503 total views, 5 views today

٭ بدیع:۔ یہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مادہ ہے ’’ب د ع‘‘۔ یہ لفظ ایک نہایت ادبی اصطلاح کے طور پر مروج ہے۔ مختلف لغات کے مطابق لفظ ’’بدیع‘‘ کا مفہوم یہ ہے:
٭ ’’فرہنگِ اصطلاحات، علومِ ادبی‘‘ کے مطابق، بدیع بنانے والا، مؤجد، نیا، نادر، نو ایجاد شے۔ اصطلاح میں فصیح و بلیغ، کلام کو مختلف لفظی و معنوی خوبیوں سے آراستہ کرنے کا علم۔ وہ خوبیاں جو کلام کی زینت اور آراستگی کا مؤجب ہوں۔ انہیں ’’محسنات‘‘ یا ’’صنائع بدائع‘‘ کہتے ہیں۔
٭’’المنجد‘‘ کے مطابق:۔ بدیع مؤجد، انوکھی چیز، انوکھی چیز بنانے والا، موٹا، نئی مشک۔ علم البدیع، وہ علم ہے جس سے کلام کی لفظی و معنوی خوبیاں معلوم ہوں۔
بدع:۔ باب ثلاثی مجرد، فَتَحَ یَفتَحُ، بر وزنِ فَعَلَ یَفْعَلُ۔
بِدْعاً، الشئی، کوئی شے ایجاد کرنا، کوئی چیز بغیر نمونے کے بنانا، ابتدا کرنا۔
٭ نوراللغات کے مطابق:۔ بدیع (یائے معروف) صفت، انوکھا، نادر، نیا، بنانے والا یا مؤجد، نو ایجاد شے۔
٭ ’’جامع اللغات‘‘ کے مطابق:۔ بدیع (ع، صفت) انوکھا، نیا، نادر، عجیب، حیرت انگیز، نرالا، خلق کرنے والا، بنانے والا، خالق، موجود (مذکر) نو ایجاد شے، خدا تعالیٰ کا ایک نام (بَدَعَ: بنانا، شروع کرنا، بدع، لاثانی ہونا)
٭ ’’لغاتِ کشوری‘‘ کے مطابق:۔ بدیع، انوکھا، نادر، نئی بات۔
٭ ’’فرہنگِ تلفظ‘‘ کے مطابق:۔ بدیع (صف) نادر، نیا، تازہ، نو ایجاد، عجیب، انوکھا، بے مثل۔
٭ ’’علمی لغت‘‘ کے مطابق:۔ بدیع (بفتحۂ اوّل) (ع، صف، امذ) انوکھا، نیا، نادر، مؤجد، بنانے والا، نو ایجاد چیز۔ ایک علم جس میں کلام کی لفظی اور معنوی خوبیاں بیان کی جاتی ہیں۔
٭ ’’فرہنگِ عامرہ‘‘ کے مطابق:۔ بدیع، نادر، نئی چیز، جمع بدائع۔
٭ ’’نصابِ بلاغت‘‘ کے مطابق: علمِ بدیع وہ علم ہے جس کے ذریعے کلام فصیح و بلیغ کی لفظی اور معنوی خوبیاں بیان کی جاتی ہیں۔
٭ ’’البلاغہ‘‘ کے مطابق:۔ علمِ بدیع وہ علم ہے جس سے بہ طورِ صنائع بدائع کے محسناتِ کلام معلوم ہوں۔
٭ ’’مختصر المعانی‘‘ کے مطابق:۔ بدیع وہ علم ہے جس سے خوبیِ کلام کے طریقے معلوم ہوں۔ یعنی ان کے معنی کا تصور اور بقدرِ وسعت ان کے اعداد و تفاصل کا علم حاصل ہو۔
٭ ’’شمیمِ بلاغت‘‘ کے مطابق:۔ علمِ بدیع وہ علم ہے جس سے کلام کی لفظی اور معنوی خوبیاں معلوم ہوں۔
٭ ’’اصطلاحاتِ نقد و ادب‘‘ کے مطابق:۔ بدیع کے لغوی معنی بنانے والا اور انوکھے و نادر کے ہیں۔ اصطلاح میں اُس علم کو کہتے ہیں جس میں اُن چیزوں کی نشان دہی کی جاتی ہے جن سے کلام کے حسن میں اضافہ ہوتا ہے۔ عرفِ عام میں اسے صنائع و بدائع بھی کہتے ہیں۔
٭ ’’منتخب ادبی اصطلاحات‘‘ کے مطابق:۔ بدیع کے لغوی معنی انوکھا، نو ایجاد شے اور بٹی ہوئی رسی کے ہیں۔ اصطلاح میں اس سے مراد وہ علم ہے جس سے بلیغ کلام کو خوب صورت بنانے کے طریقے معلوم ہوں۔
٭ ’’نگارستان‘‘ کے مطابق:۔ بدیع کے معنی اچھوتے اور نادر کے ہیں۔ اس کے ذریعے کلام میں اچھوتا پن پیدا کیا جاتا ہے۔ یہ کلام کی آرائش و زیبائش ہے۔ اس سے کلام کی خوب صورتی میں صنائعِ معنوی و لفظی بیان کی جاتی ہیں، اور یہ صنائعِ تزئینِ کلام کا باعث بنتی ہیں۔
٭ ’’بحر الفصاحت‘‘ کے مطابق:۔ بدیع ایک علم یعنی ملکہ ہے جس سے چند اُمور ایسے معلوم ہوجاتے ہیں جو خوبیِ کلام کا باعث ہوتے ہیں۔ مگر اول اس بات کی رعایت ضروری ہے کہ کلام مقتضائے حال کے مطابق ہو، اور اس کی دلالت مقصود پر واضح ہو۔ کیوں کہ ان دونوں خوبیوں کے بعد ہی کلام میں محسنات سے حسن و خوبی آسکتی ہے۔ ورنہ بغیر ان اُمور کی رعایت کے علمِ بدیع پر عمل کرنا ایسا ہے جیسے بدصورت عورت کو عمدہ لباس اور زیور پہنادینا۔ اس وجہ سے اس علم کا مرتبہ علمِ معانی اور علمِ بیان کے بعد سمجھا گیا ہے۔
٭ سید عابد علی عابدؔ کے مطابق:۔ بدیع کی تعریف ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ اس علم کی قدر حسن ہے، یعنی اس کا مقصد یہ ہے کہ کلام میں عناصرِ جمال کی نشان دہی کرے اور تخلیقِ حسن کے گر سکھائے۔
٭ ’’جواہر البلاغت‘‘ کے مطابق:۔ علمِ بدیع وہ علم ہے جس سے کلام کی تحسین اور تزئین کے طریقے معلوم ہوں۔ یہ تحسین و تزئین دو طرح کی ہوتی ہیں۔ ایک معنوی اور دوسری لفظی، جن میں ذاتی طور پر معنوی خوبیاں ہوتی ہیں، وہ صنائعِ معنوی اور جن میں ذاتی طور پر لفظی خوبیاں ہوں وہ صنائع لفظی کہلاتی ہیں۔ یہ تمام خوبیاں سونے پر سہاگا اُس وقت ہوتی ہیں جب کلامِ بلیغ میں ہوں، وگر نہ عیب سے کم نہیں ہوتیں۔
٭ ’’بلاغت‘‘ کے مطابق:۔ جس میں کلام کی خوبی اور زینت کے طریقے معلوم کیے جائیں۔ ان طریقوں کا استعمال اُس وقت بہتر ہوگا جب کہ کلام میں علمِ معانی اور بیان کی رعایت ملحوظ ہو۔ علمِ بیان حسن و خوب صورتی اور علمِ بدیع عمدہ لباس اور زیور کا کام دیتا ہے۔ اگر کلام میں صرف بدیع کی رعایت ہو اور معانی و بیان کی خوبیاں نہ ہوں، تو وہ کلام میں اُس بد شکل عورت کی طرح ہے جس کو عمدہ اور زرق برق زیور پہنادیا گیا ہو، اور اگر خوب صورت کو زیور نہ پہنائیں، تو اس کے لیے حسنِ خداداد ہی کافی ہے۔
خلاصہ بحث:۔ لفظ ’’بدیع‘‘ کا مادہ ’’ب د ع‘‘ ہے جس کے لغوی معنی ہیں نیا، نئی چیز، عجیب چیز یا موجود اور بنانے والا، یا عجیب کام کرنے والا۔ جب کہ اصطلاح میں اس سے مراد وہ علم ہے جس سے بلیغ کلام کو خوب صورت بنانے کے طریقے معلوم ہوں اور یہ طریقے دو طرح سے ہیں: معنوی اور لفظی۔ ان کو صنائع بھی کہتے ہیں۔ صنائع صنعت کی جمع ہے جس کے معنی ہیں ہنر، مہارت اور کاری گری۔ ان کی دو قسمیں ہیں: صنائع معنوی، جس سے معنوں میں خوبی آئے۔ دوسرا، صنائع لفظی جس میں ظاہری صورت یعنی لفظی خوبی بیان کی جائے۔

…………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے