164 total views, 1 views today

ہائبرڈ آف پیس (Hybrid of Peace) ایک ایسے انسان کی خود نوشت ہے جس نے تھانہ، ضلع ملاکنڈ کے ایک دور اُفتادہ مضافاتی دیہات ’’گنیار‘‘ میں جنم لیا اور اپنی ذہانت، محنت اور جہدِ مسلسل سے بین الاقوامی شہرت حاصل کرکے ایک عظیم زرعی سائنس دان بن گیا۔
’’قاضی محمد حنیف صاحب‘‘ کے والد بزرگوار ’’گنیار‘‘ کے پیش امام تھے۔ اپنے عہدِ طفولیت کا ذکر انہوں نے اتنی صاف گوئی سے کیا ہے کہ پڑھنے والا حیرت زدہ ہوجاتا ہے۔ آج وہ دنیا کی ہر نعمت سے بھر پور زندگی کا لطف اُٹھا رہے ہیں، لیکن بچپن میں دیہات کے کھلیانوں سے اپنے والد کے سالانہ وظیفے کا غلہ لانے کا ذکر بڑی تفصیل سے کرتے ہیں۔ اُن کے ہر بھائی کی داستانِ حیات میں ان لوگوں، خصوصاً نوجوانوں کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال اور باعزت زندگی گزارنے کے گُر درج ہیں، جو لوگ محض غربت اور مالی مشکلات کی وجہ سے ہمت ہار جاتے ہیں۔ وہ بچہ جو ابتدائی تعلیم کے لیے 10 کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کرکے آتا جاتا تھا۔ اُس نے اپنے علم کے ذریعے نوعِ انسانی کی بھلائی کے لیے وہ کارنامے سرانجام دیے جس کی گونج اقوامِ متحدہ کے ایوانوں میں سنائی دی۔
کتاب کا طرزِ بیاں اتنا دل فریب ہے کہ مشکل سائنسی اصطلاحات کے علی الرغم بوریت کا احساس تک نہیں ہوتا اور مجھ جیسا کم پڑھا لکھا بھی مفہوم سے لطف اندوز ہوسکتا ہے۔ بعض حقائق ایسے تلخ ہوتے ہیں جن کے بارے میں جان کر روحانی اذیت محسوس ہوتی ہے۔
پاکستانی نوکر شاہی اور نوآبادیاتی نظام کے تسلسل، سیاسی بورژوا طبقے کی ہوسِ اقتدار اور عدالتی ہتھ کنڈوں کی پیچیدگیوں نے بڑے بڑے محبِ وطن اہلِ علم کو مجبور کیا کہ وطن کو خیر باد کہہ دیں، باہر جاکر نہ صرف اُن کی پذیرائی کی گئی بلکہ اُن کو تحقیق کے لیے سازگار ماحول بھی فراہم کیا گیا، دیارِ غیر میں انسانی بھلائی کے لیے لازوال کارنامے انجام دینے کا موقع حاصل ہوا۔
ڈاکٹر حنیف قاضی اُن خوش نصیب انسانوں میں ممتاز مقام رکھتے ہیں، جنہوں نے ’’اسلامیہ کالج‘‘ کے بعد ’’زرعی کالج پشاور‘‘ میں داخلہ لیا۔ یہ کالج بعد میں یونیورسٹی بن گیا۔ بی ایس سی کے بعد وائس چانسلر کی ہدایت پر زرعی کالج میں ایم ایس سی کی کلاس کھولی گئی اور قاضی حنیف “Genitics” کے پہلے سٹودنٹ بن گئے۔ یہیں سے اُن کے شان دار کیرئیر کا آغاز ہوگیا۔ زرعی ترقیاتی اداروں میں مختلف مدارج سے گزرتے رہے۔ خوبیِ قسمت سے اُن کو مزید تعلیم و تحقیق اور ڈاکٹریٹ کرنے کے لیے وظیفہ مل گیا، اور وہ نیوزی لینڈ چلے گئے۔ وہاں اُن پر کامیابی و کامرانی کے دروازے کھلتے گئے۔ تحقیق کا ذوق اُن کی گھٹی میں پڑا تھا اور انہوں نے نیوزی لینڈ کے زرعی شعبے، خصوصاً آلو اور گندم کے بارے میں محیر العقول ایجادات کرکے پوری دنیا کی توجہ حاصل کی۔ ان تمام مراحل سے گزرنے کی روداد انہوں نے ایسی تفصیل، مہارت اور دل کش انداز میں کی ہے کہ کتاب پڑھنے والا اس کی ہر سطر سے لطف اندوز ہوتا ہے۔
قاضی حنیف صاحب ایک بلند مرتبہ عالمی شہرت کے حامل ہونے کے باوجود شرافت، انکسار اور عاجزی کا مجسمہ ہیں، مگر اس کے ساتھ نہایت نڈر، صاف گو اور لگی پٹی بغیر بات کرنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں۔ کسی گورنر، صدر یا وزیراعظم کے آگے سچ کہنے سے نہیں چوکتے۔ کسی بھی مصلحت کو خاطر میں نہیں لاتے۔ اسی صاف گوئی کی وجہ سے کئی بار مصائب سے دوچار بھی ہوئے، لیکن اصولوں پر سودا بازی نہیں کی۔
پہلی بار جب نیوزی لینڈ میں طویل عرصہ گزارنے کے بعد گاؤں آئے، تو ’’گنیار‘‘ میں ایک اصلاحی پروگرام شروع کیا۔ گاؤں کی قریبی پہاڑی گھاٹیوں میں شجر کاری کروائی۔ زرعی زمینوں کو جدید طریقے سے منظم کیا۔ نئی اقسام کے بیچ متعارف کروائے اور نیوزی لینڈ حکومت کے تعاون سے ایک کمیونٹی سنٹر تعمیر کروایا۔ اس سارے عمل کو ’’لنکن گنیار ماڈل‘‘ کا نام دیا۔ ’’لنکن‘‘ میں قاضی صاحب ڈاکٹریٹ کے سلسلے میں کئی سال مقیم رہے۔
قاضی صاحب نے ’’کرائسٹ چرچ‘‘ میں ’’مسجد نور‘‘ بنوائی جس میں حال ہی میں دہشت گردی کا اندوہناک واقعہ رونما ہوچکا ہے۔
قاضی صاحب اپنی ذات میں ایک انجمن ہیں اور اُن کی یہ خود نوشت ان کی ہمہ گیر شخصیت کی مکمل تصویر ہے۔ مجھے فخر ہے کہ میں ڈاکٹر صاحب کے خاندان کی عظیم شخصیات سے ذاتی طور پر متعارف ہوں۔

…………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے