1,608 total views, 4 views today

پروفیسر انور جمال اپنی کتاب "ادبی اصطلاحات” کے صفحہ 56 پر پرولتاری یا پرولتاریہ (Proletariat) کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ یہ مارکسی تنقید کی اصطلاح ہے۔
وہ طبقہ جو محنت مشقت کرکے مصنوعات تیار کرے یا پیداوار بڑھائے اور اس کی تیار کردہ مصنوعات سے حاصل ہونے والی دولت زردار سمیٹ لے، پرولتاری کہلاتا ہے۔
زردار، پرولتاری کو محض پیٹ بھرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
بورژوا، پرولتاری کی متضاد اصطلاح ہے۔
وکی پیڈیا میں اس کی تعریف کچھ یوں دی گئی ہے: "یہ لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں، وہ شہری جو آزاد تو ہو، مگر قوتِ محنت کے علاوہ اس کی کوئی جائداد نہ ہو۔”




تبصرہ کیجئے