90 total views, 3 views today

’’شہادت نامہ‘‘ نظم اور نثر دونوں میں ملتا ہے۔
اُردو میں ’’کربل کتھا‘‘ اور فارسی میں ’’روضۃ الشہدا‘‘ نثری شہادت نامے ہیں۔ اس میں امام عالی مقام حضرت امام حسینؓ اور ان کے عزیز و اقارب کی قربانیوں کا ذکر ملتا ہے، جو انہوں نے کربلا کی زمیں پر دیں۔
شہادت نامہ میں پیاس، خیمے، نیزے، تلوار، گھوڑے اور مشکیزہ ایسی علامات بطورِ استعارہ استعمال ہوتی ہیں۔
جب کربلا کے اس واقعے کو بنیاد بنا کر عظیم سانحے کو بیان کیا جاتا ہے، شہادتوں کے منظر کی عکاسی کی جاتی ہے، تو اسے ’’شہادت نامہ‘‘ کہتے ہیں۔
(’’ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم‘‘ کی تالیف ’’اصنافِ اُردو‘‘ ، ناشر ’’بک کارنر‘‘، تاریخِ اشاعت 3 2مارچ 2018ء، صفحہ نمبر 197 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے