین کو، بلکہ ہر ذی روح کو ہمیشہ بے چین رکھے گا۔
دونوں حادثات کے بارے میں طرح طرح کی قیاس آرائیاں چلی آرہی ہیں اور جیسا کہ پاکستان میں ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے۔ دونوں حادثات کی صحیح اور مستند و معتبر تصویر کسی بھی تحقیقات کی صورت میں واضح نہ ہوسکی۔
یہی حقیقت دسمبر ہی میں دو اور قومی حادثات کے بارے میں بھی آشکار ہے کہ دونوں ہی مختلف قیاس آرائیوں اور متضاد کہانیوں کے اُڑائی ہوئی گردو غبار میں گم ہوکر رہ گئے ہیں۔ یعنی محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت اور جناب اسفند یار باچا کی شہادت۔ سقوطِ ڈھاکہ کے بارے میں کئی کتابیں لکھی گئی ہیں لیکن ان میں کسی ایک کے بارے میں ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس میں حقیقت کتنی ہے اور افسانہ کتنا ہے۔ سچائی اور مبالغہ آرائی میں کون تمیز کرسکتا ہے، جب ہر ایک لکھاری اپنے لکھے کو حرفِ آخر تسلیم کرانے پر تلا ہوا ہو۔ حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ کو بھی حرفِ آخر نہیں قرار دیا جاسکتا۔ صدیق سالک کی کتاب ’’وٹنس ٹو سرنڈر‘‘ اور اس کا اردو ترجمہ ’’میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا‘‘ بھی بعض پہلوؤں سے قابلِ یقین نہیں ہے۔ اگر چہ موصوف اُن دنوں ڈھاکہ میں فرائضِ منصبی ادا کررہے تھے۔ اسی طرح جنرل نیازی کی کتاب ’’میں نے ہتھیار نہیں ڈالے‘‘ بھی یک طرفہ کوشش ہے کہ کسی طرح خود کو بری الذمہ قرار دے سکے۔
میری ذاتی مطالعہ سے میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اس واقعہ فاجعہ کی صحیح اور قابلِ یقین تصویر ہمیں جناب میاں افراسیاب مہدی ہاشمی قریشی کی تصنیف ’’1971ء، حقیقت اور افسانہ‘‘ میں نظر آتی ہے۔ انگریزی میں لکھی گئی یہ کتاب 632صفحات پر پھیلی ہوئی ہے۔ یہ کتاب تجارتی فروخت کے لیے ممنوع ہے۔ اس لیے کتاب پر کوئی قیمت درج نہیں ہے۔ کتاب نہایت اعلا اور قیمتی کاغذ پر چھپی ہے۔ میرے پیشِ نظر اس کی چوتھی ایڈیشن ہے۔
کتاب میں بہت سی تاریخی اہمیت کی حامل تصاویر ہیں۔ اس میں مشرقی پاکستان کی محرومیوں کی کہانی بھی ہے اور ایوبی دور میں ترقیاتی منصوبوں کی عکاسی بھی ہے۔ بنگالی اب بھی صرف ایوب خان کے دور کو یاد کرتے ہیں جنہوں نے وہاں پر کئی ترقیاتی منصوبے پایۂ تکمیل تک پہنچائے تھے۔ گورنروں میں صرف جنرل اعظم کی کارکردگی کے قائل ہیں اور ان کا ذکر احترام اور محبت سے کرتے ہیں۔
کتاب کے مصنف میاں افراسیاب ہاشمی کا تعلق مظفر گڑھ سے ہے۔ 1984ء میں پاکستان فارن سروس میں شمولیت اختیار کی۔ وزارتِ خارجہ اسلام آباد میں مختلف کلیدی عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ بیرونی ممالک میں بہ طورِ سفارت کار فرائض سرانجام دیے۔ جن میں امریکہ، چین، انڈیا، بنگلہ دیش اور بھوٹان وغیرہ شامل ہیں۔ 2011ء سے 2014ء تک بنگلہ دیش میں پاکستان کے سفیر رہے ہیں۔ کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔
مذکورہ کتاب کے مطالعہ سے کئی ایسی کہانیوں کی نفی ہوتی ہے جو پاکستانی فوج کے بارے میں پھیلائی گئی تھیں، اور اعداد و شمار سے ان کی اصلی صورتِ حال واضح کردی گئی ہے۔ ان میں سے بعض فرضی اور من گھڑت افسانوں کو اس وقت کے پاکستانی اربابِ اقتدار اور بھارتی حکمرانوں نے اپنے اپنے مفاد میں بڑھا چڑھا کر پیش کرتے رہے ہیں۔ مثلاً پاکستانی افواج کی تعداد اور بھارت میں قید پاکستانیوں کی تعداد میں مبالغہ آمیز اضافہ، بنگالی خواتین کی آبرو ریزی اور عصمت دری کی جھوٹی کہانیاں وغیرہ، جس کی تردید اقوامِ متحدہ کے قائم کردہ کمیشن نے بھی اپنی رپورٹ میں کی ہے۔
شیخ مجیب جو دو لاکھ عورتوں کی آبرو ریزی اور حاملہ ہونے کا راگ الاپ رہے تھے، تو اقوامِ متحدہ کے کمیشن کے سامنے صرف دو سو متاثرہ خواتین پیش ہوئیں اور اسقاطِ حمل کروائی اور وہ بھی مکتی باہنی کے ہاتھوں اس ظلم کا شکار ہوئی تھیں۔ مشرقی پاکستان میں پاک آرمی کی کل 34 ہزار نفری تعینات تھی۔ اس میں کئی شہادت سے سرفراز بھی ہوئے تھے۔ نوے ہزار کی تعداد میں قید پاکستانیوں میں ہزاروں سویلین بھی شامل تھے۔ اس کتاب کا مطالعہ ہر پاکستانی کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

…………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے