1,247 total views, 1 views today

ہمارا تعلق چاہے اردو ادب سے ہو، یا پھر تاریخ سے۔ اکثر ’’نو رتن‘‘ کی اصطلاح ہمارے سامنے آتی رہتی ہے۔ اس حوالہ سے کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ کون تھے اور دربار میں ان کی حیثیت کیا تھی؟ اس حوالہ سے آزاد دائرۃ المعارف کے مطابق: ’’اردو ادب کی تاریخ میں بکرما جیت اور اکبر اعظم کے نورتن ایک شناخت رکھتے ہیں۔‘‘
فرہنگِ آصفیہ کے مطابق اس کے معنی کچھ یوں ہیں: ’’نو جواہر، نو طرح کا جواہر جیسے ہیرا، نیلم، مانک، لہسنیا، پکھراج، گومد، موتی مونگا یعنی الماس، لعلِ گوہر، مرجاں، زمرد اور فیروزہ وغیرہ۔‘‘
فرہنگ آصفیہ ہی میں اس کے دوسرے معنی یوں درج ہیں: ’’ایک قسم جڑاؤ زیور کا نام جو بازوؤں پر پہنا جاتا ہے اور اس میں جواہر ہوتے ہیں۔ بازو بند۔‘‘
ذکر شدہ فرہنگ میں تیسرے معنی ’’نو عقلمند آدمیوں کی انجمن‘‘ کے ہیں۔ یعنی نو دانش مندوں کی کونسل یا جماعت جیسے اکبری نو رتن۔
چوتھے معنی کچھ یوں درج ہیں: ’’ایک قسم کی عمدہ چٹنی اور نیز ایک قسم کا سالن جس میں نو ترکاریاں ڈال کر پکاتے ہیں۔‘‘
چوں کہ ہمیں یہاں دیگر معنوں کو چھوڑ کر ’’اکبری نو رتن‘‘ سے غرض ہے۔ اس لیے سب سے پہلے پروفیسر ایم نذیر احمد تشنہ کی تصنیف ’’نادراتِ اردو‘‘ پر نظر ڈالتے ہیں۔ اس کے صفحہ 45 پر رقم ہے: ’’اکبری نو رتن، اکبر بادشاہ کے نو جواہر یعنی نو صاحبِ کمال وزیر:
پہلا، مرزا عبدالرحیم خانِ خاناں پسر بیرم خان ترکمان۔
دوسرا، خانِ اعظم مرزا عزیز کوکل تاش ہفت ہزاری۔
تیسرا، ابوالفتح گیلانی۔
چوتھا، ملک الشعرا علامہ ابوالفیض فیضی۔
پانچواں، موتمن الدولہ ابولفضل۔
چھٹا، حکیم ہمام۔
ساتواں، راجا ٹوڈرمل صدر دیوان۔
آٹھواں، راجا بیربل سہ ہزاری۔
نواں اور آخری، راجا مان سنگھ پنج ہزاری۔
اب آتے ہیں ’’بکر ماجیت‘‘ کی طرف، آزاد دائرۃ المعارف کے مطابق :’’مہاراجا بکرما جیت نے ہندی کیلنڈر کا اجرا کیا تھا جسے ’’بکرمی تقویم‘‘ کہا جاتا ہے جس کا پہلا مہینا چیت اور آخری مہینا پھاگن ہوتا ہے۔ چندر گپت بکرما جیت کا عہدِ حکومت375ء تا 414ء ہے۔وہ گپتا خاندان کے نامور حکمران ہیں۔ان کے نورتن بھی مشہور ہیں۔
بکرما جیت کے نورتن کے نام درجِ ذیل ہیں:
پہلا، دھنونتری۔
دوسرا، کشپنک۔
تیسرا، امر سنہا۔
چوتھا، شنکو۔
پانچواں، ویتال بھٹ۔
چھٹا، گھٹکر پر۔
ساتواں، کالی داس۔
آٹھواں، ورارچی۔
اور نواں، وارہہ مہر۔
کہا جاتا ہے کہ ذکر شدہ دونوں بادشاہوں کے ’’نو رتن‘‘ میں سے ہر ایک اپنی جگہ باکمال ہوا کرتا تھا۔ دونوں بادشاہوں کی ذکر شدہ شخصیات، بادشاہ کے جلوت و خلوت کے شریک اور مشیرِ کار ہوا کرتے تھے۔

………………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے