752 total views, 2 views today

نہیں معلوم کیا انجام ہو؟ خدا جانے تقدیر کیا دکھائے؟ معاملہ کیا صورت اختیار کرتا ہے؟ اس کہاوت کے وجود میں آنے کا سبب یہ حکایت بیان کی جاتی ہے:
’’ایک مرتبہ ایک کمھار اور گھسیارے نے ساجھے میں ایک اونٹ خریدا۔ گھسیارے نے اونٹ کی پیٹھ کے ایک طرف گھاس لادی اور کمھار نے دوسری جانب اپنے مٹی کے برتن لادے۔ وہ دونوں اونٹ کے ساتھ اپنا اپنا مال فروخت کرنے کے لیے شہر کے بازار کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں اونٹ گردن اُٹھا اُٹھا کر گھسیارے کی گھاس کھاتا جا رہا تھا۔ اونٹ کو گھاس کھاتا دیکھ کر کمھار ہنسنے لگا۔ کمھار نے سوچا، عجیب آدمی ہے! میرے نقصان پر ہنس رہا ہے۔ اس نے کمھار سے کہا: ’’کاہے ہنسے کمھار کے پوت، کونے کروٹ بیٹھے اونٹ۔‘‘ یعنی اے کمھار کے بیٹے، تو میرے نقصان پر ہنس رہا ہے، دیکھیے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ آخرِکار جس وقت وہ دونوں اونٹ کے ساتھ شہر کے بازار پہنچے، تو اونٹ اُسی کروٹ بیٹھ گیا جس طرف کمھار کے برتن لدے تھے۔ بہت سارے برتن چور چور ہوگئے۔
(ڈاکٹر شریف احمد قریشی کی تصنیف ’’کہاوتیں اور ان کا حکایتی و تلمیحی پس منظر‘‘ مطبوعہ ’’دارلنور، لاہور‘‘ اشاعت 2012ء، صفحہ 170 اور 171 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے