1,800 total views, 1 views today

’’خَلَقَ الْاِنْسَانَ عَلَّمَہُ الْبَیَان‘‘ اُس (اللہ) نے انسان کو قوتِ گویائی سے نواز کر پیدا کیا۔ (سورۂ رحمان)
اس میں کوئی دوسری رائے ہے نہیں کہ انسان کو ازل ہی سے قوتِ گویائی جیسی عظیم صفت سے متصف کیا گیا ہے۔ اور یہی قوتِ گویائی زبان میں ڈھل گئی، اور زبان الفاظ کی محتاج ہے اور الفاظ کچھ انفرادی آوازوں اور علامات کے مرہون منت ہیں۔ یہی انفرادی آوازیں اور علامات جو بولی اور لکھی جاتی ہیں، کسی زبان کے حروفِ تہجی کہلاتی ہیں۔
دوسری زبانوں کی طرح اُردو کے بھی اپنے حروف تہجی ہیں، جن کے متعلق کافی شکوک و شبہات اور مختلف رائیں موجود ہیں۔ اُردو حروف تہجی کے حوالے سے حال ہی میں ایک مستند لغت ’’فرہنگِ تلفظ‘‘ کا بہ غور مطالعہ کرنے کے بعد پتا چلا کہ اس لغت میں اُردو کے حروف تہجی کی کل تعداد ترپن (53) ہے۔ اس لغت کو مرتب کرنے والی نامی گرامی شخصیت شان الحق حقی صاحب ہیں۔
مذکورہ لغت کی چوتھی طباعت 2012ء میں ہوئی جس کے ناشر ڈاکٹر انوار احمد (صدر نشین) مقتدرہ قومی زبان ہیں۔ یہ ایک مستند لغت ہے جو مقتدرہ قومی زبان کے تحت شائع ہوا ہے۔ اس لغت میں اُردو کے حروفِ تہجی تعداد میں ترپن (53)کچھ اس طرح دیے گئے ہیں: ’’ا، آ، ب، بھ، پ، پھ، ت، تھ، ٹ، ٹھ، ث، ج، جھ، چ، چھ، ح، خ، د، دھ، ڈ، ڈھ، ذ، ر، ر ھ، ڑ، ڑھ، ز، ژ، س، ش، ص، ض، ط، ظ، ع، غ، ف، ق، ک،کھ، گ، گھ، ل، لھ، م، مھ، ن، نھ، و،ہ، ء، ی، ے۔‘‘
ان حروف تہجی میں باقی باؤن (52) حروف پر سب متفق ہیں، بلکہ اکثر لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اُردو کے کل حروف باؤن (52) ہیں۔ ان میں سے جو حرف شکوک و شبہات کی نذر ہورہا ہے وہ ہمزہ (ء) ہے، جس کے بارے میں اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ یہ (ء) اُردو میں حرف نہیں ہے، بلکہ علامت ہے اور بسا اوقات صرف بہ طورِ اضافت آتا ہے۔ مثلاً: ’’سرمایۂ اُردو، مجموعۂ کلام، تحفۂ خلوص‘‘ وغیرہ۔
اس حوالے سے سب سے مستند رائے اور تحقیق رشید حسن خان کی ہے۔ جن کے بارے میں ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی ان کی کتاب ’’عبارت کیسے لکھیے‘‘ کے دیباچہ میں لکھتے ہیں: ’’اُردو کے علمی و ادبی حلقوں خصوصاً دنیائے تحقیق و تدوین میں جناب رشید حسن خان (1925ء۔ 2006ء) کا نام محتاجِ تعارف نہیں۔ وہ درجۂ اوّل کے محقق و مدون تھے۔ انہوں نے کلاسیکی ادب کی بعض اہم کتابوں کو اتنی توجہ، محنت اور صحت و سلیقے سے مدوّن کیا کہ اُردو میں ان کی تدوینات کو معیار اور مثال بنایا جاسکتا ہے۔ ان کی دلچسپی کے خاص موضوعات میں املا، لغت اور قواعدِ زبان و بیان بھی شامل تھے۔ انہوں نے اعلیٰ درجات کے تنقیدی مقالات بھی لکھے، جن کے دو مجموعے تفہیم اور تلاش و تعبیرکے نام سے شائع ہوچکے ہیں۔‘‘
جناب رشید حسن خان اپنی مشہورِ زمانہ کتاب ’’عبارت کیسے لکھیے‘‘ کے صفحہ نمبر 90 پر ہمزہ (ء) کے متعلق لکھتے ہیں: ’’ہمزہ حرف بھی ہے اور علامت بھی۔ مثلاً ’’جلوۂ یار‘‘ میں اضافت کی علامت کے طور پر آیا ہے اور جاؤ، سائل، مسئلہ، بائبل، انشاء اللہ، علاؤ الدین، ثناء اللہ میں یہ حرف کے طور پر آیا ہے۔‘‘
وہ اُردو املا کے حوالے سے اپنی ایک مستند کتاب ’’اُردو املا‘‘ کے صفحے نمبر 347 پر یہی بات لکھتے ہیں اور مزید لکھتے ہیں: ’’یہ ویسی ہی بات ہے جیسے الف، واؤ، ی، کبھی حروفِ صحیح ہوتے ہیں اور کبھی حروفِ علت، مقصد یہ ہے کہ ہمزہ کی یہ دُہری شخصیت کچھ نئی چیز نہیں۔‘‘
وہ اس کتاب کے صفحہ نمبر 351 پر مزید لکھتے ہیں: ’’اردو میں اس (ء) کو حرف مانا جائے گا۔ اس لیے کہ اُردو میں مثلاً ’’لکھنؤ‘‘ کو نہ ’’لکھنو‘‘ لکھا جاسکتا ہے، نہ ’’لکھن او‘‘۔ اسی طرح علاؤ الدین کو علای الدین نہیں لکھا جاسکتا۔ نہ علاوالدین لکھا جائے گا۔ پھر یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ ہمزہ کوئی حرف نہیں۔ یہ بات مان لینا چاہیے کہ اُردو میں ہمزہ مستقل حرف کی حیثیت بھی رکھتا ہے، اور اسی حیثیت سے الفاظ کا جز ہوتا ہے۔ حروفِ تہجی کی پرانی ترتیب میں اس کو ’’ہ‘‘ کے بعد جگہ دی جاتی رہی ہے اور اس ترتیب کو بدلنے کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘
اس طرح انہوں نے اپنی ان دونوں کتب میں پوری تفصیل کے ساتھ بات کی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمزہ ایک مستقل حرف کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس سے جناب شان الحق حقی کے مرتب کردہ لغت ’’فرہنگِ تلفظ‘‘ میں موجود حروفِ تہجی کی تعداد (53) مع ہمزہ کو تقویت ملتی ہے۔
جناب شان الحق حقی مختلف علمی رسائل و جرائد کے مدیر رہے ہیں۔ نیز قومی محکمۂ اطلاعات، اشتہارات و مطبوعات و فلم سازی سے منسلک رہ چکے ہیں۔ اُردو لغت بورڈ (کراچی) اور مقتدرہ قومی زبان کے لیے گراں قدر علمی خدمات انجام دی ہیں۔ آپ کثیر اللسان محقق رہے ہیں اور اردو، عربی، فارسی، انگریزی، ہندی، سنسکرت، ترکی اور فرانسیسی زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔ جدید آکسفورڈ اُردو ڈکشنری آپ ہی کی مرتب کردہ ہے۔
حسبِ بالا دونوں مستند اور مستحکم حوالوں سے پتا چلتا ہے کہ ’’ہمزہ‘‘ اردو حروفِ تہجی کا ایک مستقل حرف ہے جس کے باعث اُردو حروفِ تہجی کی تعداد ترپن (53) بنتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ غالباً فرہنگ ِ تلفظ وہ واحد لغت ہے جس میں اُردو حروفِ تہجی مذکورہ تعداد میں دیے گئے ہیں۔
اُردو کے حروف تہجی کے حوالے سے تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ ان میں کئی دوسری زبانوں کے حروف شامل ہیں جن میں سرِفہرست عربی، فارسی اور ہندی ہیں۔ اس کی تفصیل حسب ذیل ہے:
٭ عربی سے مستعار لیے گئے بنیادی حروف:۔ـ ’’ا، آ، ب، ت، ث، ج، ح، خ، د، ذ، ر، ز، س، ش، ص، ض، ط، ظ، ع، غ، ف، ق، ک، ل، م، ن، و، ہ، ء، ی۔‘‘ یہ تعداد میں تیس ہیں۔ ’’آ‘‘ اُردو کا ایک مستقل حرف ہے، جو ’’ا‘‘ اور ’’ مد‘‘ سے مل کر مرکب حرف بن گیا ہے۔ زبان کے جدید اصولوں کے مطابق ’’الف‘‘ پہلے اور ’’آ‘‘ بعد میں آتا ہے۔
٭ اہلِ فارس کے وضع کردہ اضافی حروف:۔ اہلِ فارس نے ان درجِ بالا حروف میں پانچ نئے حروف کا اضافہ کیا ہے۔ جن کی شمولیت سے اُردو حروفِ تہجی کی تعداد پینتیس ہوگئی، یعنی 30 عربی اور 5 فارسی۔ فارسی حروف ’’پ، چ، ژ، ک، ے‘‘ ان پانچوں حروف میں ’’ژ‘‘ کے علاوہ باقی چار حروف ہندی میں بھی مستعمل ہیں۔ ’’ژ‘‘ فارسی کا خاص حرف ہے، جو فارسی میں بھی چند ہی الفاظ میں استعمال ہوا ہے۔
٭ اہلِ ہند کے وضع کردہ اضافی حروف:۔ درجِ بالا پینتیس حروفِ ہجا میں اہلِ ہند نے تین کا اضافہ کیا: ’’ٹ، ڈ، ڑ۔‘‘ اس اضافے کے بعد اُردو حروفِ تہجی کی تعداد بڑھ کر اَڑتیس (38) ہوگئی۔ یہ درشت آوازیں مقامی زبانوں کا حصہ تھیں، جن کی شمولیت نے اُردو زبان کو نئی آوازوں کی ادائیگی کی صلاحیت بخشی۔ اس ضروری اضافے کے بعد بھی بہت سارے الفاظ ایسے تھے، جن کی ادائیگی درجِ بالا اڑتیس (38) حروف سے ممکن نہیں تھی۔ لہٰذا اس کمی کو پورا کرنے کے لیے دس حروف وضع کیے گئے: ’’بھ، پھ، تھ، ٹھ، جھ، چھ، دھ، ڈھ، کھ، گھ۔‘‘ ان حروف میں سے ہر ایک الفاظ کے آغاز میں آسکتا ہے۔ مثلاً: بھول، پھول، تھالی، ٹھیک، جھولا، چھرا، دھوپ، ڈھیر، کچھ، گھم۔ اس کے علاوہ یہ حروف لفظ کے درمیان میں بھی آسکتے ہیں جیسے: دوبھر، بپھر، گتھم، گٹھڑی، مجھے، اچھا، آدھا، گڑھا، دیکھنا، بگھی۔ بعض حروف لفظ کے آخر میں آسکتے ہیں۔ مثلاً: لابھ، ہاتھ، کاٹھ، چھاچھ، دودھ، لاکھ، میگھ۔ ان حروف کو مرکب حروف کہتے ہیں۔ ان مرکب حروف کے علاوہ پانچ مرکب حروف مزید وضع کیے گئے جو الفاظ کے درمیان یا آخر میں تو آتے ہیں، لیکن ان کے آغاز میں کبھی استعمال نہیں ہوتے: رہ، ڑھ، لھ، مھ، نھ۔ مثلاً: تیرھواں، آڑھت، گڑھ، کولھو، کمھار، ننھا، منھ۔ یہ کل پندرہ حروف ہیں جو جدید تحقیق کے مطابق مرکب حروف کہلاتے ہیں جو اُردو کے حروفِ تہجی میں شامل کرلیے گئے ہیں۔ اس طرح اُردو حروفِ تہجی کی کل تعداد ترپن (53) ہوگئی ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق اُردو حروفِ تہجی میں الف پہلے اور ’’آ‘‘ بعد میں آتا ہے۔ کیوں کہ الف ایک جب کہ (الف + الف = آ) شمار کیا جاتا ہے۔ اسی طرح ہائے مخلوط (ھ) اُردو میں کبھی لفظ کے شروع میں نہیں آتی۔ یہ اُردو کا باقاعدہ حرف نہیں ہے۔
جس طرح زندہ زبان بولنے کا تقاضا کرتی ہے، پڑھنے اور لکھنے کا بھی تقاضا کرتی ہے۔ ورنہ وہ زبان صرف بولی تک محدود ہوکر رہ جاتی ہے۔ اس لیے اُردو زبان زندہ ہونے ناتے بولنے اور پڑھنے کے ساتھ ساتھ لکھنے کا تقاضا بھی کرتی ہے۔ لہٰذا اس کے لکھنے کے اپنے اصول اور قواعد و ضوابط ہیں۔ انگریزی زبان کے حروفِ تہجی کی طرح لکھنے کے حوالے سے اُردو زبان کے حروفِ تہجی بھی چار لکیروں میں لکھنے کا تقاضا کرتے ہیں، اور ان کو بھی تین حصوں میں تقسیم کرکے صحیح لکھنے کی روش ڈالی جاسکتی ہے۔ اس کی تفصیلات کچھ یوں ہیں:
٭ فلکی حروف:۔ جو اوپر والی تین لکیروں میں لکھے جاتے ہیں۔ ان میں یہ حروف شامل ہیں: ’’ا، آ، ط، ظ، ک، گ۔‘‘
٭ فرشی حروف:۔ جو درمیان والی دو لکیروں میں لکھے جاتے ہیں۔ ان میں یہ حروف شامل ہیں: ’’ب، پ، ت، ٹ، چ، د، ڈ، ذ، ر، ڑ، ز، ژ، ف، و، ہ، ء، ے۔‘‘
٭ اصلی حروف:۔ جو نیچے والی تین لکیروں میں لکھے جاتے ہیں۔ ان میں یہ حروف شامل ہیں: ’’ج، چ، ح، خ، س، ش، ص، ض، ع، غ، ق، ل، م، ن، ی۔‘‘
اگر ان حروف کی لکھائی کی مشق اس طرح کی جائے، یا کرائی جائے، تو اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ خاص کر ابتدائی جماعتوں میں یہ مشق خاصی کار گر ثابت ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ حروف ابتدائی جماعتوں میں بچوں کو پڑھانے اور سکھانے کی خاطر ان کو مختلف انداز میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، اور چند ماہ کی مسلسل محنت اور مشق کے باعث ان کو آسانی سے سیکھ کر یا سِکھا کر آنے والی جماعتوں میں اردو میں اچھی کارگزاری یا کارکردگی کا مظاہرہ کیا جاسکتا ہے۔
مختلف انداز میں اُردو کے حروفِ تہجی کی تقسیم کی جاسکتی ہے۔ مثلاً: ’’ب‘‘ خاندان کے حروف ’’ج‘‘ خاندان کے حروف، ’’د‘‘ خاندان کے حروف، ’’ر‘‘ خاندان کے حروف، انفرادی حروف (جو الگ الگ لکھے جاتے ہیں)، شرارتی حروف، نقطے والے حروف، ’’ط‘‘ والے حروف، فلکی، فرشی، اصلی حروف وغیرہ۔
کسی بھی زبان کی بنیادی علامات اور پہچان اُس زبان کے حروف تہجی ہی ہوتی ہے۔ اس لیے اگر پہچان، پڑھائی اور لکھائی کے حوالے سے ان پر ابتدائی جماعتوں میں بھر پور توجہ دی جائے، تو وہ زبان سیکھنا آسان ہوجاتا ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے مدارس اور سکولوں میں اس طرف خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
(نوٹ، مزید رہنمائی کے لیے راقم کے ساتھ 03460973545 پر رابطہ کیجیے۔)

………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے