1,213 total views, 3 views today

 شُترگُربہ کے حوالے سے پروفیسر انور جمال اپنی تالیف ’’ادبی اصطلاحات‘‘ مطبوعہ ’’نیشنل بُک فاؤنڈیشن‘‘ کے صفحہ نمبر 122 پر کچھ یوں رقم کرتے ہیں: ’’شُترگُربہ (UNMATCHED PAIR) کلام کی اصطلاح ہے اور نقصِ کلام ہے۔اس سے مراد ہے کہ ایک شخص ایک ہی وقت میں بات کرتے ہوئے ضمائر کا خیال نہ رکھے۔ مثلاً اگر کسی سے پوچھا جائے کہ ’’آپ کب آئے ہو۔‘‘ یہ ’’شُتر گُربہ‘‘ ہے ۔ شُتر گُربہ کے لفظی معنی اونٹ، بلی کے ہیں۔ خطاب ’’آپ‘‘ کا تقا ضا ہے کہ ’’آئے ہیں‘‘ کا استعمال ہو۔ ’’شُترگُربہ‘‘ کلام کی فصاحت و بلاغت دونوں پر ضرب لگاتا ہے اور ذوقِ سیلم کو گراں گزرتا ہے ۔ ’’شترُگُربہ‘‘ متکلم کے اضطراب،غم،خوشی، ہیجان، خوف اور ذہنی کشمکش (Confliction) کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘
اس حوالہ سے مزید چھان پھٹک کی تو مولوی نور الحسن نیر کی’’نور اللغات‘‘ اور سید فضل الحسن حسرت موہانی کی ’’نِکاتِ سخن‘‘ میں گراں قدر مواد ہاتھ آیا۔
سرِ دست ’’نور اللغات‘‘ کا مواد ملاحظہ ہو: ’’دو ناموافق چیزیں جن میں سے ایک بلند اور دوسری پست ہو۔ اصطلاحِ شعرا میں ایک ہی چیز کو تعظیم و تحقیر دونوں کے ساتھ ذکر کرنا شتر گربہ ہے (اس کو شتر گربہ اس لیے کہتے ہیں کہ اونٹ اور بلی میں جو مناسبت ہے وہی صیغۂ جمع و مفرد و کلماتِ تعظیم و تحقیر میں بھی ہے۔ صیغۂ جمع و کلمۂ تعظیم بمنزلۂ شتر ہیں اور مفرد اور کلمۂ تحقیر بمنزلۂ گربہ۔ ایک جملے میں ان دونوں کا اجتماع محض نا درست ہے)جیسے ہم کہتا ہوں (مَیں کہتا ہوں یا ہم کہتے ہیں کی جگہ) تم فرماتے ہو(آپ فرماتے ہیں کی جگہ۔ تم برابر والے یا چھوٹے کے لیے ہے اور فرمانا کمالِ تعظیم پر دلالت کرتا ہے) اگر مختلف جملوں میں ہو اور وہ جملے ایک شعر میں نہ ہوں، تو جائز ہے لیکن اس قسم سے بھی احتیاط کرنا چاہیے۔
آئیو دامن اُٹھائے مدفنِ عشاق پر
ہاتھ لے جائے نہ کوئی تیرے داماں کی طرف
(وزیر)
اب آتے ہیں سید فضل الحسن حسرت موہانی کی طرف کہ وہ اس حوالہ سے کیا کہتے ہیں؟
حسرت موہانی اپنی تصنیف ’’نِکاتِ سُخن‘‘ مطبوعہ ’’الفیصل ناشران و تاجرانِ کتب، لاہور‘‘ کے صفحہ نمبر 143 پر زیرِ عنوان ’’شتر گربہ‘‘ کچھ یوں رقم کرتے ہیں: ’’بقولِ حضرت شوق نیموی ایک ہی چیز کو تعظیم اور تحقیر دونوں کے ساتھ استعمال کرنا شتر گربہ ہے۔ اِس کو شتر گربہ اس لیے کہتے ہیں کہ اُونٹ اور بلی میں جو مناسبت ہے، وہی صیغہ جمع و مفرد اور کلماتِ تعظیم و تحقیر میں بھی ہے، جیسے
تیری باتوں کا کیا ٹھکانا ہے
آپ کا شاکی اِک زمانہ ہے
یا
پاس جب سے ہمارا یار نہیں
دل کو اِک دم مرے قرار نہیں
یہاں پہلے شعر کے پہلے مصرع میں ’’تیری‘‘ کا کلمہ تحقیر اور دوسرے میں ’’آپ کا‘‘ کلمہ تعظیم کا اجتماع شتر گربہ ہے اور معیوب ہے۔ علی ہذالقیاس دوسرے شعر میں ’’ہم‘‘ صیغہ جمع ہے اور مرے صیغہ واحد۔ یہ بھی شتر گربہ ہے۔ ‘‘
قارئینِ کرام! ٹھیک اسی طرح آج کل اُردو بول چال میں ایسے جملے سننے کو ملتے ہیں جو شتر گربگی کے سوا کچھ نہیں۔ مثلاً ایک جملہ ’’آپ کیسے ہو؟‘‘ آج کل کثرت سے بول چال اور تحریر دونوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس جملہ میں ’’آپ‘‘ صیغہ جمع جب کہ ’’ہو‘‘ واحد باندھا گیا ہے۔ یہ شتر گربہ ہے۔ اس کی جگہ ’’آپ کیسے ہیں؟‘‘ کا استعمال موزوں ہے۔
……………………………………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے