72 total views, 3 views today

رباعی عربی لفظ ’’رُبع‘‘ سے بنا ہے۔ رُباعی کے لغوی معنی ہیں ’’چار والے۔‘‘ اصطلاح میں اُس صنفِ نظم کو کہتے ہیں، جس کے چار مصرعوں میں ایک مکمل مضمون ادا کیا جاتا ہے۔ اسے ترانہ یا دو بیتی بھی کہتے ہیں۔
قطعہ کے لغوی معنی ’’ٹکڑا‘‘ یا ’’جزو‘‘ کے ہیں۔ اصطلاح میں اُس نظم کو کہتے ہیں، جس میں کوئی خیال یا واقعہ مسلسل بیان کیا گیا ہو۔ قطعے میں مطلع کی موجودگی ضروری نہیں۔ قطعہ کم از کم دو شعروں کا ہوتا ہے، زیادہ سے زیادہ کی کوئی قید نہیں۔
رباعی اور قطعہ میں فرق کیا ہے؟
آج کل عموماً دو شعروں کا مختصر قطعہ کہنے کا رواج ہے۔ چوں کہ رباعی میں بھی دو شعر ہوتے ہیں، اس لیے عام قارئین قطعہ اور رباعی میں فرق ملحوظ نہیں رکھتے۔ قدیم شعرا کے دیوانوں میں قطعات اور رباعیات کو خلط ملط کر دیا گیا۔ حالاں کہ دونوں اصناف جدا ہیں اور ان کے درمیان حدِ فاصل قائم رکھنا ضروری ہے۔ درجِ ذیل تین امور کی بنا پر دونوں میں فرق کیا جاسکتا ہے۔
٭ وزن: رباعی ہمیشہ مخصوص اوزان میں کہی جاتی ہے، جب کہ قطعہ کے لیے کوئی وزن مخصوص نہیں۔
٭ مطلع: رباعی میں ہمیشہ مطلع موجود ہوتا ہے، جب کہ قطعہ میں عموماً مطلع نہیں ہوتا۔
٭ تعدادِ اشعار: رباعی ہمیشہ دو شعروں پر مشتمل ہوتی ہے، جب کہ قطعہ کے اشعار کی تعداد مقرر نہیں۔
(رفیع الدین ہاشمی کی تالیف ’’اصنافِ ادب‘‘ مطبوعہ ’’سنگِ میل پبلی کیشنز‘‘ 2008ء، صفحہ 82 تا 87 انتخاب)




تبصرہ کیجئے