84 total views, 3 views today

استعارہ کے لغوی معنی ’’عاریتاً مانگنا یا لینا‘‘ کے ہیں۔ علمِ اصطلاح میں استعارہ اُس لفظ کو کہتے ہیں جو حقیقی معنی کے بجائے غیر حقیقی یا مجازی معنی میں استعمال ہو، اور حقیقی و مجازی معنوں میں تشبیہ کا تعلق پایا جائے۔ یعنی لفظ کے حقیقی معنی کا لباس عاریتاً لے کر مجازی معنی کو پہنانے کا نام استعارہ ہے۔ استعارہ کی بنیاد اگرچہ تشبیہ ہی پر ہے، مگر فرق یہ ہے کہ تشبیہ میں ایک شے کو کسی دوسری شے کی طرح قرار دیا جاتا ہے، جب کہ استعارے میں ایک شے کو بعینہٖ دوسری شے قرار دیا جاتا ہے، اور اس دوسری شے کے لوازمات پہلی شے سے منسوب کردیے جاتے ہیں۔ مثلاًـ:
کیوں کر اس بت سے رکھوں جان عزیز
کیا نہیں ہے مجھے ایمان عزیز
اس شعر میں لفظ ’’بت‘‘ محبوب کا استعارہ ہے۔ یا یہ شعر ہی لے لیجیے:
کس شیر کی آمد ہے کہ رَن کانپ رہا ہے
رَن ایک طرف چرخِ کہن کانپ رہا ہے
اس شعر میں ’’شیر‘‘ کا استعارہ حضرتِ عباس ؓ کے لیے لایا گیا ہے۔
استعارہ کی بنیاد تشبیہ پر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں ایک شے بول کر دوسری شے مراد لی جاتی ہے، اور ان دونوں اشیا میں تشبیہ کا علاقہ ہوتا ہے، مگر جس طرح تشبیہ میں دونوں اشیا مذکور ہوتی ہیں، استعارہ میں اس طرح نہیں ہوتا بلکہ اس میں فقط ایک شے یا اس کے لوازمات کا ذکر ہوتا ہے، اور ان لوازمات سے پتا چلتا ہے کہ کیا شے بول کر کیا شے مراد لی گئی ہے؟ اور یہ نشان بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مراد کیوں لی گئی ہے؟ اس حوالے سے اگر دیکھا جائے، تو استعارہ کے ارکان یہ بنتے ہیں:
٭ مستعار لہ:۔ وہ شے یا شخص جس کے لیے لفظ بہ طورِ عاریتاً لیا گیا ہو۔
٭ مستعارمنہ:۔ وہ شے یا شخص جس سے کوئی لفظ عاریتاً لیا گیا ہو۔
استعارہ میں مستعار لہ اور مستعار منہ کو طرفینِ استعارہ کہتے ہیں۔ لیکن استعارہ میں ان دونوں ارکان میں سے ایک یا اس کے لوازمات، اس طرح سے مطلوب ہیں کہ کس شے کو کس شے سے استعارہ کیا گیا ہے۔
٭ مستعار:۔ مستعار منہ کے لیے جو لفظ استعمال ہوتا ہے اسے ’’مستعار‘‘ کہتے ہیں۔
٭ وجہِ جامع:۔ وہ مشترک صفت جس کی بنا پر استعارہ کیا جائے، وجہِ جامع کہلاتی ہے۔ مثلاً:
میں اس گل کو پیغام دیتا ہوں ہزاروں
ہوا ہوگئی پر صبا کہتے کہتے
اس شعر میں محبوب کے لیے لفظ ’’گل‘‘ مستعار لیا گیا، اس لیے محبوب مستعارلہ ہے، لفظ ’’گل‘‘ مستعار منہ اور مستعار ہے اور وجہِ جامع حسن ہے جو چھپا ہوا ہے۔ یعنی استعارہ میں وہ مشترک خوبی، صفت، وصف، خصوصیت، پہلو یا حالت جس کی بنا پر ایک شے کہہ کر دوسری شے کے معنی مراد لیے جائیں، وہ وجہِ جامع ہے۔ وجہِ جامع کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس کا ذکر استعارے میں نہیں ہوتا، لیکن اسے قرینے سے استعمال کیا جاتا ہے۔
جس طرح تشبیہ میں مشبہ اور مشبہ بہٖ کو طرفینِ تشبیہ کہا جاتا ہے۔ اسی طرح استعارہ میں ان کو طرفینِ استعارہ کہتے ہیں، لیکن استعارہ میں مشبہ کو مستعار لہ اور مشبہ بہٖٖ کو مستعار منہ کہتے ہیں، اور وہ چیز جو تشبیہ میں وجہِ شبہ کہلاتی ہے، استعارہ میں اسے وجہِ جامع کہتے ہیں۔ جس لفظ کے حقیقی معنی ترک کرکے اسے مجاز میں استعمال کیا جاتا ہے، اسے مستعار کہتے ہیں۔
تشبیہ اور استعارے کا فرق:۔ خاص فرق یہ ہے کہ استعارے میں مشبہ کو بعینہٖ مشبہ بہٖ قرار دیتے ہیں۔ استعارے کی سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ اس میں طرفینِ تشبیہ میں سے صرف ایک مذکور ہوتا ہے یعنی یا تو مشبہ یا پھر مشبہ بہٖ۔

………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے