1,742 total views, 2 views today

لوک ادب (Folk) میں کہانیاں، گیت اور نظمیں ہوتی ہیں۔ یہ ایسا ادب ہے جو تحریری شکل میں تو نہیں ہوتا، لیکن سینہ بہ سینہ اور عہد بہ عہد اگلی نسل تک منتقل ہوتا رہتا ہے۔
لوک ادب کا تعلق عوام سے ہوتا ہے، چناں چہ کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا، کہ ان کہانیوں، گیتوں اور نظموں کا خالق فلاں شخص ہے۔ یہ عوام کے اجتماعی سماجی میل جول کے نتیجے میں پیدا ہونے والا ’’خودرو‘‘ ادب ہے جو درباروں، تہواروں، میلوں ٹھیلوں، جنگوں، مقابلوں، مہموں، شادی بیاہ، خوشی غمی کے مواقع یا کھیل تماشوں کے دوران میں جم لیتا ہے۔
ہر قوم اور زبان کا اپنا لوک ادب ہوتا ہے۔ برصغیر کی مختلف زبانوں کا لوک ادب بعض مافوق الفطرت واقعات اور عقائد و رسوم کے علاوہ دیوی دیوتاؤں اور سورماؤں کی شہ زوری کے واقعات پر مبنی ہے۔ یوں اساطیر اور فوک کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔
(پروفیسر انور جمال کی تصنیف "ادبی اصطلاحات” مطبوعہ "نیشنل بُک فاؤنڈیشن”، صفحہ نمبر 152 سے انتخاب)