706 total views, 1 views today

تاریخ کے لغوی معنی ہیں ’’وقت مقرر کرنا، ایک دن رات، زمانے کا عرصہ اور حادثات و واقعات کا علم‘‘ وغیرہ۔ علمِ بدیع کی اصطلاح میں یہ وہ جملہ یا فقرہ ہے جس کے اعداد بہ حسابِ ابجد نکالنے سے کسی واقعے کی تاریخ نکل آئے۔ اس صنعت کی دو اقسام ہیں۔
٭ صوری ۔
٭ معنوی۔
صوری وہ تاریخ ہے جس کے الفاظ سے کوئی سن و سال معلوم ہو، جیسے نظیر لدھیانوی کا یہ شعر جس میں قائدِ ملت لیاقت علی خان مرحوم کی تاریخِ وفات معلوم ہوتی ہے۔
سولہ اکتوبر اکاون سن محرم کے یہ دن
کردیا ملت کے قائد کو ستم گر نے شہید
اس شعر میں واضح طور پر لیاقت علی خان کی تاریخ وفات 16 اکتوبر 1951ء مرقوم ہے۔
تاریخِ معنوی وہ تاریخ ہے جس میں حروف کے عددوں سے بحسابِ جمل سالِ تاریخ نکالا جائے۔ اس طرح باعتبارِ لفظ بھی تاریخ کی دو قسمیں ہیں۔
٭ مفرد:۔ جو کسی حرف کے عددِ جمل سے حاصل ہو۔
٭ مرکب:۔ جو ایک یا کئی الفاظ کو شامل ہو۔
کلام کے اعتبار سے بھی تاریخ کی دو قسمیں ہیں۔
٭ تاریخِ منثور:۔ وہ تاریخ جو ایک یا کئی جملوں یا فقروں کی عبارت سے حاصل ہو۔
٭ تاریخِ منظوم:۔ وہ تاریخ ہے جو ایک مصرع یا جزوِ مصرع یا شعرِ سالم سے پیدا ہو۔
باعتبار مادہ تاریخ کی 2 قسمیں ہیں۔
٭ مستقل تاریخ:۔ وہ تاریخ ہے جو بنفسہٖ کامل ہو، عام اس سے کہ مفرد یا مرکب، منثور یا منظوم۔
٭ غیر مستقل تاریخ:۔ وہ ہے جو تعمیہ و تخرجہ کا محتاج ہو۔
جن الفاظ سے تاریخ نکلتی ہے۔ انہیں مادہ تاریخ کہتے ہیں۔ کئی بار شاعر یا تاریخ گو کے ذہن میں ایک پورا لفظ یا مرکب یا جملہ آجاتا ہے، جس کے حروف کے اعداد کے مجموعے سے مطلوبہ سال نکلتا ہے۔ مگر کئی باریوں بھی ہوتا ہے کہ جو موزوں الفاظ ذہن میں آتے ہیں، اُن کے اعداد کا مجموعہ مطلوبہ سالِ تاریخ سے کم یا زیادہ ہوتا ہے۔ اس صورت میں مادہ تاریخ میں کچھ اعداد کم یا زیادہ کرنے پڑتے ہیں۔ اگر مادہ تاریخ میں کچھ کمی ہو، اور اُس کو پورا کیا جائے، تو اس عمل کا نام ’’تدخلہ‘‘ یا ’’تعمیہ‘‘ ہے، اور اگر کچھ اعداد زیادہ ہوں اور ان کو کم کرنا پڑے، تو اس عمل کو اصطلاح میں ’’تخرجہ‘‘ کہتے ہیں۔ بعض عالموں نے ان دونوں صورتوں کا نام بالترتیب تعمیۂ داخلی اور تعمیہ خارجی رکھا ہے۔
تدخلہ یا تخرجہ کے لیے شاعر لوگ بڑے لطیف اشاروں سے کام لیتے ہیں۔ حکیم مومن خان مومنؔ نے اپنی بیٹی کی تاریخِ پیدائش کچھ یوں کہی ہے:
دُختِ روشن رواں ہوئی پیدا
کیا ہی چمکا ہے اخترِ مومن
نال کٹنے کے بعد ہاتف نے
کہی تاریخ دُخترِ مومن
’’دخترِ مومن‘‘ کے عدد 1340 ہوتے ہیں، اور مطلوبہ 1259 تھے۔ لفظ ’’نال‘‘ کے اعداد کا مجموعہ 81 ہے۔ اگر ’’دخترِ مومن‘‘ سے ’’نال‘‘ کٹ جائے، یعنی 1340 میں سے 81 کم کردیے جائیں، تو تاریخِ مطلوبہ 1259 نکل آتی ہے، اور تخرجہ کا اشارہ کتنا لطیف ہے۔
تدخلہ کی عمدہ مثال سوداؔ کا وہ قطعۂ تاریخ ہے جو مرزا مظہر جانِ جاناں کی شہادت پر لکھا گیا۔
مظہر کا ہوا جو قاتل اک مرتد شوم
اور اُن کی ہوئی خبر شہادت کی عموم
تاریخِ وفات ان کی کہی باروئے درد
سوداؔ نے کہا ’’ہائے جانِ جاں مظلوم‘‘
’’ہائے جان جاں مظلوم‘‘ کے اعداد 1191 ہوتے ہیں۔ ضرورت 1195 کی تھی۔ ’’باروئے درد‘‘ کے لطیف اشارے سے (درد کا رُو پہلا حرف ہے) ’’د‘‘ کے 4 عدد اور شامل کرلیں، تو مطلوبہ عدد یعنی 1195 بن جاتے ہیں۔جب کبھی تاریخ نکالنے میں جمع اور تفریق سے کام نہیں بنتا، تو ضرب سے کام لیا جاتا ہے۔ بطریقِ ضرب سالِ تاریخ نکالنے کی عمدہ مثال المؔ کا وہ قلعہ ہے جو داغؔ کے تیسرے دیوان کی تاریخِ طباعت کو ظاہر کرتا ہے اور وہ یہ ہے:
شاہِ اقلیمِ سخن استادِ شاہ
داغِ عالی قدرِ صاحب اختیار
تیسرا دیواں ہے اُن کا زیرِ طبع
انتخاب و بے مثال و پُربہار
محو تھا میں فکر میں تاریخ کے
یہ ندا ہاتف کی آئی ایک بار
سالِ فصلی یوں بھی نکلے اے المؔ
تین چکر گر لگائے روزگار
’’روزگار‘‘ کے اعداد 434 بنتے ہیں اور 3 چکر لگانے سے یعنی 3 سے ضرب دینے سے 1302 حاصل ہوتے ہیں، اور یہی مطلوبہ سالِ فصلی ہے۔
بہترین مادہ تاریخ وہ ہے جس میں ’’تخرجہ‘‘ یا ’’تدخلہ‘‘ کا محتاج نہ ہونا پڑے۔ بہترین مثالیں اقبالؔ مرحوم کی وفات پر لکھے گئے یہ اشعار ہیں: بقولِ حامد حسن قادری
بادِ رحمت ہائے حق برتر تپش
آمد ’’المغفور‘‘ سالِ رحلتش
خواجہ دل محمد کے بقول:
شمع خاموش سال ہجری ہے
عیسوی شمع شاعری خاموش
احسن مار ہروی کے بقول:
ہے زوالِ علم و حکمت مرگِ سر اقبال کی
اقبالؔ نے والدۂ جاوید اقبال کی موت پر کہا تھا:
راہی سوئے فردوس ہوئی مادرِ جاوید
لالے کا خیاباں ہے میرا سینۂ پُرداغ
ہے موت سے مومن کی نگہ روشن و بیدار
اقبالؔ نے تاریخ کہی ’’سرمۂ مازاغ‘‘
صنعتِ تاریخ بہ حسابِ جمل یا حروفِ ابجد سے نکلتی ہے اور ان تمام حروف کو 8 کلموں میں تقسیم کیا گیا ہے، جن کے لیے یہ اصطلاحیں وضع کی گئی ہیں۔ ابجد(۱، ۲، ۳، ۴)، ہوز (۵، ۶، ۷)، حطی (۸، ۹، ۱۰)، کلمن (۰۲، ۰۳، ۰۴، ۰۵)، سعفص (۶۰، ۷۰، ۸۰، ۹۰)، قرشت(۱۰۰، ۲۰۰، ۳۰۰، ۴۰۰)، ثخذ (۵۰۰، ۶۰۰، ۷۰۰)، ضظغ (۸۰۰، ۹۰۰، ۱۰۰۰)۔ فارسی اور ہندی حروف ’’پ ٹ چ ڈ ڑ ز ز گ‘‘ کی علی الترتیب وہی طاقت ہے جو عربی حروف ’’ب، ت، ج، د ، ر ، ز، ک، کی‘‘ ہے۔
………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے