1,346 total views, 1 views today

ایسا شخص جو معمولی سی موزونیِ طبع کے باعث مصرعے موزوں کر لیتا ہو جب کہ اس میں "خلقی” صفات نہ ہوں، اسے متشاعر کہتے ہیں۔
قوتِ متخیّلہ، نفسیاتی ژرف بینی، شدتِ احساس، تیز مشاہدہ، طبعِ موزوں، دلِ گداختہ اور ترکیب سازی کی اہلیت، یہ ہیں شاعر کی خصوصیات۔
متشاعر فطری طور پر ان صفات سے محروم ہوتا ہے، لیکن طبعِ موزوں کی بدولت "مصرعے” نظم کر لیتا ہے۔ یہ ملکہ تو اکثر لوگوں میں ہوتا ہے، مگر وہ شاعر نہیں ہوتے۔
(پروفیسر انور جمال کی تصنیف "ادبی اصطلاحات” مطبوعہ نیشنل بُک فاؤنڈیشن، صفحہ نمبر 156 سے انتخاب)