749 total views, 1 views today

سعادت حسن منٹو اپنے افسانوں کے حوالہ سے ایک جگہ رقم طراز ہیں: ’’اگر آپ اِن افسانوں کو برداشت نہیں کرسکتے، تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ زمانہ ناقابلِ برداشت ہے…… میں تہذیب و تمدن کی اور سوسائٹی کی چولی کیا اُتاروں گا جو ہے ہی ننگی……!! میں اِسے کپڑے پہنانے کی کوشش بھی نہیں کرتا، اس لئے کہ یہ میرا کام نہیں، درزیوں کا ہے……‘‘
ڈاکٹر ہمدرد یوسف زیٔ کے پختو افسانوں کے مجموعہ ’’چیندرو‘‘ میں ایک چھوٹے سے افسانہ’’پرتوگ‘‘ کو پڑھنے کے بعد منٹو کا محولہ بالا اقتباس رہ رہ کر یاد آ یا۔’’پرتوگ‘‘ پڑھنے کے بعد میں نے ڈاکٹر صاحب کو ایک برقی پیغام کے ذریعے مطلع کیا کہ مجھے آگے پڑھنے کی ہمت نہیں ہو رہی۔ میری زندگی چوں کہ محرومیوں سے عبارت ہے اور اس شعر کے مصداق ہے کہ
دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنے قریب سے
چہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سے
اس لئے بخدا، ذکر شدہ افسانہ پڑھنے کے بعد میری آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ ڈاکٹر صاحب نے بھی بغیر کسی لگی لپٹی کے جواباً برقی پیغام میں ان الفاظ کی شکل میں بجلی گرا دی کہ ’’ذکر شدہ افسانہ ایک حقیقی واقعہ ہے جسے افسانہ کے سانچا میں ڈھال کر ’چیندرو‘ کا حصہ بنایا گیا ہے۔‘‘

اگر آپ اِن افسانوں کو برداشت نہیں کرسکتے، تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ زمانہ ناقابلِ برداشت ہے…… میں تہذیب و تمدن کی اور سوسائٹی کی چولی کیا اُتاروں گا جو ہے ہی ننگی……!! میں اِسے کپڑے پہنانے کی کوشش بھی نہیں کرتا، اس لئے کہ یہ میرا کام نہیں، درزیوں کا ہے (سعادت حسن منٹو)

اگر آپ اِن افسانوں کو برداشت نہیں کرسکتے، تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ زمانہ ناقابلِ برداشت ہے…… میں تہذیب و تمدن کی اور سوسائٹی کی چولی کیا اُتاروں گا جو ہے ہی ننگی……!! میں اِسے کپڑے پہنانے کی کوشش بھی نہیں کرتا، اس لئے کہ یہ میرا کام نہیں، درزیوں کا ہے (سعادت حسن منٹو)

چیندرو کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ سعادت حسن منٹو اور ڈاکٹر ہمدرد یوسف زیٔ میں ایک قدر مشترک ہے۔ دونوں درزی نہیں ہیں۔ باقی ’’عقلمند را اشارہ کافی است۔‘‘
آج کی نشست ڈاکٹر ہمدرد یوسف زیٔ کے افسانوں اور افسانچوں کے مجموعہ ’’چیندرو‘‘ پر اپنے جذبات و احساسات کو الفاظ کا جامہ پہنانے کے حوالے سے مختص ہے۔ میں اسے تبصرہ ہرگز نہیں کہہ سکتا۔ کیوں کہ تبصرہ بڑی ٹیکنیکل شے ہے۔ بس ایک بے ربط سی تحریر ڈاکٹر صاحب کی کاوشوں کے عوض سطح قرطاس پر اتاری جو اب نذرِ قارئین ہے۔
آمدم برسر مطلب، وثوق کے ساتھ کہتا ہوں کہ ذکرہ شدہ مجموعہ میں کئی افسانے اور افسانچے اس قابل ہیں کہ جن پر دفتر کے دفتر سیاہ کئے جاسکتے ہیں، مگر سرِدست جتنا بن سکتا ہے، آج کی نشست ’’چیندرو‘‘ کے محاسن و معائب پر بحث کے لئے وقف ہے۔




کتاب میں شامل افسانہ ’’چیندرو‘‘ کے عنوان سے ٹائٹل کو ڈیزائن کیا گیا ہے جس پر چھے سات سالہ ایک چھوٹی سی بچی کو ’’چیندرو‘‘ کھیلتے ہوئے مخصوص انداز میں دکھایا گیا ہے۔

کتاب میں شامل افسانہ ’’چیندرو‘‘ کے عنوان سے ٹائٹل کو ڈیزائن کیا گیا ہے جس پر چھے سات سالہ ایک چھوٹی سی بچی کو ’’چیندرو‘‘ کھیلتے ہوئے مخصوص انداز میں دکھایا گیا ہے۔

’’چیندرو‘‘ جسے کتاب پر تبصرہ کرنے والی ڈاکٹر رامش فاطمہ ’’اسٹاپو‘‘ اور ’’اشٹاپو‘‘ بھی رقم کرتی ہیں، ہم مینگوروال اسے ’’چیندخ‘‘ بولتے چلے آ رہے ہیں۔ یہ لڑکیوں کا کھیل ہے، مگر ہمارے بچپن کے دنوں (سنہ پچاسی چھیاسی) میں چھوٹے عمر کے لڑکے بالے بھی اسے کھیلتے ہوئے دیکھے جاتے تھے۔ کتاب میں شامل افسانہ ’’چیندرو‘‘ کے عنوان سے ٹائٹل کو ڈیزائن کیا گیا ہے جس پر چھے سات سالہ ایک چھوٹی سی بچی کو ’’چیندرو‘‘ کھیلتے ہوئے مخصوص انداز میں دکھایا گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے مذکورہ افسانہ کی کردار نگاری کمال انداز سے کی ہے۔ مشتے نمونہ از خروارے کے مصداق ’’احمد گل کاکا‘‘ کے کردار کو بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب رقم طراز ہیں: ’’صدر خان سرہ بہ احمد گل کاکا ھم ناست وو۔ نرے نروچکے شان کاکا وۂ۔ چلم بہ ئی تازہ کولو۔ ھغہ چی بہ چلم کی پوک ورکڑو نو دَ اوبو دَ خوڑ خوڑ آواز بہ لا غلے نہ وۂ چی دَ احمد گل کاکا دَ ٹوخی ناترسہ اواز بہ پیل شو، تابہ وی چی اوس بہ اینہ سِگی ہر سہ بہر را اوغورزوی۔‘‘
اسی افسانہ میں ماں کے کردار کو روائتی انداز میں کچھ اس طرح پیش کرتے ہیں: ’’زہ بہ چی کور تہ راغلم ادی بہ راتہ غصہ وہ، وئیل بہ ئی ’تنکے نھل شے د جینکو سرہ لوبے مہ کوہ، لکئی بہ دی اوشی۔‘ ما بہ زر پہ لمنہ لاس تیر کڑو، چی چرتہ لکئی خو بہ می نہ وی شوی؟‘‘
اس طرح ڈاکٹر صاحب نے’’زلزلہ‘‘ میں پختونوں کی روائتی ضعیف الاعتقادی کو کمال انداز سے بیان کیا ہے کہ یہ زلزلے بس ہمارے گناہوں کا نتیجہ ہیں اور بعد میں بڑی ڈھٹائی سے مروجہ سائنسی علوم پر چار حرف بھیج کر بری الذمہ ہوجاتے ہیں۔
’’ستا پہ نوم‘‘ میں شعرا کی طرف سے مفت اپنی کتب کی تقسیم اور پھر ان کے حشر کی کہانی پڑھتے سمے قاری کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ جاتی ہے۔
’’تودہ سیکہ‘‘ پوری کتاب میں واحد افسانہ ہے جسے بلاشبہ عصر حاضر کے پختونوں کا نوحہ گردانا جاسکتا ہے۔جس طرح سوات میں اولاً ایک خونی کھیل کھیلا گیا اور ثانیاً اہلِ سوات کو اپنے ہی ملک کے اندر لاکھوں کے حساب سے ہجرت پر مجبور کیا گیا اور محض ڈالروں کی خاطر اہلِ سوات کو قربانی کا بکرا بنایا گیا، تو اس تمام تر صورتحال کا نقشہ ڈاکٹر صاحب نے چار صفحات پر مشتمل ایک چھوٹے سے افسانے میں کھینچ کر واقعی دریا کو کوزے میں بند کرنے کی سعی فرمائی ہے۔
ایک اور افسانہ ’’د اُور پولئی‘‘ افغان سرزمین کا نوحہ ہے۔ اس طرح ’’او سندرہ مڑہ شوہ‘‘ ایک بے بس و لاچار فنکارہ کے حالات زندگی پر مشتمل ہے اور ’’قرض‘‘ یہی کوئی دس بارہ سطور پر مشتمل افسانچہ قاری کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
میں اس بے ربط سی تحریر میں اپنے دوستوں فیاض خان اور عصمت علی اخوند کی خدمات کا اعتراف نہ کروں، تو زیادتی ہوگی۔ ان کرم فرماؤں کے ادارے ’’خپل وطن ڈاٹ کام‘‘ کے ایک پروگرام ’’پہ کتاب دوڑہ‘‘ میں مجھے ’’چیندرو‘‘ تحفتاً ملی اور تمام تر مصروفیت کے باوجود ایک ہفتہ کے اندر مزے لے لے کر پڑھ بھی ڈالی۔ ’’پہ کتاب دوڑہ‘‘ کا سلسلہ چلانے میں اگر ہم پختونوں نے ذکر شدہ دوستوں کا ہاتھ نہیں بٹایا، تو نہ صرف کتاب گرد کے نیچے رہ کر کرم خوردہ ہوجائے گی بلکہ ہم باقی ماندہ قوموں سے آج کی تیز ترین ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے اور پھر خدا نہ کرے کہ روغانیؔ بابا کے اس شعر کے مصداق اپنے آپ کو کوسنے لگیں کہ
قافلے ورستو ورستو چاتہ گوریٔ
زمونگ نہ نور خلق ورستی نشتہ دے

اس موقعہ پر اگر فیاض خان اور عصمت علی اخوند کی خدمات کا اعتراف نہ کیا جائے، تو زیادتی ہوگی۔ ان کرم فرماؤں کے ادارے ’’خپل وطن ڈاٹ کام‘‘ کے ایک پروگرام ’’پہ کتاب دوڑہ‘‘ میں مجھے ’’چیندرو‘‘ تحفتاً ملی اور تمام تر مصروفیت کے باوجود ایک ہفتہ کے اندر مزے لے لے کر پڑھ بھی ڈالی۔ ’’پہ کتاب دوڑہ‘‘ کا سلسلہ چلانے میں اگر ہم پختونوں نے ذکر شدہ دوستوں کا ہاتھ نہیں بٹایا، تو نہ صرف کتاب گرد کے نیچے رہ کر کرم خوردہ ہوجائے گی بلکہ ہم باقی ماندہ قوموں سے آج کی تیز ترین ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے

اس موقعہ پر اگر فیاض خان اور عصمت علی اخوند کی خدمات کا اعتراف نہ کیا جائے، تو زیادتی ہوگی۔ ان کرم فرماؤں کے ادارے ’’خپل وطن ڈاٹ کام‘‘ کے ایک پروگرام ’’پہ کتاب دوڑہ‘‘ میں مجھے ’’چیندرو‘‘ تحفتاً ملی اور تمام تر مصروفیت کے باوجود ایک ہفتہ کے اندر مزے لے لے کر پڑھ بھی ڈالی۔ ’’پہ کتاب دوڑہ‘‘ کا سلسلہ چلانے میں اگر ہم پختونوں نے ذکر شدہ دوستوں کا ہاتھ نہیں بٹایا، تو نہ صرف کتاب گرد کے نیچے رہ کر کرم خوردہ ہوجائے گی بلکہ ہم باقی ماندہ قوموں سے آج کی تیز ترین ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے

جاتے جاتے ’’چیندرو‘‘ سے ڈاکٹر ہمدرد یوسف زیٔ کے ایک افسانچہ ’’عزت‘‘ کا ترجمہ ملاحظہ ہو:

اس نے اپنے آپ کو مکمل طور پر سنبھالنے کے بعد ایک ہزار روپیہ کا نوٹ اٹھالیا، جناح صاحب کی شیروانی کے ساتھ اس پر انگوٹھا رگڑ دیا اور اس عبارت کے پڑھنے کے ساتھ کہ ’’حصولِ رزقِ حلال عین عبادت ہے‘‘ ایک معنی خیز مسکراہٹ اس کے لبوں پر بکھر گئی اور وہ اُس شہر کے بڑے تھری اسٹار ہوٹل سے نکل آئی۔ نو سو روپیہ کے عوض ماں کے لئے دوا اور اشیائے خور و نوش خریدنے کے بعد گھر کی طرف روانہ ہوئی۔ بیوہ ماں نے اپنی بیٹی اور دوا کو دیکھتے ہی دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے: ’’اے پروردگار، تو ہماری جمال پری کی ’عزت‘ کی حفاظت فرما……‘‘ جمال پری نے آہِ سرد بھری اور دفعتاً اُسے اپنی ’’عزت‘‘ یاد آئی، جو چند لمحے پہلے وہ اُس تھری اسٹار ہوٹل میں چھوڑ کر آئی تھی۔




تبصرہ کیجئے