1,267 total views, 5 views today

علمِ بیان اور علمِ بدیع فنِ بلاغت کی اہم شاخیں ہیں۔ اس لیے بیان و بدیع سے قبل فنِ بلاغت کی وضاحت ضروری ہے۔
’’بلاغت‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مادہ (ب، ل، غ) ہے۔
1:۔ المنجد (عربی، اردو) کے مطابق، بَلُغَ (کَرُمَ، یَکرُمُ) بَلُغَ، یَبلُغُ بروزنِ فَعُلَ، یَفعُلُ۔ بَلَاغَتُہ، فصیح و بلیغ ہونا۔ بلیغ کے معنی ہیں انتہا کو پہنچنے والی چیز۔
2:۔ اردو لغت کے مطابق: بلغ، بلاغ، بلاغت، عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق ہے۔ اُردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور اصلی معنی اور اصلی حالت میں مستعمل ہے۔ 1836ء میں ’’چندر بدن و مہیار‘‘ میں مستعمل ملتا ہے۔
اسمِ نکرہ (مؤنث، واحد) جمع بلاغتیں (بلا،غتیں (یائے مجہول)
جمع ندائی:۔ بلاغتوں (بلا،غتوں (واؤ مجہول)
٭ ادب:۔ وہ علم جو اعلیٰ درجہ کی خوش بیانی کے قواعد پر مبنی ہو۔ معانی، بیان اور بدیع پر مبنی علم۔
٭ کلامِ فصیح کی مقتضائے حال سے مطابقت، کلامِ فصیح جو اطناب و ایجاز سے خالی ہو۔ (مجازاً) خوش بیانی، فصاحت۔
3:۔ فرہنگِ آصفیہ کے مطابق: بلاغت، اسم مؤنث (بلند پروازی، عالی دماغی، خوش کلامی، خوش بیانی، فصاحت، حسبِ موقع گفتگو کرنا، علم بیان کی حد کو پہنچنا۔
4:۔ نوراللغات کے مطابق: بلاغت، (بفتحِ اول و چہارم) تیز زبانی، کلام میں مرتبۂ کمال پر پہنچنا) مؤنث، مقتضائے حال کے مطابق کلام کرنا، خوش گفتاری۔ (اصطلاح) وہ علم جس میں اعلیٰ درجے کی خوش بیانی کے قواعد کی تعلیم ہو۔
5:۔ قاموس مترادفات کے مطابق: بلاغت، خوش گفتاری، خوش کلامی، حسبِ موقع کلام، بلوغ، پختگی، رسیدگی، جوانی، گہرائی، گیرائی۔
6:۔ علمی لغت کے مطابق: بلاغت، (ع، اسم، مؤنث) خوش گفتاری، شیریں کلامی۔ کم از کم الفاظ میں موقع محل کے مطابق زیادہ سے زیادہ مطلب بیان کرنا۔
7:۔ فیروز اللغات کے مطابق: بلاغت، (ع) حسب موقع گفتگو کرنا، جیسا موقع دیکھنا، ویسی گفتگو کرنا۔ کلام کا اچھا اور پورا ہونا، کلام کا عیب اور ضعف تالیف سے پاک ہونا۔ مخاطب کے لائق اور مناسب کلام کرنا۔ علم بیان کے انتہائی درجے پر پہنچنا۔
8:۔ لغاتِ کشوری کے مطابق: بلاغت، حسبِ موقع گفتگو کرنی، جیسا حال دیکھنا ویسی بات کرنی، جوان ہونا۔
9:۔ فرہنگِ اصطلاحات علوم ادبی کے مطابق: بلاغت، کلام کا اچھا اور پورا ہونا، فصیح ہونا، حال و مقام کے تقاضوں کے مطابق کلام لانا۔
10:۔ جامع اللغات کے مطابق: بلاغت، خوش گفتاری، شیریں کلامی، خوش بیانی، فصاحت ، بلوغ، پختگی، ایک علم جو اعلیٰ قسم کی خوش گفتاری سکھاتا ہے۔ اس کی تین شاخیں ہیں: علمِ معانی، علمِ بیان اور علمِ بدیع۔
الغرض تمام لغات اور ادبی اور تنقیدی اصطلاحات کی کتب کھنگال لینے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ’’بلاغت‘‘ وہ فن یا علم ہے جس میں کلام دلنشین، شیریں اور مقتضائے حال کے موافق ہے۔

…………………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے