64 total views, 2 views today

تحقیق و تحریر: ظفر سیّد
غالباً دنیا کے کسی اور شاعر کا اتنی زبانوں میں ترجمہ نہیں کیا گیا جتنا عمر خیامؔ کا کیا گیا۔
عمر خیامؔ کا شمار بلا مبالغہ دنیا کے مقبول ترین شاعروں میں ہوتا ہے۔ ان کی ہمہ گیر شہرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1970ء میں چاند کے ایک گڑھے کا نام، جب کہ 1980ء میں ایک سیارچے کا نام عمر خیامؔ کے نام پر رکھا گیا۔ یوجین اونیل، اگاتھا کرسٹی اور سٹیون کنگ جیسے مشہور ادیبوں نے اپنی کتابوں کے نام عمر خیامؔ کے اقتباسات پر رکھے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ خیامؔ کو زمانہ آج شاعر کی حیثیت سے جانتا ہے…… لیکن ان کے اپنے دور میں اور بعد میں کئی صدیوں تک انھیں ایک نابغہ روزگار عالم کی حیثیت سے زیادہ شہرت حاصل تھی۔ شبلی نعمانی اپنی کتاب شعر العجم میں لکھتے ہیں کہ خیام فلسفہ میں بو علی سینا کا ہم سر اور مذہبی علوم اور فن و ادب اور تاریخ میں امامِ فن تھا۔ جب کہ جی سارٹن نے اپنی سائنس کی تاریخ کی کتاب میں خیام کو ازمنہ وسطیٰ کے عظیم ترین ریاضی دانوں میں شمار کیا ہے۔
ویسے تو خیام کی اِکا دُکا رباعیاں کئی تذکروں اور دوسری کتابوں میں بکھری ہوئی مل جاتی ہیں۔ ان کا رباعیات کا پہلا نسخہ 1423ء میں مرتب ہوا، یعنی خیام کی وفات کے تقریباً تین سو برسوں بعد۔ اس کی وجہ سے مسائل یہ پیدا ہوئے کہ خیام کے نسخوں میں بہت سی رباعیاں ایسی بھی شامل ہوگئیں، جو اس کی کہی ہوئی نہیں تھیں۔
جدید دور میں اس موضوع پر بڑی دادِ تحقیق دی گئی ہے لیکن خیام کی رباعیوں کا اب تک کوئی غیر متنازع نسخہ سامنے نہیں آیا۔ خیام کے مشہور ایرانی محقق ڈاکٹر صادق ہدایت نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ایسی رباعیوں کی تعداد صرف 15 ہے جن کے بارے میں مکمل یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ خیام کی ہیں۔ جب کہ دوسرے اصحاب کے ہاں اس تعداد میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔
خیام کی بین الاقوامی شہرت کا زیادہ تر دار و مدار انگریز شاعر ’’ایڈورڈ فٹز جیرالڈ‘‘ کے اس ترجمے پر ہے جو اس نے رباعیاتِ عمر خیام کے نام سے کیا جو 15 جنوری 1859ء کو شائع ہوا۔ اس ترجمے کو انگریزی شاعری کے اعلا ترین شاہ کاروں میں شمار کیا جاتا ہے اور یہ نہ صرف انگریزی شاعری کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے، بلکہ سب سے زیادہ نقل کی جانے والی کتاب بھی یہی ہے۔ آکسفورڈ ڈکشنری آف کوٹیشنز میں اس کتاب سے 130 اقوال درج کیے گئے ہیں۔ یہ وہ کتاب ہے جس کی اشاعت کے بعد خیام کی شہرت جنگل کی آگ کی طرح چار دانگِ عالم میں پھیل گئی اور اس ترجمے کے ترجمے دنیا کی بیشتر بڑی زبانوں میں کیے گئے۔ حتیٰ کہ خیام کے کئی اُردو مترجمین نے بھی اصل فارسی کی بجائے اسی ترجمے کو مدِ نظر رکھا…… لیکن خیام کا سب سے پہلا ترجمہ اس وقت ہوا جب ’’فٹزجیرالڈ‘‘ نے خیام کا نام بھی نہ سنا ہوگا۔ یہ ترجمہ کیا تھا ’’راجا مکھن لال‘‘ نے جو دربارِ دکن سے وابستہ تھے اور نظام نصیر الدولہ نے انھیں راجا کا خطاب عطا کیا تھا۔ مکھن لال نے 1842ء میں رباعیاتِ خیام کا ترجمہ کیا، یعنی ’’فٹز جیرالڈ‘‘ سے 17 برس قبل۔ اس ترجمے کے دیباچے میں راجا صاحب فرماتے ہیں: ’’اس نومشقِ سخن، خوشہ چینِ اربابِ کمال راجا مکھن لال کو مدت سے تمنا یہ تھی کہ عند الفرصت اپنے ترجمہ فارسی رباعیات حضرت عمر خیام کا کہ اس بزرگ کے کلام میں سراسر معرفت اور حقیقت روشن کرتے ہیں، خلاصہ اس کا زبانِ ریختہ میں موافق اپنی استعداد کے رشتۂ تحریرِ نظم میں لاوے۔‘‘ (دکن میں اُردو، نصیر الدین ہاشمی۔ نظامِ دکن پریس)
’’فٹز جیرالڈ‘‘ کے ترجمے کی طرح راجا صاحب کا ترجمہ بھی خاصا آزاد ہے جس کی وجہ سے ان کی اُردو رباعیوں کو خیام کی رباعیوں سے ملانے میں دشواری پیش آتی ہے۔ ایک رباعی ملاحظہ کیجیے:
ہو فصلِ بہار میں وہ حور سرشت
یک کوزۂ مے پاس ہو اور ہو لبِ کشت
واللہ نہ پھر خیالِ جنت آوے
سمجھیں گے اس کو دوست گلزارِ بہشت
یہ رباعی ہے جو ’’فٹزجیرلڈ‘‘ کے ترجمے کی مشہور ترین رباعیوں میں سے ایک ہے:
Here with a Loaf of Bread beneath the Bough,
A Flask of Wine, a Book of Verse — and Thou
Beside me singing in the Wilderness —
And Wilderness is Paradise enow
راجا صاحب کی چند اور رباعیاں دیکھیے، جس میں انھوں نے سبکِ ہندی عناصر کو بھی ملا لیا ہے :
پہلے غمِ ہجر گرمیِ محفل تھا
چندے برکابِ شوقِ ہم منزل تھا
اے یار اب آ کے دیکھ تربت کو مری
یہ مشتِ غبار کچھ دنوں میں دل تھا
اور یہ کہ
افسوس کہ غم میں یہ جوانی گزری
یک دم نہ کبھی یہ شادمانی گزری
اب پیری میں ہو گی کیا عبادت ہم سے
بے یادِ خدا کے زندگانی گزری
جیسا کہ راجا مکھن لال کی مثال سے واضح ہے، ہندوستان میں عمر خیام کو قدیم ہی سے اہم مقام حاصل رہا ہے۔ شہنشاہ اکبر کے بارے میں مشہور ہے کہ انھوں نے یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ حافظ کے دیوان کے حواشی پر رباعیاتِ خیام تحریر کی جائیں۔
اب ہم چلتے ہیں جنوری 1960ء میں شائع ہونے والے ایک ایسے ترجمے کی طرف جس کے بارے میں یہ کہا گیا کہ اس میں مترجم خالق سے بھی آگے نکل گیا ہے۔ یہ ترجمہ پروفیسر واقف مراد آبادی نے کیا تھا اور اس قدر ہاتھوں ہاتھ لیا گیا کہ چند مہینوں کے اندر اندر اس کے چار ’’ری پرنٹ‘‘ شائع کرنا پڑے۔ پروفیسر واقف کی کتاب کے پیش لفظ میں پی یو کیمپ کالج دہلی کے وائس چانسلر دیوان آنند کمار نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ’’ اس کتاب میں’’خیام کی روح ہر جگہ نظر آتی ہے بلکہ اکثر مقامات پر شگفتگی اور بے ساختگی خیام کو آئینہ دکھاتی نظر آتی ہے۔‘‘
واقف کے ترجمے کی چند مثالیں دیکھیے :
ہے جام سے وابستہ جوانی میری
یہ مے ہے کلیدِ کامرانی میری
تم تلخ بتاتے ہو تو کچھ عیب نہیں
تلخ تو ہے عین زندگانی میری
پلا تو دے میرے ساقی نئی بہار کے ساتھ
عبث الجھتا ہے اس زہد کے سہار کے ساتھ
اجل ہے گھات میں دن زیست کے گزرتے ہیں
شرابِ ناب ہے موجوں میں بزمِ یار کے ساتھ
خیام کو آئینہ دکھانا تو الگ رہا، یہ رباعیاں تو رباعی کے عمومی فن پر بھی پورا نہیں اترتیں۔ رباعی کے فن میں آخری مصرع پنچ لائن کا حکم رکھتا ہے، اور رباعی کے بقیہ مصرعے گویا اس پنچ لائن کے لیے فضا تیار کرتے ہیں، لیکن واقف صاحب کے بعض ترجموں میں آخری مصرعے تک آتے آتے رباعی کی سانس پھول جاتی ہے ۔
رباعی چوں کہ انتہائی مشکل فن ہے، اور اس کی فنی نزاکتوں اور باریکیوں پر ہر کوئی قادر نہیں ہو سکتا۔ اس لیے اب ہم چلتے ہیں خیام کے ایک ایسے مترجم پر جو خود رباعی کے مستند استاد تھے۔ میرا اشارہ ہے خانوادہ غالب سے تعلق رکھنے والے شاعر صباؔ اکبر آبادی کی جانب۔ خیام کی ایک بہت خوب صورت رباعی ہے :
ایں یک دو سہ روز نوبت عمر گذشت
چون آب بجوے بار و چون باد بدشت
ہرگز غمِ دو روز مرا یاد نگشت
روز ی کہ نیامد ھست و روز ی کہ گذشت
صباؔ اس کا منظوم ترجمہ یوں کرتے ہیں:
ہے مدتِ عمر بس دو روزہ گویا
ندی کا سا پانی ہے کہ صحرا کی ہوا
دو دن کا کبھی غم نہیں ہوتا ہے مجھے
اک دن جو نہیں آیا ہے، اک دن جو گیا
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ صباؔ نے بہت عمدہ ترجمہ کیا ہے لیکن یہ رباعی خیام کی اعلا ترین رباعیوں میں شمار کی جاتی ہے اور اس میں جو زبردست نغمگی، سرمستی اور وارفتگی ہے، اس کا جواب صباؔ کے پاس نہیں ہے۔
صباؔکا ایک اور منظوم ترجمہ ملاحظہ ہو:
وہ جام جو تازہ جوانی دے دے
اس جام کو بھر کے یارِ جانی دے دے
لا جلد کہ ہے شعبدہ دنیا ساری
ہو جائے گی ختم یہ کہانی، دے دے
صبا کا یہ ترجمہ نسبتاً بہتر ہے لیکن اس میں بھی وہ چستی اور بے ساختگی کہاں جو فارسی رباعی سے چھلک رہی ہے۔
شاعری کا ترجمہ کرنا پلِ صراط پر چلنے سے کم نہیں۔ اس راہ پر چلتے چلتے بڑے بڑوں کے قدم ڈگمگائے ہیں، چناں چہ داغستان کے ملک الشعرا رسول حمزہ توف کا قول مشہور ہے کہ ’’شاعری کا ترجمہ قالین کا اُلٹا رخ ہوتا ہے۔‘‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ نثر کے برعکس شاعری میں زبان صرف خیالات کی ترسیل کے آلے کا کام نہیں کرتی بلکہ زبان بذاتِ خود شاعری کا حصہ ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ترجمے میں صرف مطلب ہی منتقل ہو سکتا ہے، خود زبان پیچھے رہ جاتی ہے۔ اسی لیے بعض ناقدین کا خیال ہے کہ ادب کا ترجمہ کسی اور زبان میں ناممکن ہے۔ تاہم اُردو مترجمین کو ایک سہولت یہ حاصل ہے کہ وہ اپنے تراجم میں فارسی کی لفظیات کو کسی حد تک برقرار رکھ سکتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ان میں سے کئی کی کوششیں کچھ زیادہ سودمند ثابت نہیں ہو سکیں۔
ایم ڈی تاثیر اُردو ادب کی مشہور شخصیت ہیں۔ ان کے نامہ اعمال میں چند پردہ نشینوں کے علاوہ عمر خیام کی کچھ رباعیوں کے نام بھی آتے ہیں۔
اٹھ جاگ کہ شب کے ساغر میں سورج نے وہ پتھر مارا ہے
جو مے تھی وہ سب بہہ نکلی ہے ، جو جام تھا پارا پارا ہے
مشرق کا شکاری اٹھا ہے ، کرنوں کی کمندیں پھینکی ہیں
ایک پیچ میں قصرِ اسکندر،اک پیچ میں قصرِ دارا ہے
آپ نے دیکھا کہ اگرچہ یہ ترجمہ رواں دواں اور چست ہے، تاہم اسے خیام کا ترجمہ نہیں کہا جا سکتا، بلکہ تاثیر صاحب نے فٹزجیرلڈ کے انگریزی ترجمے کا ترجمہ کیا ہے۔
اردو کے رندِ خراباتی شاعر عبد الحمید عدم نے 1960ء میں ’’رباعیاتِ حکیم خیام‘‘ کے نام سے خیام کا ترجمہ کیا۔ کتاب کے دیباچے کے مطابق عدم کو اس کام کی ترغیب ایم ڈی تاثیر صاحب نے دلائی تھی۔
عدمؔ نے اپنے ترجمے میں یہ اختراع کی کہ انھوں نے اکثر رباعیوں کا ترجمہ رباعی کی شکل میں نہیں بلکہ قطعے کی شکل میں کیا ہے، جس میں تین کی بہ جائے دو قوافی استعمال کیے گئے ہیں۔
یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ خیام کے اکثر مترجموں کے لیے فارسی رباعی کے تین قوافی کو نبھانا بے حد مشکل ثابت ہوا ہے، جس کی وجہ سے بہت جگہوں پر رباعی، رباعی نہیں…… بلکہ قافیہ پیمائی بن کر رہ جاتی ہے۔ لیکن عدمؔ نے قطعے کی ہیئت استعمال کرکے اور دو قافیے برت کر روانی اور بندش کی چستی کی خوبیاں حاصل کر لی ہیں:
جاگ ساقی کہ حجلۂ شب میں
ایسا کنکر سحر نے مارا ہے
جامِ درویش کی بساط ہی کیا
جامِ سلطاں بھی پارا پارا ہے
اب واقفؔ مراد آبادی کو دیکھتے ہیں کہ انھوں نے اسی رباعی کو کیسے اُردو کا چولا پہنایا ہے:
اب صبح ہوئی، دیر نہ کر، جاگ شِتاب
ہنگامِ صبوحی ہے یہی محوِ خواب
یوں وقت نہ کھو، جلدی سے اٹھ کر پی مے
خورشید نے خود جام میں ڈھالی ہے شراب
اس میں کوئی شک نہیں کہ واقفؔ صاحب کا ترجمہ نک سک سے درست اور خوب رواں دواں ہے۔
اب صباؔ اکبر آبادی کے ترجمے پر بھی ایک نظر ڈالتے چلیں:
خورشید نے پھینکی ہے کمندِ سحری
خسرو نے اُڑائی دن میں شیشے کی پری
مے پی کہ سحر خیز پرندوں کی صدا
اَسرار کی کرتی ہے ترے پردہ دری
جدید اُردو نظم کے عظیم شاعر میرا جیؔ نے جہاں دنیا بھر کے شعرا کے اُردو میں ترجمے کیے، وہیں انھوں نے ’’خیمے کے آس پاس‘‘ کے نام سے رباعیاتِ خیام کا ترجمہ بھی کیا۔ جیسے کہ نام سے ظاہر ہے…… یہ ترجمہ اصل کی ڈھیلی ڈھالی پیروی ہے۔ تاہم میرا جیؔ کا کمال یہ ہے کہ اکثر مقامات پر وہ خیام کو ہندوستانی لبادہ پہنانے میں کامیاب رہتے ہیں۔ یہ وہی کام ہے جو ’’فٹزجیرلڈ‘‘ نے انگریزی میں سرانجام دیا تھا:
جاگو، سورج نے تاروں کے جھرمٹ کو دور بھگایا ہے
اور رات کے کھیت نے رجنی کا آکاش سے نام مٹایا ہے
جاگو اب جاگو، دھرتی پر اس آن سے سورج آیا ہے
راجا کے محل کے کنگورے پر اُجّول کا تیر چلایا ہے
مجید امجدؔ نے غالباً خیامؔ اور میراجیؔ دونوں سے فائدہ اٹھا کر بہت عمدہ شعر نکالا ہے:
کس کی کھوج میں گم صم ہو، خوابوں کے شکاری جاگو بھی
اب آکاش سے پورب کا چرواہا ریوڑ ہانک چکا
میراجیؔ نے رباعی کی ہیئت کے بھاری پتھر کو ہاتھ ہی نہیں لگایا۔ چوں کہ وہ گیت کے شاعر تھے، اس لیے انھوں نے گیت کی لمبی اور مترنم بحر کا انتخاب کیا۔
جیسا کہ مَیں نے ہندوستانی چولا پہنانے کی بات کی تھی…… اس کی ایک اور مثال دیکھیے:
اس بستی میں یا اس بستی، ہر بستی کی ریت یہی
باری باری گرتے پتے اور ڈالی مرجھاتی ہے
پیالی میں میٹھی کڑوی اور مہنگی سستی کی ریت یہی
بوند بوند میں جیون مدھرا، پل پل میں رستی جاتی ہے
ہندوستانیت کی بات آئی ہے، تو قارئین کی دلچسپی کے لیے عرض کرتا چلوں کہ ہندی کے مشہور شاعر اور امیتابھ بچن کے والد ’’ہری ونش رائے بچن‘‘ نے بھی ’’خیام کی مدھو شالا‘‘ کے نام سے رباعیاتِ خیام کا ترجمہ کیا ہے۔ تقابل کی غرض سے ’’خورشید کمندِ صبح‘‘ والی رباعی کا ترجمہ پیشِ خدمت ہے :
اوشا نے پھینکا روی پاشانڑ
نشا بھاجن میں، جلدی جاگ
پریئے ، دیکھو پا یہ سنکیت
گئے کیسے تارک دل بھاگ
اور دیکھو
اوہیری نے پورب کے لال
پھنسا لی سلطانی مینار
بچھرا کیسا کرنوں کا جال
جیسا کہ اس مثال سے بھی ظاہر ہے، ’’خیام کی مدھو شالا‘‘ میں بچنؔ کو کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔ تاہم اس کے بعد بھی بچنؔ، خیامؔ کے جادو سے باہر نہیں نکل سکے اور انھوں نے ایک اور شعری مجموعہ ’’مدھو شالا‘‘ کے نام سے لکھا…… جو ان کی مشہور ترین کتاب ہے۔ یہ خیامؔ کا ترجمہ تو نہیں…… لیکن اس میں جگہ جگہ خیامؔ کا رنگ صاف چھلکتا ہے :
لالایت ادھاروں سے جس نے ہائے نہیں چومی ہالا
ہرش وِکانپت کر سے جس ن ے، ہا، نہیں چھوا مدھو کا پیالا
ہاتھ پکڑ لجّت ساقی کا پاس نہیں جس نے کھینچا
وِیئرتھ سُکھا ڈالی جیون کی اس نے مدھو مے مدھو شالا
براہِ راست ترجمہ نہ سہی، لیکن بچن یہاں خیام کی اس مشہور رباعی سے متاثر ہوئے ہیں:
آمد سحرے ندا از مے خانہ ما
کائے رندِ خراباتی و دیوانہ ما
برخیز کہ پر کنیم پیمانہ زمے
زاں پیش کہ پر کنند پیمانہ ما
آغا شاعر قزلباش نے 1932ء میں ’’خم کدہ خیام‘‘ کے نام سے خیامؔ کی 200 منتخب رباعیوں کا اُردو میں ترجمہ کیا تھا۔ درجِ بالا رباعی کا ترجمہ ملاحظہ کیجیے:
آئی یہ صدا صبح کو مے خانے سے
اے رندِ شراب خوار، دیوانے سے
اٹھ جلد بھریں شراب سے ساغر ہم
کم بخت چھلک نہ جائے پیمانے سے
ملک الکلام نے اسی رباعی کا یوں ترجمہ کیا ہے :
اک صبح ندا آئی یہ مے خانے سے
اے رندِ خرابات، مرے دیوانے
قبل اس کے مے ِ ناب سے بھر لے ساغر
پیمانۂ تن سے بادۂ جاں چھلکے
واقف مراد آبادی:
ہوئی سحر تو پکارا یہ پیرِ مے خانہ
ارے او مست، کہاں ہے سدا کا دیوانہ
بلانا اس کو کہ جلدی سے اس کا جام بھریں
مبادا موت نہ بھر ڈالے اس کا پیمانہ
ایک بار پھر واقفؔ کا ترجمہ بہت عمدہ اور کامیاب ہے۔
عدمؔ کو ملاحظہ فرمائیں:
کل صبح خرابات سے آئی یہ ندا
اٹھ جاگ، صراحی مے ِ خنداں کی اٹھا
کب ٹوٹ کے ہو جاتا ہے ریزہ ریزہ
پیمانۂ ہستی کا نہیں کوئی پتا
اسی رباعی کا فٹزجیرلڈ نے ایسا ترجمہ کیا ہے جس کے سامنے اُردو تراجم کملا جاتے ہیں:
Dreaming when Dawn’s Left Hand was in the Sky
I heard a Voice within the Tavern cry,
Awake, my Little ones, and fill the Cup
Before Life’s Liquor in its Cup be dry
خیامؔ کی رباعیوں کا ترجمہ اس لیے بھی مشکل ثابت ہوتا ہے کہ ان کی ایک خصوصیت وہ ہے جسے اردو کلاسیکی اصطلاح میں ’’کیفیت‘‘ کہا جاتا ہے۔ کیفیت والا شعر سن کر اس کے الفاظ اور معنی کی طرف ذہن نہیں جاتا بلکہ یہ دل کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔ یوں سمجھیے کہ معنی آفرینی والے شعر کو سن کر زبان سے ’’واہ‘‘ نکلتی ہے، جب کہ کیفیت والا شعرسننے کے بعد دل سے ’’آہ‘‘ نکلتی ہے۔ ظاہر ہے کہ معنی کا ترجمہ آسان ہے…… اور کیفیت کا بہت مشکل……! لیکن مَیں سمجھتا ہوں کہ عدمؔ کے بعض کامیاب ترجموں میں خیامؔ کی کیفیت کسی حد تک عود کر آئی ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ عدمؔ خود بھی بنیادی طور پر کیفیت کے شاعر تھے :
سلسلہ تیری میری باتوں کا
پسِ پردہ ہے جو بھی جاری ہے
پردہ اٹھا، تو آگہی ہو گی
پردہ داری ہی پردہ داری ہے
عدمؔ ہی کی ایک اور مثال پر اپنی تحریر کا اختتام کرتا ہوں:
نوجوانی کے عہدِ رنگیں میں
جز مے ِ ناب اور کیا پینا
ایک ہی خاصیت ہے دونوں کی
تلخ ہے جام، تلخ ہے جینا
………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔