76 total views, 5 views today

“آزاد دائرۃ المعارف” میں صنعتِ تلمیح کے حوالہ سے تعریف کچھ یوں درج ملتی ہے: “شعری اصطلاح میں تلمیح سے مراد ہے کہ ایک لفظ یا مجموعۂ الفاظ کے ذریعے کسی تاریخی، سیاسی، اخلاقی یا مذہبی واقعے کی طرف اشارہ کیا جائے۔ تلمیح کے استعمال سے شعر کے معنوں میں وسعت اور حسن پیدا ہوتا ہے۔ مطالعۂ شعر کے بعد پورا واقعہ قاری کے ذہن میں تازہ ہوجاتا ہے۔”
جب کہ پروفیسر انور جمال اپنی کتاب “ادبی اصطلاحات” مطبوعہ “نیشنل بُک فاؤنڈیشن” اشاعتِ چہارم، مارچ 2017ء کے صفحہ نمبر 82 پر رقمطراز ہیں: “تلمیح کی اصطلاح علمِ بدیع کے حصے میں آئی ہے۔ کلام میں کوئی ایسا لفظ یا مرکب استعمال کرنا جو کسی تاریخی، مذہبی یا معاشرتی واقعے یا کہانی کی طرف اشارہ کرے، تلمیح ہے۔”
اس کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ذیل میں دیا جانے والا شعر ملاحظہ ہو:
آ رہی ہے چاہِ یوسف سے صدا
دوست یاں تھوڑے ہیں اور بھائی بہت
اس شعر میں “چاہِ یوسف” تلمیح ہے۔ اس ترکیب کو پڑھتے ہی حضرتِ یوسف علیہ السلام کی پوری کہانی یاد آجاتی ہے۔
تلمیح کے حوالہ سے دوسرا شعر ملاحظہ ہو:
صبرِ ایوبؑ کیا، گریۂ یعقوبؑ کیا
ہم نے کیا کیا نہ تیرے واسطے محبوب کیا
اس شعر میں دو مرکبات “صبرِ ایوبؑ” اور “گریۂ یعقوب” تلمیح کی بہترین مثالیں ہیں، جنہیں پڑھتے ہی حضرتِ ایوب علیہ السلام کے صبر اور حضرتِ یعقوب علیہ السلام کی اپنے جگر گوشے حضرت یوسف علیہ السلام کی خاطر کی جانے والی فریاد کے واقعات یاد آجاتے ہیں۔
اب آتے ہیں تلمیع کی طرف، جس کے حوالہ سے پروفیسر انور جمال اپنی کتاب “ادبی اصطلاحات” کے صفحہ نمبر 83 پر رقمطراز ہیں: “یہ شعری اصطلاح ہے۔ وہ کلام (شعر، مصرعہ) جس کا ایک حصہ کسی اور زبان کا ہو اور دوسرا کسی اور زبان کا، تلمیع کہلاتا ہے۔ یہ وہ صنعت ہے جس کو شعرا نے قادر الکلامی کے اظہار کے لیے شعوری طور پر اپنایا۔”
پروفیسر انور جمال کے بقول، تلمیع لکھنے والا شاعر ایک سے زیادہ زبانوں پر دسترس رکھتا ہے۔
مثال کے طور پر “تلمیع” کے حوالہ سے مرزا غالبؔ کا ذیل میں دیا جانے والا شعر ملاحظہ ہو:
دھوپ کی تابش، آگ کی گرمی
ربنا قنا عذاب النار

…………………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے