77 total views, 4 views today

“ایسا تضادی بیان جو مسلمہ تصور کے برعکس ہو، پیراڈاکس کہلاتا ہے۔”
لیکن قولِ محال محض تضاد نہیں بلکہ قولِ محال جہاں شروع ہوا ہے، وہاں تضاد ختم ہونے لگتا ہے۔ تضاد تو ایک عمومی حقیقت ہے جس کے فنی بیان میں دلکشی تو ہے، صنعت کاری کا جمالِ فریب نہیں۔ اسے اتحادِ ضدین بھی کہہ سکتے ہیں۔
“پیراڈاکس” انیسویں صدی کی جدید صنعتِ بیان ہے جو ایک نوع کی ذہنی ورزش ہے۔
نثر و نظم میں قولِ محال پیدا کرنا اور اس سے حِظ یاب ہونا، ترقی یافتہ ذہن کا کام ہے۔
انگریزی ادب میں آسکر وائلڈ، چسٹرٹن اور برنارڈ شا اس کے نقیب ہیں۔
اردو شاعری میں قولِ محال کی مثالیں دیکھیے:
ہم نے جس شخص کو توقیرِ شناسائی دی
اس نے خوش ہوکے ہمیں عزتِ رسوائی دی
(دوسرے مصرعہ میں قولِ محال “عزتِ رسوائی” ہے)
جہلِ خرد نے دن یہ دکھائے!
گھٹ گئے انساں، بڑھ گئے سائے
(پہلے مصرعہ میں قولِ محال “جہلِ خرد” ہے)
(پروفیسر انور جمال کی تصنیف “ادبی اصطلاحات” مطبوعہ نیشنل بُک فاؤنڈیشن، اشاعتِ چہارم، مارچ 2017ء، صفحہ نمبر 144 سے انتخاب)




تبصرہ کیجئے