93 total views, 2 views today

علمِ بیان وہ علم ہے جسے مستحضر رکھنے سے ایک مضمون کو کئی طریقوں سے بیان کیا جاسکتا ہے، یعنی علمِ بیان کی غرض ایک ہی معنی کو مختلف طریقوں سے ادا کرنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کلام کے سمجھنے میں غلطی کا امکان کم اور معانی میں خوب صورتی پیدا ہو۔ مثلاً کسی شخص کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ بڑا سخی ہے، بڑا کریم ہے، بڑا جواد ہے، تو ان عبارتوں میں مترادفات تو موجود ہیں، لیکن علم بیان کی رو سے کوئی خوبی موجود نہیں ہے۔ بیان کی رو سے یوں کہیں گے کہ وہ اپنے زمانے کا حاتم طائی ہے، اس کی جود و سخاکی دھوم ہے، وغیرہ۔ اس طرح اپنے زمانے کے حاتم طائی کہنے سے مطلب زیادہ واضح ہوجاتا ہے۔
علمِ بیان کا موضوع لفظ ہے اور لفظ دو طرح سے استعمال ہوتے ہیں۔
ایک حقیقی معنوں میں، یعنی لفظ کو ان معنوں میں استعمال کرنا جن کے لیے وہ وضع کیا گیا ہو، مثلاً شیر کہیں اور اس سے وہی درندہ مراد لیں۔
دوسرا مجازی معنوں میں، یعنی لفظ سے غیر حقیقی معنی مراد لینا۔ مثلاً شیر کہیں اور اس سے ’’شجاع مرد‘‘ مراد لیں۔ یہ مجازی معنی مراد ہوں گے۔
کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے
حقیقی معنی موضوع لہُ اور غیر حقیقی یعنی مجازی معنی غیر موضوع لہُ کہلاتے ہیں۔ مجازی اور حقیقی معنوں میں کچھ نہ کچھ تعلق ضرور پایا جاتا ہے، اور مجازی معنی کے لیے کلام میں کوئی نہ کوئی قرینہ بھی ضرور موجود ہوتا ہے۔ مثلاً اوپر مصرع میں ’’شیر‘‘ کا لفظ اپنے مجازی معنوں میں استعمال ہوا ہے اور رَن (میدانِ جنگ) کا قرینہ موجود ہے۔ یعنی ایسا شیر جو میدانِ جنگ میں آنے والا ہے، اگر قرینہ پایا جائے تو مجاز کہلائے گا اور اگر ایسا قرینہ نہیں ہے، تو کنایہ کہیں گے۔ مجاز کی ایک قسم استعارہ ہے اور استعارہ کی بنا تشبیہ پر ہے۔ مجاز کو کنائے کے ساتھ وہ نسبت ہے جو مفرد کو مرکب کے ساتھ ہوتی ہے۔ کیوں کہ مجاز میں ارادۂ لازم کا ارادۂ ملزوم کے ساتھ شرط ہے۔ کنائے میں دونوں کا ارادہ معتبر ہے۔ پس مجاز مثلِ جز کے ہے اور کنایہ مثلِ کل کے۔ کیوں کہ مجاز میں صرف لازم مراد ہوتا ہے اور کنائے میں دونوں کا مقصود ہونا جائز ہے۔ ہر جز اپنے کل پر مقدم ہوتا ہے۔ اس لیے علمِ بیان میں مجاز کو کنائے سے پہلے بیان کرتے ہیں۔ مجاز میں معنی حقیقی اور معنی مجازی کے درمیان علاقے کا ہونا ضروری ہے۔ پس اگر دونوں میں تشبیہ کا علاقہ ہے، تو ایسے مجاز کو استعارہ کہتے ہیں۔ اگر تشبیہ کے سوا کوئی دوسرا علاقہ ہے، تو اسے مجازِ مُرسل بولتے ہیں۔ علمِ بیان کا مقصد اصلی صِرف دو چیزیں ہیں، مجاز اور کنایہ۔ مگر استعارے کے سمجھنے کے لیے تشبیہ کا سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ پس علمِ بیان کا مدار اِن چار چیزوں پر ہے جن کی ترتیب یہ ہے: تشبیہ، استعارہ، مجازِ مرسل،کنایہ۔
یار زندہ، صحبت باقی!

………………………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے