122 total views, 2 views today

جب کلام سے دو مختلف اور متضاد معانی کا احتمال ہو، تو اسے صنعتِ توجیہہ کہتے ہیں۔ مثلاً اگر کہا جائے کہ ’’روکو مت جانے دو‘‘ تو اس جملے کے دو معانی نکلتے ہیں۔
اوّل یہ کہ روک لو اور مت جانے دو۔
دوم یہ کہ مت روکو اور جانے دو۔
ذیل میں دیے گئے شعر سے اور بھی وضاحت ہوجاتی ہے:
جانے کیا سوچ کر نہیں گذرا
ایک پل، رات بھر نہیں گذرا
الف:۔ ایک پل پھیل کر رات میں ڈھل گیا اور ساری رات گذر ہی نہیں سکا۔
ب:۔ ساری رات گذر گئی، مگر ایک (من چاہا) پل نہ آیا، اور نہ ہی گذرا۔
(’’ارتباطِ حرف و معنی‘‘ از ’’عاصم ثقلینؔ‘‘، پبلشرز ’’فکشن ہاؤس، لاہور‘‘، سنہ اشاعت 2015ء، صفحہ نمبر 128 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے