718 total views, 2 views today

تشبیہ کے لفظی معنی ہیں کسی ایک چیز کو کسی دوسری چیز کی مانند قرار دینا، لیکن اصطلاح میں علمِ بیان کی رو سے جب کسی ایک چیز کو کسی مشترک خصوصیت کی بنا پر کسی دوسری چیز کی مانند قرار دیا جائے، تو اسے تشبیہ کہتے ہیں۔ جس سے غرض اس پہلی چیز کی کسی صفت، حالت یا کیفیت کو واضح اور مؤثر بنا کر پیش کرنا ہوتا ہے۔ اس سے کلام میں فصاحت و بلاغت پیدا ہوتی ہے۔ مثلاً ’’اجمل شیر کی طرح بہادر ہے!‘‘ یہاں اجمل کو شیر سے تشبیہ دی گئی ہے۔ دونوں، اجمل اور شیر مختلف چیزیں ہیں، لیکن بہادری اور شجاعت کی صفت دونوں میں موجود ہے۔ یا ’’محبوب کا چہرہ پھول کی طرح نازک ہے!‘‘ یعنی نازکی کی صفت محبوب کے چہرے اور پھول دونوں میں موجود ہے۔
نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
اس شعر میں محبوب کے لبوں کو نزاکت میں گلاب کی پنکھڑی سے تشبیہ دی گئی ہے۔
تشبیہ کے بیان میں پانچ چیزوں پر بحث ہوتی ہے۔
٭ مشبہ، مشبہ بہ (ان کو طرفین تشبیہ بھی کہتے ہیں)
٭ وجہِ تشبیہ۔
٭غرضِ تشبیہ۔
٭ آداتِ تشبیہ یا حروفِ تشبیہ (یہ چاروں تشبیہ کے ارکان کہلاتے ہیں)
٭ اقسامِ تشبیہ۔
ارکانِ تشبیہ حسبِ ذیل ہیں:
٭ طرفینِ تشبیہ (مشبہ، مشبہ بہ):۔ طرفین تشبیہ دو چیزیں ہیں ،ایک مشبہ یعنی وہ جس کو تشبیہ دی جائے۔ دوسری، مشبہ بہ یعنی جس سے کسی چیز کو تشبیہ دی جائے اور مشبہ سے اُس صفت میں زیادہ ہو جس کی وجہ سے تشبیہ دی جائے۔ خواہ یہ زیادتی ازروئے حقیقت ہو، خواہ ازروئے اِدعا کے۔ اگر ایسا نہ ہو اور وہ صفت دونوں میں برابر ہو، تو تشبیہ صحیح نہ ہوگی۔ کیوں کہ تشبیہ میں ایک کی زیادتی اور ایک کے نقصان کا قصد ہوتا ہے۔ جہاں دونوں کی مساوات (برابری) کا قصد ہو، تو اس کو ’’تشابہ‘‘ کہتے ہیں، یعنی دونوں ایک دوسرے کے مشابہ ہیں۔ مثلاً بقولِ سوداؔ
دشمن و دوست، بد و نیک زمانے کے بیچ
حکم رکھتے ہیں تیرے پیش کرم چاروں ایک
تشبیہ، دشمن کی بد سے اور دوست کی نیک سے منظور نہیں بلکہ دونوں چیزوں میں مساوات منظور ہے۔ سوداؔ ہی کا ایک شعر ہے:
انوری، سعدی و خاقانی و مداح ترا
رتبۂ شعر و سخن میں ہیں بہم چاروں ایک
اس شعر میں مذکورہ چاروں شعرا کو ایک دوسرے سے تشبیہ نہیں دی گئی بلکہ ان کو باہم برابر قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے یہ تشابہ کی مثال ہے۔ تشابہ میں عکس صحیح ہوتا ہے، یعنی مشبہ بہ کو مشبہ بناسکتے ہیں۔ مثلاً داغؔ کا یہ شعر ملاحظہ ہو:
حسن آئینۂ عشق ہو، عشق آئینۂ حسن
میں تجھ کو نظر آؤں، مجھے تو نظر آوے
اور بقولِ حالیؔ
اُن کی عزت تمہاری عزت ہے
اُن کی ذلت تمہاری ذلت ہے
ایک کی عزت کی دوسرے کی عزت کے ساتھ اور ایک کی ذلت کی دوسرے کی ذلت کے ساتھ تشبیہ مقصود نہیں ہے۔ کیوں کہ دونوں برابر ہونا مقصود ہے۔
٭ اقسامِ طرفینِ تشبیہ (مشبہ، مشبہ بہ): طرفینِ تشبیہ دو قسم کے ہوتے ہیں۔
ایک حسی، جسے حواسِ خمسہ سے دریافت کیا جاسکتا ہے اور حواسِ خمسہ یہ ہیں: باصرہ (دیکھنا)، سامعہ (سننا)، شامہ (سونگھنا)، ذائقہ (چکھنا)، لامسہ (چھونا)۔
٭عقلی: جسے حواسِ ظاہرہ سے معلوم نہیں کیا جاسکتا۔ پس مشبہ، مشبہ بہ دونوں ایک ہی ہوں گے یا مختلف یعنی ایک عقلی اور دوسرا حسی یا ایک حسی اور دوسرا عقلی یا دونوں عقلی۔
٭ طرفینِ تشبیہ (مشبہ، مشبہ بہ) حسی، متعلق بہ باصرہ ۔ بقولِ غالبؔ
ترے سرو قامت سے ایک قد آدم
قیامت کے فتنے کو کم دیکھتے ہیں
اس شعر میں محبوب کے قد کو ’’سرو‘‘ سے تشبیہ دی گئی ہے جس کا تعلق دیکھنے سے ہے۔ مزید مثالیں ملاحظہ ہوں: بقولِ صباؔ
لوگ کہنے لگے کندن میں چڑھا ہے مینا
سبزۂ خط سے وہ خوش ترا گال ہوا
یا بقولِ ناسخؔ
دفن یار میں کی خط نے رسائی پیدا
چاہِ یوسف میں خضر بہر تماشا اُترا
٭ طرفینِ تشبیہ حسی متعلق بہ سامعہ
عشق اِک شور کوئی چھپتا ہے
نالۂ عندلیب ہے گلبانگ
عشق کے شور کو نالۂ عندلیب سے تشبیہ دی گئی ہے، جس کا تعلق سننے سے ہے۔
لذت سرور کی ہو چڑیوں کے چہچہوں سے
چشموں کی شورشوں میں باجا سا بج رہا ہے
یہاں چشمے کی آواز کو باجے سے تشبیہ دی گئی ہے۔
یا غالبؔ کا یہ شعر ملاحظہ ہو:
پُر ہوں میں شکوے سے یوں، راگ سے جیسے باجا
اِک ذرا چھیڑیے پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے

……………………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے