84 total views, 1 views today

گلدستہ
انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں ایسے بہت سے ادبی رسالے اردو میں شائع ہوتے تھے جن میں طرحی غزلیں چھپتی تھیں۔ یہ رسالے گلدستے کہلاتے تھے۔ مثلاً ریاض خیر آبادی کا ’’گلدستۂ ریاض‘‘ اور منشی شیو نرائن آرام اکبر آبادی کا ’’معیار الشعرا۔‘‘
اس حوالہ سے ملا واحدی لکھتے ہیں: ’’غزلیں چھاپنے والے رسالے ماہنامے یا رسالے نہیں کہلاتے تھے، گلدستے کہلاتے تھے۔‘‘
سید امداد امام اشر 1905ء کے ایک خط میں احسن مارہروی کو لکھتے ہیں: ’’مجھے ہر گز اس کی تمنا نہیں کہ شاعروں کی پلٹن میں نام لکھاؤں۔ اس لیے گلدستہ وغیرہ میں کبھی غزل نہیں بھیجتا اور اس ذریعہ سے نام آور ہونا پسند نہیں کرتا۔‘‘
(ابوالاعجاز حفیظ صدیقی کی تالیف ’’ادبی اصطلاحات کا تعارف‘‘ مطبوعہ ’’اسلوب لاہور‘‘، اشاعتِ اول، مئی 2015ء، صفحہ 400سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے