609 total views, 1 views today

اینکر ناول اپنی نوعیت کی ایک اچھی کوشش ہے. چونکہ اس کی ایک خاص ریڈرشپ ہے تو اسے وہی بندہ یا بندی پڑھیں گے جن کو میڈیا کے اندر لگی منڈی سے متعلق حقائق جاننے کی طلب ہوگی. میڈیا کے اندر لگی منڈی سے مجھے اکمل صاحب کی کتاب “میڈیا منڈی” یاد آگئی. کل ہی ان سے یہ بات ہورہی تھی کہ میڈیا منڈی انہوں نے اگر نہ لکھی ہوتی, تو وقاص عزیز کے ناول کا عنوان میڈیا منڈی ہی ہونا چاہیئے تھا. اکمل صاحب کی کتاب پڑھنے کے بعد میڈیا مالکان کی زبانیں لٹکائے بیہودہ تصویر تو واضح ہوچکی تھی. “اینکر” کو پڑھنے کے بعد ان خیالات کو جو کہ پیدا ہوچکے تھے، مزید پختگی ملی. عام قاری کے لئے شائد یہ اتنی اہم کتاب نہ ہو کیونکہ “پارلیمنٹ سے بازار حسن تک” جیسی درجنوں کتابیں پڑھ پڑھ کر وہ اپنی آنکھیں سُجا بیٹھے ہیں، اینکر شائید ان کی اتنی دلچسپی حاصل نہ کرسکے.

“کہانی کا ربط” ایک اہم چیز تھی جس نے میری دلچسپی آخر تک باندھے رکھی, مگر کہانی سے متعلق ہمیں ایک چیز ہمیشہ بتائی گئی کہ خبر ہو، فلم ہو، ڈرامہ ہو یا پھر ناول، ہر ایک شے میں کہانی ہونا شرط ہے، کہانی نہ ہو یا بے ڈھنگی ہو، تو چیز کی اصل روح فوت ہوجاتی ہے. اینکر ناول کی جو کہانی تھی اس میں واقعات اور دورانیے کا توازن نہ ہونا پڑھنے والے کے لئے مایوسی کا سبب ہوسکتی ہے. اس بات کے اوپر چاہے جتنے مرضی جواز باندھ لئے جائیں، لیکن نہیں جناب! ہر کہانی کا آغاز، اس کا ایک خاص دورانیہ (جو کہ مزاج پر منحصر ہوتا ہے) اور اس کے کئی تقاضے ہوتے ہیں. یہی اصول کہانی کے وسط اور اختتام پر بھی لاگو ہوگا. ایسا غیر معمولی تخلیقات میں بھی بہت کم دیکھنے میں آتا ہے کہ ان تین عوامل میں توازن نہ ہونا وقت یا اسٹوری کا تقاضا ہو. ناول کو پڑھتے ہوئے یہ احساس گاہے بگاہے ہوتا رہا کہ کہانی مذکورہ جوازوں کی وجہ سے کہیں کہیں اپنا وزن بالکل کھو دیتی تھی، مگر کہانی کا دلچسپ ہونا اس چیز کو بہتر طور پر کور کرتا رہا.




 ہر کہانی کا آغاز، اس کا ایک خاص دورانیہ (جو کہ مزاج پر منحصر ہوتا ہے) اور اس کے کئی تقاضے ہوتے ہیں. یہی اصول کہانی کے وسط اور اختتام پر بھی لاگو ہوگا. ایسا غیر معمولی تخلیقات میں بھی بہت کم دیکھنے میں آتا ہے کہ ان تین عوامل میں توازن نہ ہونا وقت یا اسٹوری کا تقاضا ہو.

ہر کہانی کا آغاز، اس کا ایک خاص دورانیہ (جو کہ مزاج پر منحصر ہوتا ہے) اور اس کے کئی تقاضے ہوتے ہیں. یہی اصول کہانی کے وسط اور اختتام پر بھی لاگو ہوگا. ایسا غیر معمولی تخلیقات میں بھی بہت کم دیکھنے میں آتا ہے کہ ان تین عوامل میں توازن نہ ہونا وقت یا اسٹوری کا تقاضا ہو.

دوسری بہت اہم بات جو میرے خیال سے بہتر ہوسکتی تھی وہ مبالغہ آرائی کا ذرا زیادہ استعمال ہے. کہیں کہیں یہ بھی لگ رہا ہے کہ مصنف نے کچھ چیزوں پر پرسنل جا کر باتوں کو کچھ بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے. یہ خیال پڑھنے والے کو اس لئے بھی آتا ہے کہ اینکر ناول کے مصنف خود بھی ایک اینکر ہیں اور یہ بات اس چیز کا اعلان ہے کہ انہوں نے جو بھی لکھا اس کا تعلق سو فیصد ان کے ذاتی تجربات سے ہے. اور پڑھتے وقت کہیں کہیں یہ احساس بھی ہوا کہ ناول کے کرداروں میں سے ایک کردار مصنف خود ہیں اور باقی کردار ان کے آس پاس کے لوگ. میری ذاتی رائے یہ ہے کہ ایک سنجیدہ تحریر میں پڑھنے والے پر اس بات کا انکشاف نہیں ہونا چاہیئے. نہیں تو لکھنے والے پر ایک ہزار سوال بنتے ہیں، کیونکہ پڑھنے والا یہ نہیں پڑھتا کہ کیا لکھا گیا ہے بلکہ اہم یہ ہوتا ہے کہ لکھ کون رہا ہے؟ اور وہ کس سمت میں سوچ کر لکھ رہا ہے. نتیجتاً میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ مصنف نے خود کو چھوڑ کر باقی تمام کرداروں کے ساتھ انصاف نہیں کیا ہوگا. میرا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ناول مکمل طور پے مبالغہ آرائی پے مشتمل تھا. کہانی کے لئے یہ بہت عام سی بات ہے اور ضروری بھی ہوتا ہے کہ اس میں ایک خاص احساس لانے کے لئے اس چیز کا استعمال کیا جائے، مگر جس پوائنٹ سے کمرشل ایلیمنٹ نظر آنا شروع ہوجائے، وہاں کچھ زیادہ احتیاط برتنے کی ضرورت ہوتی ہے. یہ وہ باتیں تھیں جن کا تعلق ناول کے اندر کے عوامل اور نکات سے تھا. میں ان باتوں پر بھی رائے قائم کرنا چاہتا ہوں جو ناول پڑھے جانے کے بعد قاری طبقے سے سُننے اور پڑھنے کو ملیں.
ناول پڑھنے کے بعد میرا پہلا تاثر بھی یہی تھا کہ ناول ایک عام کمرشل سی کتاب ہے. مگر میں اپنی اس رائے پر مطمئن نہیں تھا. اگر ہم منٹو کی بات کریں، تو منٹو صاحب نے زندگی کا پہلا رائٹ اپ جب جہاں جیسا بھی لکھا لیکن کیا وہ پہلا پیس ایک ماسٹر پیس تھا؟ میرا تو ایسا بالکل بھی خیال نہیں ہے۔ بھلا اس میں منٹو صاحب کا کیا قصور ہے کہ ہم ان کے جانے کے بعد ان کے ماسٹر پیسز کا موازنہ ہر نئی لکھی جانے والی تحریر سے شروع کر دیتے ہیں. منٹو صاحب کو چھوڑ کر ہم قارئین کا بڑا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے پرانے جتنے بھی لکھاری جو اس دنیا میں ہیں یا جا چکے ہیں ان کو حضرت، علامہ اور رحمتہ اللہ علیہ کے ٹیگز لگا کر ان کی تحریروں کو مقدسات ادب بنا دیا ہے اور یہ پہلے سے ہی طے کرلیا ہے کہ اب کوئی بھی لکھنے والا مائی کا لعل اقبال، منٹو، فیض یا فراز نہیں بن سکتا۔ بھئی، کیوں نہیں بن سکتا؟ موقعہ تو دے نہیں رہے، ہر آنے والی تحریر پر کمرشلائز کا ٹیگ تو کتاب کے باہر والا کور دیکھتے ساتھ ہی لگ جاتا ہے۔ کہاں سے جسارت کرے نیا لکھاری کچھ بھی نیا تخلیق کرنے کی؟

ہم قارئین کا بڑا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے پرانے جتنے بھی لکھاری جو اس دنیا میں ہیں یا جا چکے ہیں ان کو حضرت، علامہ اور رحمتہ اللہ علیہ کے ٹیگز لگا کر ان کی تحریروں کو مقدسات ادب بنا دیا ہے اور یہ پہلے سے ہی طے کرلیا ہے کہ اب کوئی بھی لکھنے والا مائی کا لعل اقبال، منٹو، فیض یا فراز نہیں بن سکتا۔

ہم قارئین کا بڑا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے پرانے جتنے بھی لکھاری جو اس دنیا میں ہیں یا جا چکے ہیں ان کو حضرت، علامہ اور رحمتہ اللہ علیہ کے ٹیگز لگا کر ان کی تحریروں کو مقدسات ادب بنا دیا ہے اور یہ پہلے سے ہی طے کرلیا ہے کہ اب کوئی بھی لکھنے والا مائی کا لعل اقبال، منٹو، فیض یا فراز نہیں بن سکتا۔

گزارش صرف یہ ہے کہ وقاص عزیز نے جسارت کر ہی لی ہے قلم اٹھانے کی، تو بڑے بڑے ماسٹر پیسز سے اس کا موازنہ کرکے خود کو ادب کا پھنے خان نہ ثابت کیا جائے بلکہ مصنف اور ان جیسے کئی نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ اگلی بار اسی قلم سے بہتر نمونہ پیش کرسکیں.




تبصرہ کیجئے