66 total views, 1 views today

کچھ لوگ اپنے بیٹے یا بیٹی کا تعارف کراتے ہیں، تو “گاڑھی اردو” بولنے کے شوق میں کہتے ہیں کہ “یہ میری صاحب زادی ہیں” یا “یہ میرے صاحب زادے ہیں۔” ان کے خیال میں اس سے مخاطب پر ذرا رعب پڑتا ہے کہ انہیں بہت ثقیل اردو بھی آتی ہے۔ لیکن درحقیقت کوئی صاحب جب اپنی اولاد کو صاحب زادہ یا صاحب زادی کہتے ہیں، تو گویا اپنی اردو دانی کے بارے میں شبہات پیدا کردیتے ہیں۔ کیوں کہ صاحب زادہ کا مطلب ہے “صاحب کا بیٹا”، “صاحب کی اولاد۔” اس کا ایک مطلب تو یہ ہوا کہ وہ حضرت خود کو صاحب کہہ رہے ہیں۔ یہ بڑی بے ہودہ بات ہے۔ دوسرے معنی بہت برے ہیں کیوں کہ صاحب کا مطلب مالک یا آقا بھی ہے۔ اپنی اولاد کو صاحب کی یا مالک کی اولاد بتانا بھی بہت بے ہودہ بات ہے۔
عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب تو لفظ “صاحب” کو “انگریز” کے معنوں میں برتتے تھے۔ ایک بار اپنے بیٹے کے ساتھ کہیں جا رہے تھے، تو کسی نے پوچھا: “یہ آپ کا صاحب زادہ ہے؟” کہنے لگے: “نہیں جناب، صاحب زادہ نہیں ہے۔ میرا بیٹا ہے۔”
شاہ صاحب تو خیر اس معاملے میں بہت سخت تھے، لیکن دوسروں کی اولاد کو تو “آپ کا صاحب زادہ” یا “ان کی صاحب زادی” کہا جاسکتا ہے، کہ اس سے مخاطب کے لیے احترام جھلکتا ہے۔ البتہ اپنی اولاد کو صاحب زادہ کہنا گویا خود اپنا احترام کرنا ہے۔ واہ صاحب! کیا بات ہے!
(ماہنامہ ’’اخبارِ اُردو‘‘ میں پروفیسر ڈاکٹر رؤف پاریکھ کے شائع شدہ تحقیقی مقالہ ’’صحتِ زباں‘‘، صفحہ 8 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے