1,755 total views, 1 views today

اردو ادب کا عموماً اور اردو شاعری کا خصوصاً بنظرِ عمیق مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت آشکار ہوجاتی ہے کہ اردو ادب اور علمِ بیان و بدیع کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور خاص کر اُردو شعریات کے حسن، نزاکت اور لطافت کی بنیاد ہی علم بیان و بدیع ہے۔ اس لیے اُردو شاعری کے کلاسیکی عہد میں، جسے شاعری کا عہدِزریں کہا جاتا ہے، ان علوم کی اہمیت بہت زیادہ تھی۔ اس لیے تو اُس دور کو اُردو شاعری کا سنہری دور کہا جاتا ہے، لیکن آج سخن سازی میں ان علوم و فنون کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھا جاتا۔ جس کی بڑی وجہ شاید صنعتی انقلاب، سماجی ترقی اور مادی سائنس کی طرف رحجانات و ترجیحات ہے۔ اس لیے آج ادب بھی تخلیق ہوتا ہے اور سخن سازی بھی ہوتی ہے، لیکن اس میں وہ مٹھاس، شیرینی اور کلاسیکیت نظر نہیں آتی جو کلاسیکی شاعری کا طرۂ امتیاز تھی۔ اگر ہمارا اس طرف رجحان جاتا بھی ہے اور کلاسیکی شاعری کے کہیں کہیں خدوخال نظر ٓآتے بھی ہیں، تو وہ ایسے ہیں جیسے آٹا میں نمک۔
سخن سازی کرتے وقت دو عناصر کو بروئے کار لایا جاتا ہے: ’’خیال اور الفاظ۔‘‘ خیال کا دائرہ انتہائی و سیع بلکہ لا محدود ہوتا ہے جو پرواز کو جنم دیتا ہے، لیکن اس خیال اور اس کی پرواز کو قید کرنے کے لیے الفاظ کا سہارا لیا جاتا ہے۔ شاعر اپنے طریقۂ انداز میں الفاظ کو استعمال کرکے اپنا مافی الضمیراور احساسات و جذبات کو دوسروں تک پہنچاتا ہے۔ اس کی تشریح و توضیح کا نام علمِ بیان ہے جب کہ شعر کو معنوی اور لفظی خوبیوں سے مزیں کرنے کے لیے علمِ بدیع سے کام لیا جاتا ہے۔ شعر و ادب کی زبان اِشاراتی ہوتی ہے۔ کیوں کہ شاعری، رموز و اشارات اور کنایات کا نام ہے، جب کہ دوسرے علوم بیانیہ اور وضاحتی انداز رکھتے ہیں۔ اس لیے وہ ادبی تخلیق یا شاعری دیر تک زندہ رہتی ہے جس میں شاعر و ادیب کے تخیل کی چاشنی کے ساتھ علمِ بیان کی گلکاریوں سے مزین اور رعنائیوں سے منور انداز نظر آتا ہے۔
اُردو شاعری میں علمِ بیان کی بدولت ترکیبیں، استعارات، تشبیہات وغیرہ کا برمحل استعمال اس میں چار چاند لگاتا ہے، جب کہ علمِ بدیع زیادہ بے ساختہ اور فطری انداز کا تقاضا کرتا ہے، لیکن شاعری میں ان علوم کا بے جا، بے محل اور کثرتِ استعمال اُردو شاعری کو وہ بد صورت عورت بناتا ہے جس پر خواہ مخواہ زیورات لاد کر اسے اور بھی بھونڈا بنایا گیا ہو۔ اُردو شاعری میں علمِ بیان اور علمِ بدیع دونوں باقاعدہ اور روایتی انداز لیے ہوئے ہیں، لیکن شاعری کرتے ہوئے بھی اکثر شعرا ان علوم سے ناواقف اور نا بلد ہوتے ہیں۔ اِس لیے آج شعر و ادب کو ان علوم کی روشنی میں پر کھنے کی روایت دم توڑتی نظر آ رہی ہے۔ شاید اس کی بڑی وجہ مغربی ادب کے بڑھتے ہوئے اثرات ہے۔ کیوں کہ فنِ بلاغت مشرقی ادب کا امتیاز رہا ہے اور اُردو کا کلاسیکی شعری ورثہ ان سے پوری طرح مزیں و آراستہ ہے۔
اگر فنِ بلاغت کو دیکھا جائے، تو اس کی تین بڑی شاخیں نظر آتی ہیں: علم المعانی، علمِ بیان اور علمِ بدیع۔
ان میں بیان و بدیع اپنی خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ اس لیے ادب عالیہ کی تخلیق ان علوم کے بغیر ممکن نہیں۔
یار زندہ صحبت باقی!

………………………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔