48 total views, 2 views today

شعر میں ایک حرف یا حروف کی تکرار ثقلِ سماعت کا باعث بن سکتی ہے، اسی لیے یہ ناپسندیدہ ہے اور یہی ’’صوتی تنافر‘‘ ہے۔ غالبؔ کا خوبصورت خیال کا حامل یہ شعر اس کی بڑی اچھی مثال ہے:
ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم غالبؔ
ہم نے دشتِ امکاں کو ایک نقشِ پا پایا
شعر میں ’’پ‘‘ کی تکرار سے ’’پا پا‘‘ پڑھا جاتا ہے۔
(’’تنقیدی اصطلاحات‘‘ از ’’ڈاکٹر سلیم اخترؔ‘‘، مطبوعہ ’’نگارشات‘‘ سنہ 2011، صفحہ 181 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے