39 total views, 1 views today

کلام میں ایسے الفاظ لائے جائیں، جن کی تکرار سے کلام میں زور اور حسن پیدا ہوجائے، مثلاً:
توبہ کے ٹوٹنے کا بھی کچھ کچھ ملال تھا
تھم تھم کے سوچ سوچ کے شرما کے پی گیا
محولہ بالا شعر میں ’’کچھ کچھ‘‘، ’’تھم تھم‘‘ اور ’’سوچ سوچ‘‘ کی تکرار سے کلام کا حسن بڑھ گیا ہے۔
(’’نیشنل بُک فاؤنڈیشن‘‘ کی شائع کردہ کتاب ’’اُردو آموز‘‘، مؤلف ’’پروفیسر ڈاکٹر فاروق چوہدری‘‘ کے صفحہ نمبر 142 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے