83 total views, 3 views today

کوئی خاص تاثر پیدا کرنے کے لیے متضاد معانی رکھنے والے دو الفاظ یا مرکبات کو باہم ترکیب دینا یورپی ادبیات میں محسنات بدیعی میں شمار ہوتا ہے اور ایسی ترکیب مغربی ادب کی اصطلاح میں آکسی مورون (Oxymoron) کہلاتی ہے، جیسے ’’جنت ارضی۔‘‘ حفیظ جالندھری کے ایک مجموعے کا نام ’’تلخابۂ شیریں‘‘ ہے۔
احمد فرازؔ کے اس شعر میں رہبر و رہزن کی ترکیب ’’آکسی مورون‘‘ کی ذیل میں آئے گی:
روشنی رہبر و رہزن بھی تو ہے
راہیو، شمعیں بجھا کر گزرو
(ابوالاعجاز حفیظ صدیقی کی تالیف ’’ادبی اصطلاحات کا تعارف‘‘ مطبوعہ ’’اسلوب، لاہور‘‘ اشاعتِ اول مئی 2015ء سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے