145 total views, 1 views today

مولانا محمد حسین آزاد نے آبِ حیات میں امیر خسرو کو “ڈھکوسلے” کا مؤجد قرار دیا ہے اور ان کا کہا ہوا یہ ڈھکوسلا مثال کے طور پر پیش کیا ہے:
“بھادوں پکی پپلی
چو چو پڑی کپاس
بی مہترانی دال پکاؤ گی یا ننگا ہی سو رہوں”
“ڈھکوسلا” تفنن طبع کے لیے کہا جاتا ہے۔ اس میں اجزائے کلام (مصرعے یا جملے) خوب رواں دواں مگر معنوی طور پر غیر مربوط ہوتے ہیں۔
بحیثیتِ مجموعی ڈھکوسلا ہر قسم کے منطقی مفہوم سے عاری بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ آزاد ہوتا ہے۔
(ابوالاعجاز حفیظ صدیقی کی تالیف ادبی اصطلاحات کا تعارف مطبوعہ اسلوب، لاہور، اشاعتِ اول مئی 2015ء، صفحہ 244 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے