937 total views, 3 views today

کنایہ علمِ بیان کی چوتھی اور آخری شاخ ہے۔ یہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی پوشیدہ بات، پوشیدہ طور پر بات کرنا، اشارہ، یا خفیہ اشارے کے ہیں۔ علمِ بیان کی رو سے کنایہ وہ کلمہ ہے جس کے معنی مبہم اور پوشیدہ ہوں اور ان کا سمجھنا کسی قرینے کا محتاج ہو اور اپنے حقیقی معانی کے بجائے مجازی معنی میں اس طرح استعمال ہوا ہو کہ اس کے حقیقی معنی بھی مراد لیے جاسکتے ہیں یعنی بولنے والا ایک لفظ بول کر اس کے مجازی معنی کی طرف اشارہ کردیتا ہے اور اس کی مراد بھی ان ہی مجازی معنوں سے ہوتی ہے، تاہم اگر حقیقی معنی بھی مراد لیے جائیں، تو بھی صحیح ہے۔ مثلاً ’’سفید ریش‘‘ سے مراد ’’بوڑھا‘‘ لینا۔
ہوگئے موئے سیاہ موئے سپید
اس کے حقیقی معنی یہ ہیں کہ سیاہ بال سفید ہوگئے۔ مجازی معنی مراد لیے جاتے ہیں کہ جوانی گئی اور بڑھاپا آگیا۔ تاہم اگر حقیقی معنی بھی مراد لیں، تو بھی جائز ہے۔ کنایہ کو پانچ اقسام (معنی کے لحاظ سے) میں منقسم کیا جاتا ہے۔
٭ ضمیر:۔ خاطر، دل، اندیشہ، وہ بات جو دل پر گزرے، بعید، پوشیدہ۔
٭ اسمِ اشارہ:۔ وہ کلمہ جو کسی چیز کی طرف اشارہ کرنے کے موقع پر بولا جائے۔
٭ موصول:۔ وصل کیا گیا، ملا ہوا، پہنچا ہوا یعنی وہ کلمہ جو جملے کے ایک حصے کو جملے کا جزو بنائے۔
٭ مبہمات:۔ وہ الفاظ جن کا مفہوم صاف نہ ہو بلکہ مبہم ہو۔
٭ اداتِ پرسش:۔ پرسش، حروفِ استفہام جو سوال یا استفہام کے موقع پر بولے جائیں۔
کنایہ کے اجزا:۔ کنایہ کے دو اجزا ہوتے ہیں۔ ایک، صفت (لازم) وہ معنی جو کنائے موصوف (ملزوم) کے لیے مراد لیے جائیں۔ دوم، موصوف (ملزوم) وہ شخص یا چیز جس کی طرف کنایہ (اشارہ) کرنا مقصود ہو: مثلاً، ’’بال سفید ہوگئے مگر عادتیں نہ بدلیں۔‘‘ اس جملے میں صفت (لازم) کے حوالے سے بال سفید ہونا مراد ہے اور موصوف (ملزوم) کے حوالے سے ’’بڑھاپا‘‘ مراد ہے۔ لہٰذا ’’بال سفید ہوگئے‘‘ کے حقیقی اور مجازی دونوں معنی مراد لیے جاسکتے ہیں۔
کنایہ کی صورتیں:ـ ایک ’’قریب۔‘‘ دوم ’’بعید۔‘‘
٭ کنایۂ قریب:۔ یہ کنایہ کی وہ صورت ہے جس میں صفت (لازم) کا ذکر کرکے موصوف (ملزوم) مراد لیا جائے، جیسے بقولِ غالبؔ
کیوں رد و قد کرے ہے زاہد
مے ہے یہ، مگس کی قے نہیں ہے
اس شعر میں ’’مگس کی قے‘‘ سے مراد شہد ہے جیسے لولی فلک سے مراد ’’زہرہ‘‘، خسرو انجم سے مراد ’’سورج‘‘، ترکِ فلک سے مراد ’’مریخ‘‘ ہے۔ اسی طرح آبِ آتشیں سے کنایہ ’’شراب‘‘ مگس کی قے سے کنایہ ’’شہد‘‘ ہے وغیرہ۔
٭ کنایۂ بعید:۔ اس میں ایسی صفات کا ذکر کیا جاتا ہے جو موصوف کے لیے مخصوص کردی جاتی ہیں، اور وہ سب مل کر ایک موصوف کا تصور دلاتی ہیں۔ یہ کنایہ خاصے غور و فکر کے بعد سمجھ میں آتا ہے، مثلاً بقولِ غالبؔ
صبح آیا جانبِ مشرق نظر
اک نگارِ آتشیں رُخ سر کھلا
اس شعر میں آفتاب کا کنایہ کیا گیا ہے۔ کیوں کہ اس میں یہ صفات موجود ہیں۔ صبح کو جانبِ مشرق نظر آنا، نگار یعنی محبوب کی طرح خوب صورت ہونا، آتشیں رُخ یعنی چہرے کا سرخ اور گرم ہونا اور سر کھلا یعنی سر جیسا گول اور کھلا ہونا۔
٭ اصطلاح کے لحاظ سے کنایہ کی اقسام:
تعریضـ:۔ تعریض کے لغوی معنی ہیں چھیڑنا، اعتراض کرنا، اصطلاح میں تعریض کا مطلب ہے کنایہ کی ایسی قسم جس میں اشارہ کسی طرف کریں، لیکن اس سے مراد کوئی اور طرف لیں۔
کنایہ کی یہ قسم عام طور پر طنز کے لیے استعمال ہوتی ہے، مثلاً بقولِ داغؔ
ہمیں بدنام ہیں، جھوٹے بھی ہمیں ہیں بے شک
ہم ستم کرتے ہیں اور آپ کرم کرتے ہیں
اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ ہی بدنام ہیں، جھوٹے ہیں اور آپ ہی ستم کرتے ہیں۔
تلویح:۔ تلویح کے لغوی معنی ہیں دور سے اشارہ کرنا، واضح اور روشن کرنا، چمکانا، آگ سے گرم کرنا، سفید بالوں والا اور چہرہ متغیر کردینا۔ اصطلاح میں ’’تلویح‘‘ کنایہ کی وہ قسم ہے جس میں لازم سے ملزوم تک پہنچنے کے لیے مختلف واسطوں سے سابقہ پڑے، مثلاً بقولِ سوداؔ
الغرض مطبخ اس گھرانے کا
رشک ہے آبدار خانے کا
’’مطبخ کا رشک آبدار خانہ ہونا‘‘ بخل سے کنایہ ہے۔ آبدار میں آگ نہ جلنے کی وجہ سے کھانا نہیں پکتا، کھانا نہ پکنے کی وجہ سے صاحبِ خانہ کے ہاں کوئی نہیں آتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ سخت بخیل ہے۔ صاحب خانہ کے بخل تک پہنچنے کے لیے کئی واسطوں سے گزرنا پڑتا ہے۔
رمز:۔ رمز کے لغوی معنی ابرو، آنکھ یا لب سے اشارہ کرنا اور پوشیدگی کے ہیں۔ اصطلاح میں یہ کنایہ کی وہ قسم ہے جس کے لازم و ملزوم کے درمیان زیادہ واسطے نہ ہوں لیکن ایک اخفا ہو جیسے بقولِ غالبؔ:
میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسدؔ
سنگ اُٹھایا تھا کہ سر یاد آیا
اس شعر کے دوسرے مصرع میں ’’سر یاد آنا‘‘ کنایہ ہے شاعر کی عاشق مزاجی کی طرف۔
ایماواشارہ:۔ ایما کے معنی ہیں اشارہ کرنا۔ اصطلاح میں یہ وہ کنایہ ہے جس میں لازم و ملزوم کے درمیان نہ زیادہ واسطے ہوں اور نہ پوشیدگی، جیسے بقولِ میر تقی میرؔ :
شرکتِ شیخ و برہمن سے میرؔ
اپنا کعبہ جدا بنائیں گے
’’اپنا کعبہ جدا بنانا‘‘ سب سے علیحدہ رہنے کی طرف اشارہ ہے، جو آسانی سے سمجھ میں آسکتا ہے۔

………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے