63 total views, 2 views today

کسی موضوع (Content) کو کم سے کم ممکنہ حرفوں میں ادا کرنا “ایجاز” کہلاتا ہے۔
تجربے کا سیدھا سادہ (As it is) اظہار بیان تو ہے، فنی بیان نہیں۔ فنی اور تخلیقی اظہار اپنے اندر رمز و ایما اور کنایہ و علامت کی وہ لافانی قوت رکھتا ہے جو کلام کو قدری ترفع بخشنے کے علاوہ بلاغت کی دولت بھی عطا کرتا ہے۔
شاعر کسی مشاہدے کی تخلیقی عمل پذیری میں (غیر ارادی طور پر) ایجاز سے کام لیتا ہے۔ نتیجتاً ایسے اشعار ظہور میں آتے ہیں جن کی توضیح و تشیرح میں نثر سیکڑوں صفحے کالے کرتی ہے۔ خصوصاً غزل کی شاعری میں ایجاز کا حسن اپنی معراج پر نظر آتا ہے۔
گویا کم سے کم لفظوں میں بڑی سے بڑی بات بیان کرنا “ایجاز” ہے۔ یہی حسنِ کلام ہے۔
(پروفیسر انور جمال کی تصنیف ’’ادبی اصطلاحات‘‘ مطبوعہ ’’نیشنل بُک فاؤنڈیشن‘‘ صفحہ 49 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے