94 total views, 1 views today

عظیم پریم جی ہندوستان کے بڑے کاروباریوں میں سے ہیں، کہتے ہیں: ’’میں اور میری کمپنی کبھی پیسے کے پیچھے نہیں بھاگے۔ ہم ہمیشہ ساکھ پیچھے بھاگتے ہیں جس کی وجہ سے پیسہ ہمارے پیچھے بھاگتا ہے۔‘‘
یہ الفاظ ایک کامیاب ترین کاروباری کے ہیں۔ اس کے برخلاف ہمیں سکھایا ہی یہ جاتا ہے کہ تم اس لیے پڑھ رہے ہو، تاکہ نوکری مل جائے۔ لڑکی اس لیے پڑھ رہی ہے، تاکہ اچھا رشتہ مل جائے۔ جب ہمارے اہداف (ٹارگٹس) ہی اتنے چھوٹے ہوں گے، تو پھر زندگی کہاں گزرے گی؟ خدارا، اُس کام کو کیجیے جس کے لیے آپ کو پیدا کیا گیا ہے، تاکہ کام آپ کو کام نہ لگے۔ اگر کام آپ کو کام لگے اور آپ کے لیے بوجھ بن جائے، تو اس کا مطلب ہے کہ آپ اپنے شوق کو دریافت نہیں کرسکے ہیں۔ آپ نے کاموں کا بوجھ اُٹھایا ہوا ہے۔ اور زندگی جس کے لیے بوجھ ہوتی ہے، وہ مردہ ہوتا ہے۔ صرف اُسے دفنانا باقی ہوتا ہے۔
مشہور انڈین فلم ’’تھری ایڈیٹس‘‘ کے آخر میں فوٹو گرافر اپنے والد سے کہتا ہے: ’’فادر! اِٹس اُوکے…… پیسہ کم کمالوں گا، لیکن وہ کروں گا جس میں میری تسلی ہے، میرا جذبہ ہے۔‘‘
یاد رکھیے، ہر ایک کے اندر میٹر لگا ہوا ہے، جو یہ بتاتا ہے کہ آپ کا کام کیا ہے؟ جو بتاتا ہے کہ آپ کو کدھر جانا ہے؟ بعض اوقات زمانے کی تقدیر زمانے کے ہاتھ پر نہیں، آپ کے ہاتھ کی لکیر پر لکھی ہوتی ہے۔ تقدیر آپ کو بدلنی ہوتی ہے۔ آپ انتظار کر رہے ہوتے ہیں کہ کوئی مسیحا آئے اور تقدیر بدلے۔ (قاسم علی شاہ کی کتاب ’’اپنی تلاش‘‘ مطبوعہ ’’قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن‘‘ جلد اول، صفحہ 33 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے