798 total views, 1 views today

آئیدیلزم (Idealism) یا مثالیت دراصل تنقید کی اصطلاح ہے جسے ’’تصوریت‘‘ یا ’’عینیت‘‘ بھی کہا جاسکتا ہے۔
متعلقاتِ حیات دو طرح سے سمجھے جاتے ہیں:
1:۔ یہ کہ وہ اپنی موجودہ صورت میں کیسے ہیں۔
2:۔ یہ کہ انہیں کیسا ہونا چاہیے۔
پہلا قضیہ موجود صورتِ حال کو ظاہر کرتا ہے جب کہ دوسرا اپنی نوع میں معیاری، عینی اور مثالی ہے۔ ادب میں اس دوسری صورت کو آئیڈیلزم (مثالیت یا عینیت) کہتے ہیں، یعنی زندگی کو اس طرح پیش کرنا جیسی کہ اسے ہونا چاہیے۔ یہ اندازِ تخلیق، رومانیت کا خاصہ ہے اور کلاسیکیت کی ضد ہے۔
آئیڈیلزم (مثالیت یا عینیت) میں اعتدال اور ضبط توازن سے کام لیا جاتا ہے۔ آئیڈیلسٹ ادیب ’’جو ہے‘‘ کے بجائے ’’جو ہونا چاہیے‘‘ کو اہمیت دے کر زندگی کے نصب العینی معیارات پر یقین رکھتے ہیں۔ گویا یہ مسلکِ ادب “Is” کے بجائے “Must be” کے خواب دیکھتا ہے۔
’’روحانی اور اخلاقی نصب العین پر زور دینا اور موجود پر عدم اطمینان ’آئیڈیلزم‘ (عینیت یا مثالیت) کا شیوہ ہے۔‘‘
(پروفیسر انور جمال کی تصنیف ادبی اصطلاحات مطبوعہ نیشنل بُک فاؤنڈیشن، صفحہ نمبر 156 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے