38 total views, 2 views today

’’شلوک‘‘ شعری اصطلاح میں غزل کے ایک شعر کی طرح ہوتا ہے، جس کے دو مصرعے ہوتے ہیں۔ دونوں ہم قافیہ ہوتے ہیں۔
شلوک عموماً پنجابی زباں میں لکھے جاتے ہیں۔ شلوک کا مادہ ہندی لفظ ’’شہ لوک‘‘ سے مشتق ہے، جس کے لغوی معنی ’’شاہ کی دنیا، فقیر کا جہاں یا بادشاہ کا کلام‘‘ کے ہیں۔
شلوک میں اخلاق و تصوف کے موضوعات ہوتے ہیں اور زندگی میں چھپی ہوئی بصیرتیں شلوک کے موضوع ہوتے ہیں۔
بابا گورو نانک، کبیر اور حضرت بابا فریدشکر گنج کے شلوک بہت معروف ہوئے۔
سکھوں کی مذہبی کتاب ’’گرنتھ‘‘ بھی شلوک کا مجموعہ ہے جس میں بابا فرید شکر گنج کے بھی کئی شلوک شامل کیے گئے ہیں:
بابا فرید شکر گنج کے چند شلوک ملاحظہ ہوں:
فریداؔ درد درویشی کا گھڑی چلاں دنیا بھت
بنھ اٹھائی پوٹلی کتھے ونجاں گھت
فریداؔ جے تیں مارن مکیاں، تنھاں نہ ماریں گھم
آپنے گھر جائیے پر تنھا دے چم
کالیں جنہاں نہ رادیا، دھولیں رادے کو
کر سائیں سے پر ہڑی رنگ نویلا ہو
فریداؔ جن لوئیں جگ مہویا سولوئیں میں ڈٹھ
کجل ریکھ نہ سہندیاں سے پنچھی سوئے بٹھ
(’’ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم‘‘ کی تالیف ’’اصنافِ اُردو‘‘ ، ناشر ’’بک کارنر‘‘، تاریخِ اشاعت 23 مارچ 2018ء، صفحہ نمبر 173 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے