688 total views, 6 views today

مرثیہ عربی لفظ ’’رثا‘‘ سے بنا ہے جس کے لغوی معنی ’’مرنے والے کا ذکرِ خیر‘‘ کے ہیں۔ شاعری کی اصطلاح میں مرثیہ وہ صنفِ سخن ہے جس میں کسی مرنے والے کی تعریف و توصیف بصد حسرت و غم بیان کی جاتی ہے۔ روایتی معنوں میں مرثیہ سے مراد وہ مسلسل نظم ہے جس میں حضرت امام حسینؓ اور دیگر شہدائے کربلا کے فضائل اور مصائب کا ذکر کیا جاتا ہے۔ دیگر زبانوں کی طرح اُردو زبان میں بھی مرثیہ کا مروجہ مفہوم یہی ہے۔
مرثیے کی چار قسمیں ہیں: رسمی مرثیہ، قومی مرثیہ، شخصی مرثیہ اور مذہبی مرثیہ۔
رسمی مرثیہ:۔ وہ مرثیہ جو کسی ایسی شخصیت کی وفات پر لکھا جائے جس کی حیثیت ملکی یا بین الاقوامی ہو ’’رسمی مرثیہ‘‘ کہلاتا ہے۔ مثلاً قائد اعظم اور علامہ اقبال کے بارے میں لکھی جانے والی ایسی بے شمار نظمیں جن میں ذاتی دکھ کی بجائے اجتماعی غم کا اظہار ہوتا ہو، رسمی مرثیہ کے زمرے میں آتا ہے۔
قومی مرثیہ:۔ اس میں اور رسمی مرثیہ میں معمولی سا فرق ہے۔ رسمی مرثیہ میں جہاں کسی ایک قومی رہنما کے اپنے درمیان سے اُٹھ جانے پر اجتماعی غم کا اظہار کیا جاتا ہے، وہاں قومی مرثیہ میں ایک ملک کے چھن جانے یا آبادی کے ایک حصے کے بچھڑ جانے کا ذکر بڑے رنج و غم سے کیا جاتا ہے۔ مثلاً سقوطِ بغداد، سقوطِ ڈھاکہ پر لکھی گئی بہت سی نظمیں قومی مرثیہ ہی کے زمرے میں آتی ہیں۔ اسی طرح اقبال کا ’’بلادِ اسلامیہ کا مرثیہ‘‘ بھی اس کی عمدہ مثال ہے۔
شخصی مرثیہ:۔ مذہبی مرثیہ کے بعد مرثیے کی جو قسم مرثیہ کے مخصوص مزاج کے قریب پہنچتی ہے، وہ شخصی مرثیہ ہے۔ مرثیے میں شہدائے کربلا کے بعد اگر کسی اور شخصیت کی وفات کا غم شاعر کی ذات کا سچا تجربہ بن سکتا ہے، تو وہ اس کے ماں باپ اور بیٹا ہوں یا انتہائی مخلص دوست یا پھر ایسا محسن ہو جس کے احسانات شاعر کی ذات پر بے پایاں ہوں۔ گویا کسی شخصی مرثیے کے لیے ضروری ہے کہ بات دل کی گہرائیوں سے نکلے ورنہ اس کی حیثیت رسمی مرثیہ سے زیادہ نہیں ہوگی۔ شخصی مرثیے میں غالبؔ کا ’’زین العابدین عارف کا مرثیہ‘‘، علامہ اقبال کا مرثیہ ’’والدہ مرحومہ کی یاد میں‘‘ اور حالیؔ کا ’’غالبؔ کا مرثیہ‘‘ چند خوبصورت مثالیں ہیں۔
مذہبی مرثیہ:۔ مذہبی مرثیہ کو آفاقی حیثیت حاصل ہے۔ اس میں خاص طور پر سید الشہدا حضرت امام حسینؓ اور ان کے اعزا و اقربا اور دیگر شہدائے کربلا کے فضائل اور شہادت کا ذکر ہوتا ہے۔ اس کے اجزائے ترکیبی یوں ہیں: چہرہ، سراپا، رخصت، آمد، رجز، جنگ، شہادت، بین اور دعا۔
(’’ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم‘‘ کی تالیف ’’اصنافِ اُردو‘‘ ، ناشر ’’بک کارنر‘‘، تاریخِ اشاعت 23مارچ 2018ء، صفحہ نمبر 95 تا 98سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے