377 total views, 3 views today

دنیا میں نہ کہیں خالص نیکی پائی جاتی ہے اور نہ بدی۔ ہم انسان عیب سے پاک نہیں۔جب ہم دیکھتے ہیں کہ کسی شخص میں ایسی خوبیاں پائی جاتی ہوں جو عام طور پر دوسروں میں نہ ہوں اور جن کا ہونا عجائبات اور نوادر میں سے ہوں، تو ایسے شخص کا ذکر نہ کرنا بخل ہے۔ اس حوالے سے میرااشارہ سوات کے ادب اورفنونِ لطیفہ کے استاد فضل ربی راہی ؔ کی طرف ہے۔
فضل ربی راہی ؔ نہایت بااخلاق اور پاک سیرت انسان ہیں۔ ان کے ہاں تکبر بالکل نہیں پایا جاتا۔ ہر ایک سے خندہ پیشانی سے ملنا ان کی مجبوری ہے۔ صوم و صلوٰۃ کے پابند وقار اور متانت کو کبھی ہاتھ سے نہ جانے دینے والے،شگفتہ بیاں، بے تکلف اور ہریالی طبیعت کے مالک ہیں۔ سوات میں بہت کم ایسے ادیب اور شاعر ہوں گے جو انہیں نہ جانتے ہوں۔ آپ کے قلم کو اللہ تعالیٰ نے ایسا جوہر عطا کیا ہے جس کے سامنے بڑی بڑی تصانیف کمزور دکھائی دیتی ہیں۔ راہیؔ صاحب گویا قلم ہاتھ میں لیے پیدا ہوئے۔ آپ ایسے ادیب ہیں جو دوسرے ادیبوں کی عقلیت پسندی کو تکمیلی شان عطا کرنے کے بعد عشق و جنوں کی ارتقائی منزلوں کی سیر بھی کراتے ہیں۔ یہ فرائض انہوں نے مختلف کتابوں پر تبصرے اور تقاریظ لکھتے ہوئے ادا کیے ہیں۔ اُردو ادب کے حوالے سے وہ سوات کے ’’سر سیّد احمد خاں‘‘ ہیں۔ نامور صحافیوں نے ان کے کردار سے پھوٹنے والی حقائق پر مہرِتصدیق ثبت کرتے ہوئے ہمیشہ انہیں بے باک صحافی بھی کہا ہے۔
راہیؔ صاحب کاروبار بھی احسن طریقہ سے کرتے ہیں۔ ان کی دکان میں ہر آنے والے کو ان کامسکراہٹ بھرا چہرہ اپنی طرف راغب کرتا ہے۔ گاہک کے ساتھ ان کا رویّہ انتہائی مشفقانہ ہوتا ہے۔ کمپوزنگ،سکیننگ اور پریس کے حوالے سے تمام سوات میں آپ واحد کاریگر ہیں جن پر ہر کوئی آنکھ بند کرکے بھروسا کرتا ہے۔ کتابیں چھاپنے میں ملاکنڈ ڈویژن میں آپ ثانی نہیں رکھتے۔ آپ کاروبار کرنا جانتے ہیں اور کاروبار کے ساتھ ساتھ یاری دوستی نبھانا بھی خوب جانتے ہیں۔ آپ نے اپنے علم اور ذہانت کی وجہ سے ادبی دنیا میں ایک نئی شان پیدا کی ہے۔ بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سوات میں جس طرح شعرا کے شاگرداپنے اُستاد سے سیکھ کربعد میں ان کا مقام بھول جاتے ہیں اور ان کے پیچھے باتیں کرتے تھکتے نہیں، اسی طرح راہیؔ صاحب کے بھی بہت سے نا ہنجان شاگرد انہیں کم فہم جب کہ خود کو ذہین سمجھنے لگے ہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ان کی دکانیں ان کی مخلصانہ کوششوں کا نتیجہ ہیں، یہ الگ بات ہے کہ وہاں گاہک کو دھوکا دینا، ان کے ساتھ گتھم گتھا ہو نا اور ان کو بے وقوف سمجھ کر ان سے حد سے زیادہ کمانا ان کا شیوہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں نے دوبارہ راہیؔ صاحب سے رجوع کرنا شروع کیا ہے جب کہ یہ راہی ؔصاحب کاوہ گاہک ہے جسے انہوں نے اپنے انہی شاگردوں کے پاس اس غرض سے بھیجا کہ ان کا کاروبار پروان چڑھے، مگر چوں کہ مروّت کا زمانہ نہیں رہا، اس لیے لوگوں کو ان پر سے اعتماد اُٹھ گیا ہے۔
ہمیں راہیؔ صاحب کی زندگی سے سبق حاصل کر نا چاہیے۔ ہم میں سے کتنے ہیں جنہوں نے راہی صاحب کی طرح اپنی عمر علم و ادب کی خدمت میں وقف کر دی۔ اس راہ میں مخدوم بننا آسان ہے، مگر خادم بننا بہت دشوار۔ آپ کی زندگی صاف بتاتی ہے کہ شوق اور محنت عجیب چیزیں ہیں جنہیں ہم کمال کہتے ہیں، وہ ان دونوں کا خانہ زاد ہیں۔
ادب کے حوالے سے انفرادی اور اجتماعی حیثیت سے راہیؔ صاحب کے احسانات سوات اور اہلِ سوات پر بے شمار ہیں، اس کے علاوہ صحافت کے حوالے سے بھی آپ نامور صحافیوں کی صف میں شامل ہیں۔ آپ کو معاملات اور واقعات پر ایسا عبور حاصل ہے کہ بڑے بڑے پیچیدہ معاملات کی تہہ تک باآسانی پہنچ جاتے ہیں۔ مجھے اپنے زمانے کے نامور اصحاب اور بڑے اشخاص سے ملنے کا اتفاق ہوا ہے، جتنے نیک خیالات اور دردِ دل میں نے راہیؔ صاحب میں دیکھا، دوسروں میں کم دیکھنے کو ملا۔ اس قدر بڑے ہو نے پر بھی چھوٹے بڑے سب سے جھک کر اور خلوص سے ملنا ان کا خاصا ہے۔جو کوئی ان سے ملتا ہے، اس کے حسنِ سلوک سے ان کا مداح بن جاتا ہے۔ تعصب ان میں نام کو نہیں۔ انصاف کی بات ہمیشہ ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں۔ مہمان کے آنے سے بہت خوش ہو تے ہیں اور سچے دل سے خاطر تواضع بھی کرتے ہیں۔ دوسروں کو تکلیف میں دیکھ کر بے چین ہو جاتے ہیں اور ان کی تکلیف رفع کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ دنیاوی جاہ و مال کی ہوس نہیں کرتے، جس حالت پر ہیں، قانع ہیں اور خوشی خوشی زندگی بسر کرتے ہیں۔ طبیعت میں حیا ہے۔ ہم عصر ادیبوں کی داد رسی کرتے ہیں اور ان کا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔ راقم کو ان سے دلی لگاؤ ہے،اور کیوں نہ ہو آپ جو اس تہذیب کا بے مثل نمونہ ہیں۔ ان کے پاس بیٹھنے سے لگتا ہے کہ کوئی چیز ہم پر اثر انداز ہو رہی ہے ۔
راہیؔ صاحب سے کیسی بدمعاملگی اور بدسلوکی کیوں نہ ہو، آپ تعلق میں کبھی فرق آنے نہیں دیتے۔ میرے خیال میں بہت سے صاحبِ علم و فضل، باکمال اور نیک دل لوگ موجود ہیں، لیکن راہیؔ صاحب کا مقام ان سب سے جدا ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اچھی صحت دے اور ان کا قلم جو ادب کی خدمت کے لیے وقف ہے، میں اور بھی زور پیدا کرے،آمین!

……………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے