466 total views, 1 views today

شعر میں دو یا دو سے زیادہ قوافی لانے کا عمل صنعتِ ذوالقافتین یا صنعتِ ذوالقوافی کہلاتا ہے، مثلاً ذیل میں علامہ محمد اقبال کی شہرہ آفاق نظم ’’شکوہ‘‘ کا شعر ملاحظہ ہو:
تیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نے
تیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نے
اس شعر میں دو قوافی یعنی جبینوں، سینوں اور بسایا، لگایا کا استعمال کیا گیا ہے۔




تبصرہ کیجئے