109 total views, 3 views today

میڈم نورجہان کسی بنک میں گئیں اور چیک کاٹنے کے لیے انہیں قلم کی ضرورت پیش آئی۔ اتفاق سے وہاں اشرف صبوحی موجود تھے، انہوں نے اپنا قلم پیش کیا۔ چیک لکھ کر میڈم جب دستخط کرنے لگیں، تو انہوں نے وہاں لکھا: ’’نورجہاں بقلمِ خود!‘‘
صبوحی صاحب فوراً بول اٹھے، ’’میڈم، بقلمِ صبوحی لکھئے…… قلم تو آپ میرا استعمال کر رہی ہیں اور لکھتی ہیں بقلمِ خود……!
(ڈاکٹر علی محمد خان کی کتاب کِشتِ زعفران مطبوعہ الفیصل پہلی اشاعت فروری 2009ء، صفحہ نمبر 124 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے