467 total views, 1 views today

ایک ایسا روزنامچہ منظرِ عام پر آیا ہے جو اس اعتبار سے اہم ہے کہ یہ ہمارے عہد کے ایک بڑے تخلیقی فن کار کی زندگی کا آئینہ ہے۔ یہ ’’ناصر کاظمی کی ڈائری‘‘ کے نام سے شائع ہوا ہے۔ ان میں 1948ء سے 1972ء تک کے اندراجات ہیں۔ آخری اندراج ناصرؔ کی موت سے ایک دن پہلے (یکم مارچ 1972ء) کا ہے۔
ناصرؔ کاظمی کو 19، 20 برس کی عمرہی سے ڈائری لکھنے کی عادت تھی۔ ہر سال وہ نئی ڈائری میں اپنے معمولات درج کرتا تھا۔ یہ ساری ڈائریاں محفوظ نہیں رہیں۔ جو محفوظ رہ گئیں، انہیں ناصر ؔکے بیٹے سلطان کاظمی نے شائع کر دیا ہے۔ ناصرؔ ہر روز ڈائری نہیں لکھتا تھا، اُسی روز لکھتا تھا جب کوئی بات لکھنے کے لائق ہوتی تھی۔ چوں کہ ڈائری چھپوانے کے خیال سے نہیں لکھی جاتی تھی، اس لیے اس میں بہت سی ایسی باتیں آگئی ہیں، جنہیں عموماً چُھپایا جاتا ہے۔ انہیں باتوں کی وجہ سے یہ ڈائری ناصرؔ کاظمی کے سوانح نگار کے لیے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔
ناصرؔ ایک حسن دوست اور جمال پرست انسان تھے۔ اُسے جہاں کہیں بھی حسن دکھائی دیتا ہے، اپنی ڈائری میں اس کا ذکر ضرور کرتا ہے۔ یہ حسن اُسے کبھی بادلوں میں نظر آتا ہے اور کبھی بارشوں میں۔ کہیں وہ رنگ برنگے پھولوں کا ذکر کرتا ہے اور کہیں خوبصورت پرندوں کا۔ یہ سب اُس کی تنہائیوں کے رفیق ہیں اور وہ اُن کی موجودگی سے خوش ہوتا ہے۔ پھولوں اور پرندوں کے ساتھ ساتھ انسانی حسن بھی اُسے بے حد متاثر کرتا ہے۔ ڈائری کے ابتدائی چند برسوں کے اندراجات میں ایک ایسے شخص کا بار بار ذکر آتا ہے جس کا اصلی نام ناصرؔ نے اپنے آپ سے بھی چھپانا چاہا ہے۔ وہ اسے ’’آنکھ کا تارا‘‘ کے فرضی نام سے یاد کرتا ہے۔ اس کے حوالے سے ایک جگہ وہ لکھتا ہے: ’’غزل لکھنے کی سوچ رہا ہوں۔ کچھ تصویریں آنکھوں کے سامنے ناچ رہی ہیں۔ پتے جھڑنے کا موسم ہے۔ آرزوئیں جوان ہو رہی ہیں۔ ایک ایک پتا دل شبِ چراغ ہے۔ آنکھ کا تارا…… میرے درد کا درماں ہے لیکن اُس کے درد کا درماں کوئی اور ہے۔ یہ خواب بھی عجیب ہوتے ہیں۔ کوئی کسی کا کوئی کسی کا…… جس قدر احسان اُس نے مجھ پر کیے ہیں، جتنا پیار اُس نے مجھ سے کیا ہے، اُس کا بدلہ چکانے کے لیے دوسری زندگی چاہیے۔ سو وہ تو ناممکن ہے۔ کاش، کوئی غائبانہ طاقت اُسے نیک صلہ دے۔ وہ ہنستا رہے، وہ خوش رہے۔‘‘
اس ڈائری میں زندگی کے حسن سے لگاؤ کے ساتھ ساتھ اس کی تلخیوں کا بھی خاصا ذکر ہے۔ ناصرؔ نے ڈائری کے شروع میں اپنے ابتدائی حالات لکھے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس کا تعلق انبالے کے ایک کوشحال گھرانے سے تھا، لیکن قیامِ پاکستان کے بعد یہ خوشحالی، بدحالی میں تبدیل ہوگئی اور اُسے نہایت صبر آزما حالات سے گزرنا پڑا۔ ڈائری کے متعدد اندراجات سے اُس کے حالات کی تلخی کا اندازہ ہوتا ہے۔ مثلاً اپنی اٹھائیسویں سالگرہ کے دن اس نے لکھا: ’’میرا جنم دن۔ یتیمی، غریب الوطنی، بے زری، بے دردی۔‘‘ ان چار لفظوں میں اُس کی پوری زندگی سمٹ کر آگئی ہے۔
ناصرؔ کی زندگی کس طرح گزری، اس کا اندازہ اس قسم کے اندراجات سے ہوتا ہے:
1:۔ ’’دھوبی نے ادھار کپڑے دینے سے انکار کردیا۔ میلے کپڑے پہن کر دفتر امروز گیا…… دس روپے غزل کا معاوضہ دل پر پتھر رکھ کر وصول کیا۔‘‘
2:۔ ’’آج صرف ٹھنڈے پانی سے ناشتا کیا۔‘‘
3:۔ ’’پیر صاحب نے ایک دفعہ مجھے تیس روپے بطور ِقرض دیے جو ابھی تک ادا نہیں کرسکا، لیکن جلد ہی لوٹا دوں گا۔ یہ فکر ہر وقت دامن گیر ہے۔ آج کل میں بہت سے احباب، ہوٹل والوں اور پان والوں کا مقروض ہوں۔‘‘
ناصر کاظمی کو بجا طور پر احساس تھا کہ اس کی قدر نہیں ہوئی۔ لیکن اِس سے اُس کے اندر کوئی تلخی پیدا نہیں ہوئی۔ اُس نے صورتِ حال کو اپنی قسمت سمجھ کر قبول کرلیا۔ لکھتا ہے:’’مَیں پچھلی رات کا ایک جادو ہوں، چڑھتے سورج کی دنیا کو اپنے لفظوں سے مسحور کرتا ہوں۔ مفلسی میری قسمت ہے…… اب بارش ہو رہی ہے۔ پتے جھڑ رہے ہیں، تانگوں کے چلنے کا شور اور بارش کی بوندوں کا ناچ میرے کمرے کے سکوت کو توڑ رہا ہے۔ موم کی تین شمعیں روشن ہیں جن کی روشنی میں یہ الفاظ تحریر کر رہا ہوں۔ مرجاؤں گا، تو دنیا روئے گی۔ بیسیوں صدی کا سچا شاعر، مخلص منفرد شاعر، ناصرؔ کاظمی۔ رہتی دنیا تک حساس دلوں کو گرمائے گا۔ مَیں چاند میں سو رہا ہوں گا…… ہرن جو پانی میں چاند کے عکس کے ساتھ دوڑتا دوڑتا چل بسا۔ شاعر ایک زخمی ہرن، چشمے کی تلاش میں ایک عرصہ سے سرگرداں ہے۔‘‘
ناصرؔ کاظمی کی یہ پیش گوئی حرف بحرف سچی ثابت ہوئی۔ وہ خود موجود نہیں ہے، مگر اس کی شاعری حساس دلوں کو گرما رہی ہے۔
مفلسی اور دربدری کے باوجود ناصرؔ نے ایک بھرپور زندگی بسر کی۔ اس نے تلخیِ حالات کی وجہ سے ایک لمحے کے لیے بھی اپنے آپ کو بے دست و پا محسوس نہیں کیا۔ وہ زندگی کی تلخیوں کو زندگی کا لازمی حصہ سمجھ کر قبول کرتا رہا۔ اپنی ڈائری میں وہ ایک زندہ دل اور باحوصلہ انسان کی حیثیت سے سامنے آتا ہے۔ اُسے پڑھے لکھے اور مخلص دوستوں کی رفاقت حاصل تھی۔ اُن کے ساتھ وہ زیادہ سے زیادہ وقت گزارتا۔ ہوٹل میں بیٹھ کر ادبی گفتگو کرتا، اچھی اچھی فلمیں دیکھتا، مشاعروں اور ادبی محفلوں میں شرکت کرتا، لاہور کی سڑکوں پر آوارہ گردی کرتا اور باغوں میں حسنِ فطرت سے محوِ کلام کرتا۔
ناصرؔ کی زندہ دلی کے نمونے ڈائری میں جا بجا نظر آتے ہیں۔ مثلاً ایک مرتبہ اس نے ظہیر کاشمیری کے ساتھ سفر کیا۔ وقت گزارنے کے لیے اس نے ایک نظم لکھی اور ظہیر کاشمیری کو سنائی۔ اس کے چند شعر یہ ہیں:
دیوانے ظہیر کاشمیری
پروانے ظہیر کاشمیری
بولا یہ ایک سپاہی سن کر
چل تھانے ظہیر کاشمیری
نیلام کی آ رہی ہے آواز
آٹھ آنے ظہیر کاشمیری
ناصرؔ پان کا بہت شوقین تھا۔ لاہور میں اچھا پان نایاب تھا۔ وہ گزرے ہوئے زمانے کے حوالے سے پان کا تذکرہ ان الفاظ میں کرتا ہے: ’’پان تھا یا چراغ۔ شاہانِ مغلیہ کی آنکھ کا تارا۔ نواب واجد علی شاہ کا جگر گوشہ۔ ہیرا جیسی الائچی۔ چاندی جیسا کتھا، ستاروں جیسی چھالیہ۔ پان کیا جیسے پرگ پر تتلی بیٹھی ہو۔ منھ میں جاتے ہی تاشے کی طرح گھل جائے۔ چونے کا مزہ، چن رس یعنی چاند کا رس۔ سلیقے سے تراشی ہوئی الائچیاں جیسے اوشا (صبح کی دیوی) کے دانت، موتیوں کی کلیوں جیسے۔ گرمی کی دوپہر میں کھاؤ، تو سینہ ٹھنڈا ہوجائے۔ اندھیری رات میں سینہ روشن ہوجائے۔ جاڑے میں پسینہ آنے لگے۔‘‘
ناصرؔ نے ڈائری اپنے لیے لکھی ہے، اس لیے وہ خود کلامی کا سا انداز رکھتی ہے۔ اس میں اعلیٰ درجے کی ادبی تخلیق کا فن ملتا ہے، اور بعض جگہ تو ناصرؔ کی نثر نظم کی حدوں تک پہنچ جاتی ہے۔ وہ اپنے دوسرے بیٹے کی پیدائش کا ذکر کرتا ہے: ’’دیکھا کہ بانو کی گود میں چاند اترا ہے اور گھر کے صحن میں چاندنی بکھری ہوئی ہے۔‘‘
ڈائری میں بے شمار ادیبوں کا ذکر ہے اور ان کے بارے میں بہت سی نئی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ مثلاً سعادت حسن منٹو کی خواہش تھی کہ ناصرؔ کاظمی اس پر ایک نظم لکھ دے۔
جعفر طاہر کے بارے میں ناصرؔ نے یہ دلچسپ واقعہ بیان کیا ہے: ’’صبح آنکھ کھلی تو دیکھتا ہوں کہ جعفر طاہر میرے سرہانے کی کرسی پر بیٹھا رو رہا ہے۔ مَیں نے رونے کا سبب پوچھا، تو کہنے لگا، تمہارے ایک شعر پر رونا آگیا تھا۔ بقولِ انتظار حسین معلوم ہوا کہ حضرت باری باری سب کے شعروں پر رو چکے ہیں۔‘‘
یہ ڈائری ہر اس شخص کو پڑھنی چاہیے جو ناصرؔ ؔکاظمی کی شخصیت اور اس کی شاعری کے پس منظر سے واقف ہونا چاہتا ہے، اور موجودہ عہد کے ایک بڑے شاعر کو اس کے اصلی روپ میں دیکھنا چاہتا ہو۔(’’مزید خامہ بگوشیاں‘‘ از ’’مشفق خواجہ‘‘ مطبوعہ ’’مقتدرہ قومی زبان پاکستان، 2012ء‘‘، صفحہ نمبر 87 تا 91 انتخاب)




تبصرہ کیجئے