252 total views, 1 views today

محمد گل منصورؔ 1981ء کو محترم شاہ تمروز عرف رنگ دادا کے ہاں تحصیل کبل علاقہ نیک پی خیل کے گاؤں گالوچ میگی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے دادا کا نام قیصر خان ہے۔ آپ کا خاندانی تعلق گوجر قوم کے کھٹانہ قبیلے سے ہے۔ آپ آٹھویں جماعت تک پڑھے ہیں۔ آپ ایک بہترین رومانی شاعر ہیں اور اس وجہ سے نوجوان طبقے میں بطورِ خاص مقبول ہیں۔ بہترین آواز و انداز اور ترنم کے مالک ہیں۔ محفل و مشاعرے کو لوٹنے کا فن خوب جانتے ہیں۔
یہ بظاہر دیوانے دکھنے والے منصورؔ کئی خوبیوں، صلاحیتوں اور ساتھ ساتھ خامیوں کے بھی مالک ہیں۔ اب تک ان کی چھے کتب منظر عام پر آئی ہیں۔ قارئین کے لیے ان کتب کا مختصر تعارف پیش خدمت ہے۔
آپ کی پہلی کتاب “تندہ او ساسکے” (پیاس اور قطرہ) ہے۔ یہ کتاب 2004ء میں “دیر پشتو ادبی ٹولنہ” کے زیرِ انتظام “دانش کتب خانہ پشاور” کی شائع کردہ ہے۔ اس کتاب پر لائق زادہ لائقؔ، نور علی شاہ کاروانؔ، سید قیوم سواتیؔ، صیاد روغانیؔ اور اقبال حسین سالارؔ کے تبصرے درج ہیں۔ چوں کہ یہ لڑکپن کے دور کی شاعری ہے اور ان کے فن کی ایک طرح سے ابتدا ہے، اس لیے ڈھیر ساری خوبیوں کے باوجود کتاب میں کمیاں بھی رہ گئی ہیں، لیکن منصورؔ اور ان کی شاعری کے عاشق اس کتاب کے خیالات اور جذبات کو سچے اور کھرے مانتے ہیں۔ 242 صفحات کی مذکورہ کتاب میں غزلیات اور نظمیں شامل ہیں۔
منصورؔ کی دوسری کتاب “مونگ خو دواڑہ لیونی یو” (ہم تو دونوں دیوانے ہیں) ہے۔ یہ کتاب 2006ء میں شائع ہوئی ہے۔ اس کا انتساب شاعر نے اُن عشاق کے نام کیا ہے، جو اَن دیکھے چہرے پر فدا ہیں۔ اس مجموعے پر بابائے قطعہ عبدالرحیم روغانےؔ، پروفیسر ڈاکٹر اباسینؔ یوسف زئی، لائق زادہ لائقؔ، حنیف قیسؔ اور ایڈوکیٹ عطاء اللہ جانؔ کے تاثرات درج ہیں۔ منصورؔ کی اِس دور کی شاعری میں فن اور خیال دونوں حوالوں سے پختگی دیکھنے کو ملتی ہے اور چوں کہ اُس وقت شاعر عرب امارات دوبئی میں مسافر تھے، اس لیے رومان کے ساتھ ساتھ قومی جذبات کے حوالہ سے بھی جوش میں ہیں۔ دراصل یہ وہ کتاب ہے جو ادبی مجالس میں منصورؔ کی پہچان بنی۔
تیسری کتاب “زما د لری وطن یارہ” ہے۔ یہ کتاب ایک طرح سے ادبی تذکرہ ہے، جو 2008ء میں شائع ہوئی ہے۔ اس وقت سوات کے حالات انتہائی کشیدہ تھے۔ سوات، خوبصورت پریوں کا وطن مذہبی انتہا پسندوں کے نرغے میں تھا۔ ظلم کا بازار گرم تھا۔ گولیاں برس رہی تھیں۔ دھماکے ہو رہے تھے۔ انسانوں کے ہاتھوں انسان ذبح کیے جاتے تھے۔ ساز و آواز خاموش تھی۔ مدرسے، اسکول اور کتب خانے زمین بوس کردیے جا رہے تھے۔ لوگ نقلِ مکانی پر مجبور تھے۔ ایک دن منصورؔ بھائی نے عرب امارات سے فون کیا کہ میری کتاب شائع ہوکر مینگورہ شہر میں پڑی ہے۔ کوئی ہے نہیں کہ اسے میرے گھر تک پہنچائے، یا اپنے پاس محفوظ ہی کرلے۔ میں انتہائی پریشان ہوا اور اُسی وقت مینگورہ جانے کی ٹھان لی۔ چند دنوں سے کرفیو نافذ تھی۔ نقل و حمل کے ذرائع مسدود تھے۔ اچھا خاصا فاصلہ پیدل طے کیا، پھر گاڑی مل گئی، لیکن جیسے ہی گاڑی گاؤں سے نکل پڑی، تو گاؤں میں دو بڑے بم گرا دیے گئے، جس کی وجہ سے ایک عمارت زمین بوس ہوگئی۔ مالک مکان عمارت کے نیچے آگیا اور سکول کا ایک بچہ زخمی ہوا۔ بعد میں مذکورہ بچے کے پاؤں کاٹ دیے گئے، جو ابھی تک معذور و محتاج ہے۔ یوں گاڑی روک دی گئی، اور میں مینگورہ تک نہ جاسکا۔ مذکورہ کتاب میں 32 شعرا کا کلام ہے، شعرا کا تعلق پختونخوا کے مختلف علاقوں سے ہے۔ ان کی تصاویر بھی ہیں۔ مؤلف محمد گل منصورؔ نے بڑی خوبصورت انداز میں ہر ایک شاعر کا تعارف بھی اس میں کیا ہے۔ ہر شاعر کے کلام پر اچھا خاصا تبصرہ بھی پڑھنے کو ملتا ہے۔ اس تذکرے پر عطاء اللہ جانؔ، خالد خان حسرتؔ اور سلطان باش خیل آفریدی کے پیش لفظ شامل ہیں۔ مَیں بذاتِ خود منصورؔ کے اس کام کو ایک بڑا کام سمجھتا ہوں۔ پشتو زبان میں اس قسم کی کتابیں کم ہی ملتی ہیں۔ یہ پشتو ادب میں یہ ایک اچھا اضافہ ہے۔




محمد گل منصور کی سب سے زیادہ پسند کی جانے والی کتاب “کافر جانان”۔

منصور کی چوتھی کتاب “اُوس بنگڑی چالہ واخلم” (اب چوڑیاں کس کے لیے خریدوں) یہ مجموعہ 2010ء میں چھپا ہے۔ اس کتاب پر ساجد محمد شائقؔ اور خالد خان حسرتؔ نے اظہارِ خیال کیا ہے۔ اس کتاب کے آخری تین صفحات پر منصورؔ نے اپنے محبوب کے نام ایک خط لکھا ہے۔ یہ خط نثر میں ہے۔ خط میں شاعر نے محبوب سے اظہارِ محبت کیا ہے۔ شعری مجموعے میں اس طرح کا خط ایک نیا تجربہ اور انداز ہے۔ بہ قول منصورؔ آئندہ آنے والی میری ہر کتاب میں خطوط کا یہ سلسلہ جاری رہے گا، جو تا دمِ تحریر جاری ہے۔
پانچویں کتاب “تہ د غوگونو والئی مہ خرسوہ” (تم کانوں کی بالیاں مت بیچو) ہے۔ یہ کتاب 2017ء میں منظر عام پر آئی ہے۔ یہ “ن” کے نام منسوب ہے۔ عبدالرحیم روغانےؔ اور کرن خان کے لیے سوغات ہے۔ اس کتاب کی چند غزلیں اور نظمیں کرن خان کی خوبصورت آواز میں عوام کے کانوں میں رَس گھول چکی ہیں اور بے حد مقبولیت حاصل کرچکی ہیں۔ اس لیے کم عرصے میں دور دراز کے علاقوں تک منصورؔ کا نام اور شاعری دونوں بہم پہنچے ہیں۔
منصورؔ کی اب تک آخری اور چھٹی کتاب “کافر جانان” 2019ء میں شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب پر نامور گلوکار کرن خان، محمد حنیف قیسؔ، پروفیسر عطاء الرحمان عطاؔ اور ڈاکٹر محمد اسرار اتلؔ کے تاثرات اور خیالات چھپے ہیں۔ اس کتاب میں بھی دوسری کتابوں جیسی اچھی خاصی شاعری ہے، لیکن املا اور پروف ریڈنگ کی ڈھیر ساری غلطیاں ہیں جس نے کتاب کے معیار پر اثر ڈالا ہے۔
ان کتابوں کے علاوہ غلام سخی روغانیوال افغانی نے منصورؔ کی منتخب غزلیات “رومال راولیگہ نامہ ور باندے گل کہ زما” کے نام سے بھی ایک کتاب شائع کی ہے۔
منصورؔ صاحب کے چاہنے والوں کو آگاہ کرتا چلوں کہ وہ کرکٹ بھی کھیلتے ہیں۔ دوستوں کے ساتھ مشاعروں کے علاوہ کرکٹ کھیلنے بھی جاتے ہیں، لیکن اکثر ہار کر واپس آتے ہیں۔ خود گاتے بھی ہیں۔ سریلی آواز کے مالک ہیں۔ اپنی خوبصورت شاعری اور میٹھی آواز کی بدولت ڈھیر سارے لوگ اُنہیں پسند کرتے ہیں۔ پشتو زبان و ادب کے لیے منصور کی شاعری گراں قدر خدمت ہے۔ جاتے جاتے اللہ سے ان کی لمبی عمر اور اچھی صحت کے لیے دعا گو ہوں۔

………………………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے