705 total views, 1 views today

ادب کی تاریخ کے جائزے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ادب میں مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں نے بھی ہر صنفِ ادب میں کمال کے جوہر دکھائے ہیں۔ ایک طرف مرد حضرات نے عورت کو اگر ماں، بہن، بیٹی اور محبوبہ کی شکل میں پیش کیا ہے، تو دوسری طرف عورتوں نے بھی مردوں کے ہر زاویۂ نظر کی بھر پور پرتیں اتاری ہیں۔ اردو میں عورت کے جذبات کی صحیح عکاسی کرنے میں پروین شاکر، ادا جعفری اور شبنم شکیل جیسے معتبر نام موجود ہیں، تو پشتو میں بھی زیتون بانو، سلمیٰ شاہین اور حسینہ گل جیسے توانا نام بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ بھی خواتین لکھاریوں کی اِک لمبی کھیپ موجود ہے، جنہوں نے عورتوں کے جذبات، احساسات اور مسائل کو بڑے دلآویز اور والہانہ انداز میں پیش کرکے ادب کے دامن کو وسیع کیا ہے۔
سوات کی وادی بھی اس حوالے سے بڑی مردم خیز ہے۔ یہاں اگر اِک طرف مردانہ آوازوں نے پختونخوا کے طول و عرض میں بازگشت کرکے اپنا آپ جتایا ہے، تو دوسری طرف اسی سرزمین سے مختارہ بیگم، کشرہ بیگم، بخت پری اور افسانہ جیسی آوازوں نے بھی اپنی موجودگی کا احساس دلایا ہے۔ بیچ میں جمود کا دور بھی آیا۔ جب جبر، حالات، مذہب، پردہ، غیرت اور اسی طرز کے دیگر عمرانی مسائل نے نسوانی آوازوں کو کس حد تک دبائے رکھا، لیکن یہ چنگاریاں خاکستر میں بجھی نہیں۔ انہی چنگاریوں میں اِک شعلہ بنتی گل رعنا تبسم بھی ہیں جنہوں نے ’’خال می راتہ داغ شو‘‘ کی صورت میں اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلاکر اس جمود کو توڑنے کی بھر پور کوشش کی ہے۔ لکھتی ہیں:
تبسمؔ اوخایہ دے خپلو پختنو رونڑو تہ
چی شی کولے پہ پختو کے ستاسو خور لیکل
تبسمؔ بلند حوصلے والی اِک جرأت مند خاتون ہیں، جنہوں نے خاندانی، سماجی اور معاشرتی قید و بند سے بغاوت کرتے ہوئے قلم کو اپنا ذریعۂ ابلاغ بنایا۔ انہوں نے اپنی ہی کہانی بیان نہیں کی بلکہ معاشرے میں چادر اور چار دیواری میں قید ہر اُس بے بس ماں، بہن، بیٹی کی فریاد کو زبان دی ہے جو ہزار پردوں میں گھٹ گھٹ کر سسک رہی ہے، بلک رہی ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ
زہ لور د حوا یمہ، انسان یم، آدم زادہ یم
دے جہان پہ ما آباد، خو زہ پکے بربادہ یم
زما د کلی نہ ما اوشڑہ چی نوم دے اوشی
زما ذلت باندے ستا کیگی عزت، پیژنمہ
شوہرِ نامدار کی رحلت، اپنوں کی بے حسی اور معاشرے کی کج نظری نے اُن کا دل کرچی کرچی کردیا ہے، لیکن آپ مایوس نہیں ہوئیں۔ آپ نے کسی کے آگے دستِ سوال دراز نہیں کیا، کسی کا آسرا نہیں لیا بلکہ زندگی کے ساتھ ’’کمٹمنٹ‘‘ کرکے اپنی دنیا آپ پیدا کی۔ لکھتی ہیں
د تبسم بہ زڑہ ہم ھغہ وی، تر مرگہ پورے
بدل بہ نہ شی، کہ پہ بلہ دا جہان واوڑی
شاعرات عموماً جذبات کی نرم روی کی زیادہ قائل ہوتی ہیں، لیکن تبسمؔ کے کلام میں غم کی بہتات کی وجہ سے شدت اور مزاحمت کے اشارے بھی ملتے ہیں، جو داخلیت سے خارجیت کی طرف بڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔ پوری کتاب میں غم، حزن اور یاس کی فضا چھائی نظر آتی ہے۔ کتاب کا سیاہ ٹائٹل بھی غم ہی کی علامت ہے جب کہ سروق کی معصوم تصویر بھی غم ہی کی نشان دہی کرتی ہے۔ جس میں اِک یتیم اور بے سہارا بچی آگے بڑھنے سے پہلے اپنے ماضی کو مڑ کر دیکھتے ہوئے علامتی انداز میں آنسو بہاتی یہ کہتی دکھائی دیتی ہے کہ
خیال خو زما دا وو چی خیوہ سنگار می حق دے
حق چی رانہ واخستے شو، خال می راتہ داغ شو




کتاب کا ٹائٹل۔ (فوٹو: تصدیق اقبال بابو)

تبسمؔ نے کوئی ماورائی موضوعات نہیں باندھے بلکہ زمینی حقائق، معاشرتی مسائل اور طبقاتی جبر جیسے موضوعات ہی کا احاطہ کیا ہے۔ ذرا اس شعر میں دیکھیے کہ کس کمال ہنر مندی سے انہوں نے اپنے دل کی ترجمانی کو صنعتِ تلمیح کے فنی قالب میں ڈھال کر بہترین شعر تخلیق کیا ہے۔ ملاحظہ ہو:
ستا غم چنگیز زما د زڑہ پہ خیبر
لارہ لیدلی دہ، پہ دے رازی
اسی غزل میں انہوں نے خود کو تسلی دیتے ہوئے صنعتِ تضاد میں یہ شعر باندھا ہے کہـ
اودہ شہ اے د تبسمؔ احساسہ
پہ ژوند کے دا تودے سڑے رازی
ذرا تعلی کا شعر بھی ملاحظہ ہو، جس میں کسی حد تک حقیقت کا پرتو بھی دکھائی دیتا ہے
ور یادوی ہر یو میئن تہ خپلہ خپلہ قصہ
د تبسمؔ چی د غزل ہرے مصرعے تہ گورم
جب علامت اور مزاحمت کی طرف آتی ہیں، تو ایسے خوب صورت اشعار بھی لکھتی دکھائی دیتی ہیں:
چا چی پہ سپینہ لار کے مونگ تہ دیوالونہ جوڑ کڑل
دا کس میلمہ دے، خو اختیار زمونگ د کور نہ اخلی
گلِ رعنا کی شاعری کی خاص بات اُن کا بھر پور اخلاص ہے۔ جس میں بیدار مغزی بھی ہے اور صحت فکر بھی۔ اُن کی شاعری کا حقیقت پسندانہ رُخ اگر اِک طرف حبِ وطن سے سرشار ہے، تو دوسری طرف اصلاحِ معاشرت اور آزادیٔ نسواں کا بھی طلب گار ہے۔ اُن کے کالم میں دل دوزی بھی ہے اور جگر سوزی بھی، آہ بھی ہے اور واہ بھی، رومان بھی ہے اور ہیجان بھی، گویا پورے مجموعے میں نازک جذبوں کی بھرپور صورت گری موجود ہے۔ جس نے نسائی لب و لہجے کے ساتھ مل کر اسے اور بھی دو آتشہ بنا دیا ہے۔
انہوں نے طویل بحروں اور سنگلاخ زمینوں سے اجتناب کیا ہے۔ نئی زمینوں کے ساتھ پرانی زمینوں کو بھی خوب برتا ہے۔ آپ کے ہاں سماجی شعور اور فکری ہم آہنگی باہم شیر و شکر ہیں۔ آپ نے جس طرح اپنے جذبات کی گرمی کو فنی اشاروں سے برت کر اظہار کا ذریعہ بنایا ہے، یہ قابلِ داد ہی نہیں ’’واجب الداد‘‘ بھی ہے۔
216صفحات پر مشتمل خوبصورت کاغذ اور بہترین گیٹ اَپ والی اس مجلد کتاب پہ روغانیؔ بابا، پرویش شاہین اور شیر زمان سیمابؔ جیسے اساتذہ کی تحریروں نے اس کی معتبریت پہ بھی مہرِ تصدیق ثبت کردی ہے۔

کتاب کی پشت پر ڈاکٹر شیر زمان سیماب کے تاثرات رقم ہیں۔ (فوٹو: تصدیق اقبال بابو)

ہماری دعا ہے کہ اُن کا قلم یونہی اپنی جولانیاں دکھاتا رہے۔ اور پشتو شعر و ادب کے دامن کو وسیع تر کر تا رہے۔

……………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے