79 total views, 1 views today

یہاں لفظ ’’کرکشن‘‘ کا مطلب ’’کَرِکشَن‘‘ (Correction) یعنی “اصلاح” نہیں بلکہ یہ لفظ ’’کرِکشَن‘‘ انگریزی زبان کے “کریٹی سِزم” (criticism) اور “فکشن” (Fiction) دونوں کے ملاپ سے وجود میں آیا ہے، یعنی “ایک وجود میں دو ہم معنی ایسے لفظوں کا ملاپ جس سے ایک نیا لفظ وجود میں آجائے، جو معنی بھی دے۔ میں مزید وضاحت کے لیے چند مثالیں دینا چاہوں گا۔ جیسے افغانستان اور پاکستان کے لیے ایک مشترکہ لفظ “ایفپاک” (AFPAK) استعمال ہوتا ہے۔ اس طرح یورپ اور ایشیا کے لیے مشترکہ لفظ “یوریشیا” (Eurasia) اور مائیکرو کمپیوٹر اور سافٹ وئیر کے لیے’’مائیکرو سافٹ‘‘ (Microsoft) استعمال ہوتا ہے۔ سابق صدر امریکہ، بل کلنٹن اور اُس کی بیوی ہیلری کلنٹن کے لیے ایک مشترکہ لفظ “بیلیری” استعمال ہوتا تھا۔ ہندی اور انگریزی زبانوں کا مشترکہ لفظ “ہنگلش” (Hinglish) ہے۔ اس طرح آج کل برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے لیے خبروں میں آپ سب نے ایک لفظ “بریگزٹ” (Brexit) سنا ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ برطانیہ یورپی یونین سے نکل رہا ہے۔ یہاں جو بھی نیا مشترکہ لفظ استعمال ہوا ہے، اُسے ادبی زبان کی اصطلاح میں “پورٹ منٹو” (Portmanteau)کہا جاتا ہے (پورٹ منٹو فرانسیسی زبان کا لفظ ہے)۔ دنیا کی دوسری زبانوں میں بھی اس طرح پورٹ منٹوز بنے ہوئے ہیں۔
اب پشتو زبان میں “کرِکشَن” کے نام سے کارنامہ سمیع الدین ارمان نے سرانجام دیا ہے۔
یہ صاحب کون ہیں؟ یہ نوجوان باقاعدہ طور پر دانشور، محقق اور نقاد ہیں۔ وہ اس وقت ایڈورڈز کالج پشاور میں علومِ اسلامیہ کے اُستاد ہیں۔ اُن کا میدانِ تخصیص “تقابل ادیان” (سامی مذاہب) ہے۔ وہ اسلامک سنٹر یونیورسٹی آف پشاور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں، یہاں ان کا میدانِ تخصیص “ادب اور تنقید” ہے۔ انفارمل ایجوکیشن کلیۃ الشریعہ یعنی (اسلامی جورسپونڈنس) ہے۔ وہ ایک جوان اور ہنس مکھ انسان ہیں۔ گھنی خوبصورت سیاہ داڑھی چہرے پر سجائے علمی، تحقیقی اور پُرنور صورت کے مالک ہیں۔ وہ بمشکل تیس پینتیس سالہ نوجوان ہیں، لیکن اُن پر اللہ تعالیٰ نے علم و دانش کے دروازے کھول رکھے ہیں۔ وہ سادگی، انسانیت و محبت کا پیکر ہیں، جس سے ہر کوئی پہلی ملاقات میں متاثر ہوئے بنا نہیں رِہ سکتا۔ وہ پشاور چارسدہ روڈ پر “ہریانے” نامی گاؤں کے رہنے والے ہیں۔ اب تک اس نوجوان دانشور کی تقریباً چھے عدد کتب منظر عام پر آچکی ہیں۔ جن میں “تنقیدی تعبیرات” (دو جلدوں پر مشتمل)، “زرپاش”، “تنقیص”، “باتیں ہمارے باچا خان کی” اور “کرِکشَن” شامل ہیں۔ “کرِکشَن” میں فکشن (ناول) کے ساتھ “کریٹی سزم” بھی شامل ہے۔
کرکشن پر سمیع الدین ارمان کا جو اپنا مقدمہ ہے، وہ پڑھنے کے لائق ہے۔ اس مقدمے میں اس نے پوری کتاب کا ایک مختصر خاکہ کھینچا ہے۔ اس میں زیادہ تر ادبی اصطلاحات کی وضاحتیں کی گئی ہیں۔ کتاب کے اندر یورپی، امریکی، جرمنی اور روسی ناول نگاروں کے حالاتِ زندگی اور اُن کے عالمی شہرت یافتہ ناولوں کا ذکر کیا ہے کہ کس طرح اپنے علاقے، خطے کی جبر اور بے انصافی کو “ناول” میں بیان کرکے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے، لیکن یہاں اس بیانیے میں سمیع الدین ارمان نے ایک اہم سوال اٹھایا ہے کہ “کیوں ہمارے اس خطے کے ادب نے عالمی ادب میں اپنا مقام نہیں بنایا؟ ہمارے ہاں تو المیوں نے جنم لیا ہے۔ برسہا برس بے مقصد رزمیے چل رہے ہیں۔ خون بہایا جا رہا ہے۔ مضبوط، خوبصورت نازک جسموں کے پرخچے اُڑائے جارہے ہیں۔ چھوٹے، معصوم پھول جیسے بدن سزا پا رہے ہیں۔ پھر بھی ایسا کچھ نہیں لکھا گیا جو عالمی ادب کو متوجہ کرسکے۔”
سمیع الدین ارمان نے کتاب میں اس سوال کے بارے میں مختلف وجوہات پر روشنی ڈالی ہے۔
کتاب پر حیات روغانےؔ اور ڈاکٹر ہمدرد یوسف زئی کی تعارفی تمہید بھی پڑھنے لائق ہے، جس میں کتاب کے اغراض و مقاصد کے ساتھ مزید اصطلاحات کے بارے میں وضاحتیں دی گئی ہیں۔
کتاب کے گیارہ عدد مضامین میں یورپ، امریکہ، روس، فرانس اور جرمنی کے مشہور ادیبوں (ناول نگاروں) کے دلچسپ مختصر حالاتِ زندگی اور اُن کے شاہکار ناولوں پر تفصیل سے بات کی گئی ہے۔ وہ تمام ادیب اور ناول نگار اپنی تخلیقات اور فن پاروں کے لیے کتنی تکالیف، جبر اور پابندیوں سے ہوگزرے؟ حقیقت یہ ہے کہ پڑھنے کے بعد انسانی عقل ششدر رہ جاتی ہے۔
کتاب میں اصل معلومات یہ ہیں کہ ہر مصنف نے اپنا فن پارہ لکھنے کے لیے کون سا طریقۂ ادب اور اندازِ بیانیہ استعمال کیا ہے؟ جیسے کہ مشہور افسانہ نگار ہیمنگوے نے اپنے افسانوی تکنیک میں “آئس برگ تھیوری” کے متعلق تفصیل سے بات کی ہے جسے “تھیوری آف اومیشن” کا نام بھی دیا گیا ہے۔ بعد میں اسی “آئس برگ تھیوری” کی مشہور نفسیاتی دانشور فرائڈ نے اُس وقت نفسیاتی نقطۂ نظر سے تشریح کی جب اُس نے شعور، تحت الشعور اور لاشعور کی توضیحات بیان کیں۔ انہی توضیحات کی روشنی میں مشہور افسانہ نگار نے افسانہ لکھنے کے لیے آئس برگ تھیوری کو کار آمد بنانے پر زور دیا ہے۔




سمیع الدین ارمان کی تصویر جو ان کے فیس بُک اکاونٹ سے لی گئی ہے۔

اس طرح فرانز کافکا جو “پراگ” شہر میں پیدا ہوا تھا، اس کا مشہور ناول “میٹا مارفوسز” جس کا دنیائے ادب میں اچھے ناولوں میں شمار ہوتا ہے، جو انسان کی مختلف نفسیاتی حالتوں پر لکھا گیا ہے اور جس میں وجودی اور غیر وجودی تبدیلی کا تجزیاتی مطالعہ کیا گیا ہے، اس کی سمیع الدین ارمان نے دورِ جدید کی تبدیلیوں کے تناظر میں دل کش انداز میں تشریح کی ہے۔
اس طرح برطانیہ کی ورجینیا وولف جس کی اپنی زندگی دُکھوں، المیوں، حادثوں سے عبارت تھی، کو سگمنڈ فرایڈ کا ہم عصر مانا جاتا ہے۔ اس کے فن کے تعین کے بارے میں اکثر نقادوں نے اسے “مابعد فرایڈی ادب” میں اپنے زمانے کی نمائندہ خاتون ادیب مانا ہے۔
کتاب میں دنیائے فکشن کے مشہور روایت ساز نمائندہ “جورج آرویل” کا بھی تفصیلی ذکر ہے۔ اُس کے دو شہرہ آفاق ناولوں “اینمل فارم” اور 1984ء کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ ارمان کہہ رہے ہیں کہ آرویل ایک سچا ڈیموکریٹ سوشلسٹ تھا۔ اینمل فارم میں انہوں نے اپنی اُن یادداشتوں کو تمثیلی زبان دی ہے جو کچھ انہوں نے سپین (Spain) کی خانہ جنگی میں اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ اس کے علاوہ یہ ناول روسی انقلاب اور اُس کے بعد سٹالن کے ظالمانہ دور پر ایک سفاک طنز ہے۔ شخصیت پرستی اور ریاستی جبر کے خلاف یہ ناول مستند دستاویز ہے۔ اس ناول کے بعد آرویلی نے ایک اور ناول 1984ء کے نام سے لکھا ہے۔ 1984ء میں آرویل نے اپنی تمام علمیت، خبرداری اور دیانت کی سچی گواہی دی ہے۔ یہ ناول 1949ء میں شائع ہوا اس ناول کی نوعیت یا قِسم کو “ڈسٹوپین فکشن” کہتے ہیں، جس میں بڑے بڑے مرکزی تصورات، ریاستی جبر و تشدد کے ساتھ ساتھ دوغلے پن کی جھوٹی سیاست کی تہیں کھولنی پڑتی ہیں۔ انفرادی آزادی اور اظہار کے آنکھوں پر پردے پڑے رہتے ہیں۔ یہاں پر سمیع الدین ارمان کا خیال ہے کہ “ڈسٹوپین فکشن” کی یہ نوعیت مختلف اوقات میں مختلف صورتوں میں فطری اور علمی طور پر سامنے آ رہی ہے، جیسے کہ ناول نگار “میری شیلے” کے “فرینکنسٹاپن” نامی ناول میں “مونسٹر” کا کردار ہے یا مشہور روسی ناول نگار “میخائیل بلگاکوف” کے مشہور ناول “ہارٹ آف ڈاگ” میں اُس کتے کا کردار ہے جس میں انسانی دماغ کے ساتھ تمام صلاحیتیں ودیعت کی گئی تھیں۔ اس نے ایک عام کتے “شیرک” سے ایک معتبر اشرافیہ کتا “شیرکوف” تک کا سفر کیا تھا۔ ارمان صاحب “آرویل” کے اعتدال پسندانہ رویے کی تعریف کرتے ہیں کہ وہ کمیونسٹ تو ہے، لیکن کمیونزم کے انتہا پسندانہ رویے پر اُس کی گہری نظر ہے۔ وہ سوشلسٹ ہے، لیکن سوشلزم کے نظریاتی حوالے سے کسی خفیہ مقاصد حاصل کرنے کا روادار نہیں۔
کتاب میں ناول کے مستقبل کے بارے میں ضمناً 1962ء میں مغربی دانشوروں کی اُس عالمی کانفرنس کی بھی بات کی گئی ہے جو “ایڈنبرا” میں ناول کے حوالے سے بلائی گئی تھی۔ اس کانفرنس کے آگے ایک سوال رکھا گیا تھا کہ “ناول کی صورت حال کیا ہے؟” یہاں پر جو کچھ کہا گیا وہ ناول کے بارے میں اُمید افزا نہیں تھا، جب کہ ارمان صاحب اس سے اختلاف رکھتے ہوئے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ دنیا میں عالمی ناول عروج کی طرف تیز رفتاری سے پیش قدمی کر رہا ہے اور اس کے لیے مشہور ادبی تجزیہ کار شمس الرحمان فاروقی کے اُس مقالے کا حوالہ دے رہے ہیں جس نے 1971ء میں “آج کا مغربی ناول” نظریات اور تصورات کے عنوان سے لکھا تھا، اور اُس میں ایڈنبرا کانفرنس کے اعلامیے سے اختلاف کیا گیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ فاروقی اور ارمان صاحب کا مؤقف صحیح ہو، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آج بھی عالمی ادب کے اچھے خاصے حلقے ناول کے بارے میں اس کا مستقبل مخدوش قرار دے رہے ہیں۔ دنیا سکڑ رہی ہے لہٰذا “فکشنی ادب” بھی سکڑ رہا ہے، کمیت کے حوالے سے نہیں بیانیے کے حوالے سے۔
کتاب میں لاطینی امریکہ کے مشہور دانشور اور ناول نگار “گبریل گارسیا مارکیز” (گیبو) اور اُس کے یادگاری فکشن کا ذکر ہے۔ اس کے علاوہ چیکو سلواکیہ کے مشہور عالم اور ناول نگار “میلان کنڈیرا” کی “ناولیانہ حکمت عملی” کا تفصیلی ذکر ہے۔ ناول کے بارے میں میلان کنڈیرا کا خیال ہے کہ ناول اپنے آغاز کے لیے لکھنے والے کے ذہن میں ایک دُھندلا سا مجموعی تصور بنا دیتا ہے، پھر جب ناول کا آغاز ہوجاتا ہے، تو کردار، پلاٹ، زمان و مکاں اور بیان خود بہ خود ناول کا تحریری سفر آگے دھکیلتے رہتے ہیں۔ اس تصور کے محرک کو میلان کنڈیرا ناول کی قوت قرار دے رہے ہیں، لیکن ساتھ اس بات پر بھی زور دے رہے ہیں کہ ناول کی دانش، فلسفی کی دانش سے الگ ہے۔ کیوں کہ فلسفی کی دانش نظریات کی روح سے جب کہ ناول کی دانش مِزاح کی روح سے جنم لیتا ہے۔
کتاب کے آخر میں ایک بہت اہم موضوع کو ادبی تاریخ کے حوالے سے چھیڑا گیا ہے کہ فکشن، عملی سائنس کے لیے کیسے راستے کھول دیتا ہے؟ اس کے ساتھ ہی مشہور ناول نگار پاولو کویلو کا ذکر ہے جس کے مشہور زمانہ ناول “الکیمسٹ” کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ دنیا کی 80 سے زیادہ زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوچکا ہے۔ الکیمسٹ کا اردو میں تین بار ترجمہ ہوچکا ہے جب کہ پشتو میں راشد خٹک اور صفیہ حلیم نے بھی اس کا ترجمہ کیا ہے۔ اس ناول کی اب تک 150 ملین کاپیاں فروخت ہوچکی ہیں۔ علاوہ ازیں جوسٹین گارڈ کے مشہور عالمی زمانہ ناول “Sophies World” یعنی “سوفی کی دنیا” کی بات کی گئی ہے جس کا دنیا کی مشہور ساٹھ زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ 1991ء سے 2011ء تک اس ناول کی 40 ملین کاپیاں فروخت ہوچکی ہیں۔
تحریر طول پکڑ رہی ہے۔ جاتے جاتے بس اتنا ہی کہوں گا کہ یہ کتاب اپنی اہمیت، مغربی ناول نگاروں، اُن کے لکھے ہوئے مشہورِ زمانہ ناولوں، اُن کی ساخت، جدیدیت، اقسام، عصرِ حاضر کے تقاضوں کے ساتھ پشتو ادب میں ایک نئی، منفرد اور قیمتی اضافہ سمجھی جائے گی۔ مَیں سمیع الدین ارمان کو اس کتاب پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں اور خداوندِ کریم سے دعا گو ہوں کہ ارمان صاحب کا زورِ قلم اور زیادہ ہو۔
……………………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے