886 total views, 2 views today

(تحریر:  الشیخ مولانا قاضی سید علی شاہ باچہ)

سنبھال کر رکھو یہ جو فرقے تمہارے ہیں
علیؓ بھی ہمارے ہیں، حسینؓ بھی ہمارے ہیں
تاریخِ اسلام میں خلفائے راشدین میں سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا دورِ خلافت بہت پُرآشوب اور پُر فتن رہا ہے۔ اسی دور میں ’’جنگِ جمل‘‘ ہوئی جس میں دونوں متحارب فریقوں کے ہزاروں صحابہ شہید ہوئے۔ یہ وہی دور تھا جس میں حضرت علیؓ اور امیر معاویہؓ کے درمیان خوں ریزی ہوئی جس کے نتیجے میں خوارج کا فرقہ نمودار ہوا اور جس نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو بے دردی سے شہید کر دیا۔ یہ تاریخِ اسلام کا ایک خونیں باب ہے جس کے بارے میں علمائے کرام اور مؤرخین نے تفصیل سے لکھا ہے۔
صابرہ بی بی کا زیرِ نظر مقالہ یوں تو حضرت علیؓ کی سوانحِ حیات پر مشتمل ہے لیکن اس میں نہ صرف ہمارے پیارے نبی حضرت محمدؐ کی حیاتِ طیبہ کے اہم واقعات بیان کیے گئے ہیں بلکہ ان کے وصال کے بعد کے تاریخی واقعات کا بھی تدریجاً جائزہ لیا گیا ہے۔ اس میں ان تمام غزوات کا ذکر موجود ہے جن میں حضرت علیؓ نے حصہ لیا اور ان میں کارہائے نمایاں انجام دیے۔
اس مقالہ کے بابِ اوّل میں حضرت علیؓ بن ابی طالب کے خاندان، پیدائش اور ہجرت تک کے واقعات درج کیے گئے ہیں۔ اس میں حضرت علیؓ کا اپنے چچازاد بھائی رسول اکرمؐ کے زیرِ سایہ پرورش کے دورانیہ پرمشتمل حالات بھی موجود ہیں۔ ان کے ایمان لانے کا واقعہ اور اس طرح کے بہت سے تاریخی واقعات اس باب کا حصہ ہیں۔بابِ دوم میں حضرت علیؓ کے مدینہ میں ہجرت سے وفات تک کے حالات قلم بند کیے گئے ہیں جس میں سیدنا علیؓ کی رسول پاکؐ کی چہیتی بیٹی حضرت فاطمہ سے عقد اور رسول پاکؐ کے لیے سیدنا علیؓ کے ایثار و قربانی کے بے مثال مظاہر بھی زیرِ قلم لائے گئے ہیں۔ بابِ سوم میں حضرت علیؓ کے دورِ خلافت کے تفصیلی واقعات کا تحقیقی اور علمی جائزہ لیا گیا ہے۔ بابِ چہارم میں حضرت علیؓ کے فضل و کمال، اخلاق و عادات اور ذاتی حالات سپردِ قلم کیے گئے ہیں۔ بابِ پنجم میں حضرت علیؓ کے آل و اولاد کا تفصیلی ذکر ملتا ہے۔ اس میں حضرت سیدہ فاطمہؓ کے علاوہ دوسری ازدواج سے حضرت علیؓ کی اولاد کے بارے میں بھی تفصیلات موجود ہیں۔ بابِ ششم کے حصۂ اوّل میں اسلام کے عقیدۂ خلافت پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس میں خلافت کی مختلف شکلوں اور جہتوں پر علمی بحث کی گئی ہے۔ اسی باب کے حصہ دوم میں فرقہ اثنا عشریہ کا عقیدہ اور امامت کے زیرِ عنوان شیعہ مذہب کے آغاز اور اس کے مختلف فرقوں کا جائزہ لیا گیا ہے ۔
صابرہ بی بی نے بحیثیتِ مجموعی اس مقالے میں حضرت علی مرتضیٰؓ کے سوانحِ حیات کا تحقیقی اور علمی جائزہ لیا ہے جس کے لیے انھوں نے درجنوں کتابوں کا مطالعہ کیا ہے اور ان سے استفادہ کرتے ہوئے سیدنا علیؓ کی زندگی کے حالات کی آڑ میں تاریخِ اسلام کی مختصر مگر جامع تاریخ کی جھلکیاں بھی پیش کی ہیں۔ یہ مقالہ در اصل ان کے ایم اے (اسلامیات) کی تھیسس پر مشتمل ہے جس کی تکمیل انھوں نے 2003ء میں شعبۂ اصول الدین کلیہ معارف اسلامیہ جامعہ کراچی سے کی ہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے سوانحِ حیات اور تاریخ اسلام کے اہم واقعات کے حوالے سے یہ ایک مستند مقالہ ہے جس میں طالب علموں کے ساتھ ساتھ عام قارئین کے لیے بھی نہایت قیمتی اور اہم معلومات موجود ہیں۔ اس کے مطالعہ سے رسولِ مہربانؐ کی حیاتِ طیبہ کے اہم واقعات اور ان کی دنیا سے پردہ کرجانے کے بعد کے تاریخی حالات نہایت مستند حوالوں کے ساتھ عام فہم انداز میں تحریر کیے گئے ہیں جس کے لیے صابرہ بی بی کی علمی و تحقیقی کاوش قابلِ تعریف ہے۔
اس مقالہ کی کتابی صورت میں اشاعت مستحسن ہے۔ عام طور پر اس طرح کے مقالے جو ایم اے، ایم فل یا پی ایچ ڈی کی سطح کے ہوتے ہیں، کی اشاعت کا اگر کتابی شکل میں اہتمام نہ کیا جائے، تو وقت گزرنے کے ساتھ یہ اہم تحقیقی اور علمی کام ضائع ہوجاتا ہے، لیکن کتاب کی صورت میں شائع ہونے کی وجہ سے یہ نہ صرف محفوظ ہوجاتا ہے بلکہ طالبِ علم اور عام قارئین بھی اس سے بہ وقتِ ضرورت استفادہ حاصل کرلیتے ہیں۔ میں اس اہم کام پر مصنفہ کو نیک خواہشات کے ساتھ مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ صابرہ بی بی کے اس علمی اور تحقیقی کام کو قبولیت عامہ عطا فرمائے، مصنفہ اور اس کے اساتذہ اور والدین کے لیے نجاتِ اُخروی کا باعث بنائے، آمین!
(نوٹ:۔ یہ کتاب سوات کے مشہور اشاعتی ادارہ شعیب سنز پبلشرز مینگورہ فون: 729448 نے خوب صورت گٹ اَپ کے ساتھ شائع کی ہے)

………………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے