1,131 total views, 1 views today

انسانی وجود فطرت پر اضافہ ہے اور اس اضافے کا دوسرا عنوان ’’تجرید‘‘ ہے۔ کوئی بھی تخلیقی عمل جو انسان کی معرفت وقوع پذیر ہو ’’تجرید‘‘ سے ملوث ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
موسیقی کی اصوات، اعداد، الفاظ اور جیومیٹریکل اشکال بلحاظِ نوعیت فطری نہیں بلکہ تجریدی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس اعتبار سے تمام فنون کی اساس ہی تجریدات پر قائم ہے۔ انسانی فن کا مجموعی عالمی سرمایہ بہت کم فطری لیکن زیادہ تر تجریدی حیثیت رکھتا ہے۔ قبل از تاریخ کے علاوہ تمام وحشی اور نیم متمدن اقوام کے فن کی نوعیت بھی تجریدی ہے، نہ کہ فطری۔ قانونی طور پر باقاعدہ حقیقت پسندانہ اور معروضی فن صرف سائنسی دورِ تعقل میں ’’اکیڈیمک ریلسٹک آرٹ‘‘ (Acedemic Realistic Art)سے منسوب ہے۔
تجریدی فن کی دو بنیادی اقسام ہیں: جیو میٹریکل ایبسٹریکشن اور فری ایبسٹریکشن (Geometrical and Free Abstraction)
تجرید کی اصطلاح کو جوہری معنوں میں ’’نفسی قوتِ اختصار‘‘ سے بھی منسوب کیا گیا ہے، یعنی ہم فطری اشکال کو زیادہ سے زیادہ مختصر کر کے بیان کرتے ہیں۔ (ساختیت کی رو سے) تو وہ ’’ریاضیاتی تجرید‘‘ (Geometrical Abstraction) میں بدل جاتی ہیں۔ فنون پر تجرید کی اصطلاح کا استعمال غیر معمولی وسعت اور تنقیدی شعور کا مقتضی ہے۔ تجریدی اور فطری قوانین کے امتیازات کا مطالعہ جدید آگہی کا اہم ترین کارنامہ ہے۔
(پروفیسر انور جمال کی تصنیف ادبی اصطلاحات مطبوعہ نیشنل بُک فاؤنڈیشن صفحہ نمبر 60 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے