367 total views, 1 views today

عام طور پر خود کو جاننے والا شخص خود کو اس وقت جان لیتا ہے کہ جب وہ مصیبت و آلام میں مبتلا ہوتا ہے۔ جتنی خود شناسی انسان کو تکلیف میں ہوتی ہے، اتنی خوشی اور راحت میں نہیں ہوتی۔ غم، تکلیف اور مشکلات کا دور انسان کو اپنے آپ سے آگاہ کرتا ہے۔
عبدالستار ایدھی جب پیدا ہوئے، تو ابتدائی ایام میں ہی میں ان کی والدہ کو طلاق ہوگئی جس کی وجہ سے ان پر غربت ااور غم کے سائے رہتے تھے۔ اسی کسمپرسی کی حالت میں وہ اوالدہ کے ساتھ پاکستان آگئے اور کراچی میں گولیاں اور ٹافیاں بیچنا شروع کر دیں۔ لیکن اندر یہ جذبہ تھا کہ جس محرومی کا مجھے سامنا رہا، اس کا اِزالہ مجھے دوسروں کے لیے کرنا ہے۔ لہٰذا، انہوں نے اپنی ریڑھی سے کام شروع کر دیا اور پھر ایک وقت ایسا آیا کہ ان کا نام ’’گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ‘‘ میں درج ہوا۔ ان کے بچپن کی محرومی ان کی طاقت بن گئی۔ انہوں نے خود کو جان لیا کہ میں دوسروں کی خدمت کے لیے پیدا ہوا ہوں۔
جو خود کو جان لیتا ہے، اس سے معاشرے کو فائدہ ملنا شروع ہوجاتا ہے۔ پھر وہ اپنے لیے نہیں جیتا، بلکہ دوسروں کے لیے جیتا ہے۔




تبصرہ کیجئے