620 total views, 2 views today

راز دار کی دشمنی بہت نقصان پہنچاتی ہے۔ یہ کہاوت اُس محل پر بولتے ہیں جب کوئی رازدار کچھ فساد اٹھائے۔ یہ کہاوت اُس وقت بھی بولی جاتی ہے جب گھر والوں ہی میں پھوٹ پڑجائے اور لاکھ احتیاط برتنے کے باوجود فساد برپا ہوجائے اور دشمن کو اُس نفاق سے فائدہ پہنچے۔ اس کہاوت میں رام چندر جی اور لنکا کے راجا راون کے بھائی وِبھیشن کے قصہ کی طرف تلمیح ہے۔
جب رام چندر جی اپنے بھائی لچھمن اور اپنی بیوی سیتا کے ساتھ جنگل میں بن باس کی مدت گزار رہے تھے۔ اُسی وقت لنکا کا راجا راون، سیتا جی کو اکیلا پا کر اُٹھا لے گیا۔ رام چندر جی کو جب معلوم ہوا، تو انہوں نے بندروں کی فوج کی مدد سے لنکا پر چڑھائی کردی، تاکہ سیتا جی کو راون کی قید سے چھڑا سکیں۔ زمانۂ جنگ میں راون کے بھائی وِبھیشن سے رام چندر جی کو بہت مدد ملی۔ وِبھیشن کو یہ وردان ملا ہوا تھا کہ اس سے کوئی غلط کام سرزد نہ ہوگا۔ وہ ہمیشہ ایمان دار تھا اور راکھششوں کا مخالف رہا تھا۔ یہی سبب تھا کہ اس سے اور راون سے ہمیشہ جھگڑا رہتا تھا۔ راون نے اپنی طاقت کے زور سے وِبھیشن کو حکومت کی تمام مراعات سے محروم کر دیا تھا۔ وِبھیشن اُڑ کر کیلاش پہاڑ پر گیا اور شیوجی کی ہدایت پر واپس آکر اس نے رام چندر جی کا ساتھ دیا۔ اس نے رام چندر جی کو لنکا کے وہ تمام راز بتائے جن کے بغیر لنکا کو فتح کرنا دشوار تھا۔ راون کی شکست اور موت کے بعد لنکا کی حکومت رام چندر جی نے وِبھیشن کے حوالے کر دی تھی۔ اس سے یہ مثل مشہور ہوئی کہ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس کہاوت کا تعلق ہنومان سے ہے جو راون کا بھانجا اور رام چندر جی کی فوج کا سپہ سالار تھا۔ کیوں کہ اس نے رام چندر جی کو لنکا کے اُن بہت سے بھیدوں سے واقفیت کروائی تھی جن کے بغیر لنکا کو فتح کرنا ناممکن تھا۔ اس کے علاوہ اس نے رام چندر جی کی خبریں سیتا جی کو اور سیتا جی کی خبریں رام چندر جی کو برابر پہنچائی تھیں۔
(ڈاکٹر شریف احمد قریشی کی تصنیف ’’کہاوتیں اور ان کا حکایتی و تلمیحی پس منظر‘‘ مطبوعہ ’’دارلنور، لاہور‘‘ اشاعت 2012ء، صفحہ 245 اور 246 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے