37 total views, 1 views today

لاہور کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ہندوستان میں ’’لاہور‘‘ ہی کے نام سے فلم بنی جس کے ہیرو ’’کرن دیوان‘‘ تھے۔ لاہور برصغیر کا وہ قابلِ فخر شہر ہے جسے آج بھی اُسی محبت سے یاد کیا جاتا ہے جو تقسیم 1947ء سے قبل تھی۔ کراچی میں ہمارے دوست سجاد احمد سجاد صحافی ہیں۔ اُنھوں نے کئی سال قبل اس موضوع پر ریسرچ کے سلسلے میں مدد چاہی۔ پی ٹی وی میں ہمارے ایک پیارے دوست انجینئر طارق حسین ہوا کرتے تھے، وہ لاہور کے عاشق تھے۔ پیدائشی طور پر اوکاڑہ کے تھے مگر راولپنڈی میں رہتے تھے۔ ویسے اکثر لاہور ہی میں پائے جاتے تھے۔ انہوں نے بھی اس ریسرچ میں ہماری مدد بڑی خوش دلی سے کی۔ لاہور میں اب لاہوریے کم اور مضافاتی زیادہ ہیں۔ لاہور والے لاہوریا کہلوانے میں جرمنوں کی طرح فخر کرتے ہیں، کوفیوں کی طرح شرماتے نہیں۔ لاہور کو ہر کوئی اپنے اپنے انداز میں دیکھتا اور سمجھتا ہے۔ لاہور کی قدر تو ہندوستان جا کر محسوس ہوتی ہے جہاں ہر کوئی صرف اور صرف لاہور ہی کی باتیں کرنا پسند کرتا ہے۔
لاہور کے بارے میں پہلا فلمی نغمہ 1948ء میں ہندوستان میں ریلیز ہونے والی فلم ’’ہیر رانجھا‘‘ کا تھا۔ اس فلم کی موسیقی تین موسیقاروں عزیز خان، شرما جی (بعد میں موسیقار خیام کے نام سے جانے گئے) اور رحمان ورما نے ترتیب دی۔ گیت کے بول تھے :
شہروں میں سے شہر سُنا تھا، شہر سُنا لاہور
ملے جو میرا چھیل چھبیلا کچھ نہ مانگوں اور
لاہور کے بارے میں ایک اہم ترین گیت 1956ء میں ریلیز ہونے والی پنجابی فلم : ’’گُڈی گُڈا‘‘ کے لیے ولی صاحب نے لکھا۔ موسیقار بابا جی اے چشتی ہمارے قریب ہی بسطامی روڈ، سمن آباد ، لاہور میں رہتے تھے۔ گلوکاران منور سلطانہ اور عبدالشکور بیدل تھے۔ اورگانے کے بول یہ تھے :
نئی ریساں شہر لہور دیاں
سُن گلاں بڑے غور دیاں
اے داتا صاحب دی نگری اے
اے پُھلاں وانگوں سجری اے
ایتھے بگڑیاں گلاں سوردیاں
نئی ریساں شہر لہور دیاں
ایتھے سر اقبال دا سایہ اسے
جنھے پاکستان سمجھایا اے
اس فلم ’’گُڈی گُڈا‘‘ میں اُس زمانے کے لاہور کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس گانے میں بھی لاہور کی منظر کشی کی گئی ہے۔
فلم ’’کنواری بیوہ‘‘ بھی1956ء ہی میں ریلیز ہوئی۔ اس گیت کے گلوکار عنایت حسین بھٹی اور کوثر پروین تھے۔ نغمہ نگار طفیل ہوشیار پوری تھے جو ماہنامہ ’’محفل ‘‘کے نام سے ایک پرچہ بھی نکالتے تھے، رائل پارک لاہور سے۔ موسیقی فتح علی خاں (ستار نواز اُستاد نفیس خان کے والد)کی تھی۔
ہے آرزو کہ گزرے سنڈے تیری گلی میں
منڈے تیری گلی میں
بیچا کریں گے آ کر انڈے تیرے گلی میں
سنڈے تیری گلی میں
وہ دشمنِ محبت یعنی کہ میری چاچی
جانے ہے جس کو دنیا لاہور تا کراچی
کھائے نہ انڈے والا ڈنڈے تیری گلی میں
سنڈے تیری گلی میں
طفیل ہوشیار پوری کے بارے میں حبیب اللہ اُوج ؔصاحب نے بتایا تھا کہ شہرت کے بہت شوقین تھے۔ ایک بار اپنے کسی شاگرد شاعر کے ساتھ سائیکل پر جا رہے تھے۔ سائیکل سے گر پڑے۔ بھاری تن و توش کے مالک تھے۔ شاگرد نے انہیں سڑک سے اُٹھایا۔ کچھ زیادہ چوٹ نہیں لگی تھی مگر شاگرد سے کہا کہ مجھے روزنامہ ’’امروز‘‘ لے چلو، اپنے حادثے کی خبر لگوانی ہے۔ شاعر شاگرد کو بڑی حیرت ہوئی مگر مرتا کیا نہ کرتا۔ یہ پھٹیک بھی مزید اُس پر پڑی۔
فلم ’’نغمۂ دل‘‘ جو 1959ء میں ریلیز ہوئی، اُس کے ایک گیت کے آخری انترے میں لاہور کا تذکرہ ملتا ہے۔ شاعرطفیل ہوشیار پوری ہی تھے۔ موسیقی جی اے چشتی کی تھی اور گلوکاران زبیدہ خانم اور غلام رسول تھے۔گیت کے بول تھے :
او آ جا میرے دل کا ہے خالی مکان
او آ جا میرے دل کا ہے خالی مکان
تو میرا کہنا مان لے دلبر تجھے میں لے چلوں لاہور
فلم میں کام کریں گے، محبت عام کریں گے
کھائیں گے مکھن توس
تو بن جانا صبیحہ خانم
اور میں بنوں گا سنتوش
او آ جا میرے دل کا ہے خالی مکان
1963ء کی ہندوستانی فلم: ’’پیارکا بندھن‘‘ میں ہمیں لاہوری تانگے کا ذکر ملتا ہے۔ گلوکار محمد رفیع ہیں۔ شاعر ساحر لدھیانوی ہیں اور موسیقار روی ہیں :
تانگہ لاہوری میرا، گھوڑا پشوری میرا
بیٹھ میاں جی، بیٹھ لالہ
میں ہوں البیلا تانگے والا
پنجابی فلم: ’’ڈاچی‘‘ (1964) میں گلوکار مسعود رانا نے یہ مشہور گیت گایا جو سپر پنجابی ہیرو خوبرو اکمل پر پکچرائز ہوا۔
ٹانگا لاہور دا ہوے تے بھانویں جھنگ دا
ٹانگے والا خیر منگدا
پنجابی فلم : ’’اصغرا‘‘ (1971) میں میڈم نورجہاں نے خواجہ پرویز کا لکھا ہوا گانا، طافو کی موسیقی میں گا کر دھوم مچا دی :
مُنڈا شہر لاہور دا میرے دل تے تیر چلائے
ایسے ہی گانوں کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اپنے وقت بچے بچے کی زبان پر ہوتا تھا۔ یہ گانا مستنصر حسین تارڑ بھی گاتے تھے۔ حالاں کہ وہ گکھڑ (جو کالیاں) کے پیدائشی ہیں۔
پنجابی فلم : ’’وحشی گجر‘‘ (1978) کے لیے نورجہاں نے خواجہ پرویز کا لکھا ہوا گانا، طافو کی موسیقی میں گایا :
لاہور شہر تو جنج چڑھی،تے پشاور نوبت کھڑکے
کراچی تک دل دھڑکے
ان نغمات کی قدر و قیمت یہ ہے کہ یہ ہماری روح کی غذا ہیں اور ہمارے اندر کے بچے کو مرنے نہیں دیتے۔ اپنے اندر کے بچے کو زندہ رکھنا اور بہلاتے رہنا بڑا ضروری ہے، ورنہ روکھی پھیکی زندگی مزید کٹھن اور بے رنگ دکھائی دینے لگتی ہے اور ہمیں بے حسی کی طرف لے جاتی ہے۔
……………………………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے