558 total views, 2 views today

کسی بھی زبان میں ادب کی ابتدا شعر سے ہوتی ہے۔ نثر میں تنقید، تحقیق اور نئے تناظر کو اُس زبان کے اِرتقا کی معراج سمجھا جاتا ہے۔ ہم اپنی پشتو زبان کی قدامت پہ تو فخر کرسکتے ہیں، اس میں شعری پلڑے پہ بھی سر اُٹھا کے بات کرسکتے ہیں، لیکن نثری جھولی میں چند ایک نمونوں کے سوا ہماری آنکھیں نیچے ہی رہتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ماں بولی کی ہر پہلو سے خدمت کی جائے۔
دشتِ سخن کی وادی میں جب بھی کوئی نووارد قدم رکھتا ہے، تو وہ شعر ہی سے ابتدا کرتا ہے۔ مَیں اُسے خوش آمدید کہتا ہوں۔ اُن میں جاننے والوں کو بھرپور مطالعے، مشاہدے اور اساتذہ کے دواوین پڑھنے کا مشورہ بھی ضرور دیتا ہوں۔ کیوں کہ ہمارا مستقبل انہی نوجوانوں سے وابستہ ہے۔ یہی ادب کے لیے نیک شگون ہیں۔ ایسے ہی سرپھرے نوجوانوں میں ایک عادل ارمانؔ بھی ہے۔
عادل ارمانؔ جو بالکل اِک ’’بلونگڑا‘‘ بچہ ہے۔ یہی کوئی پندرہ سولہ سال کا نوجوان۔ میں نے کئی ایک مشاعروں میں اُسے سنا ہے۔ کیا کمال کے شعر کہتا ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ اتنی کچی عمر سی میں اس ہیرے کی تراش خراش کیسے ہوگئی؟ لیکن جب محمد گل منصورؔ، عطاء الرحمن عطاؔ اور ظفر علی نازؔ جیسے اساتذہ کا دستِ شفقت کسی کے سر پہ ہو، تو وہ ضرور چمکے گا۔ مَیں اب بھی محسوس کرتا ہوں کہ عادل ارمانؔ کو ابھی مزید ریاض کی بھی ضرورت ہے۔
احمد حسین مجاہد اپنی کتاب ’’رموزِ شعر‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’شاعری کی دنیا میں جب بھی کوئی نووارد آتا ہے، تو جس پہلے مسئلے کا اُسے سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ وزن کا ہوتا ہے۔ شعر کے باقی لوازمات تو سکھائے جاسکتے ہیں، لیکن وزن سکھایا نہیں جاسکتا۔ اس کے لیے مسلسل ریاضت اور رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مطالعہ، مشاہدہ اور اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنا نوواردوں کے لیے ناگزیر ہوتا ہے۔ کیوں کہ اساتذہ محض ایک لفظ کے ردو بدل سے، روزمرہ اور محاورے کے رد و بدل سے نہ صرف نقص دور کر دیتے ہیں بلکہ معنویت اور رمزیت میں بھی اضافہ کردیتے ہیں۔ خوش قسمت ہیں ہم کہ ذکر شدہ اساتذہ کے علاوہ قیسؔ، روغانےؔ، جانؔ اور عثمانؔ بھی ہم میں موجود ہیں۔ اور مطالعے کے حوالے سے تو آصف ثاقبؔ کا یہ شعر سند کا درجہ رکھتا ہے، جس میں وہ کہتے ہیں کہ:
جو اچھے شعر کا ارمان رکھیں
سر ہانے میر کا دیوان رکھیں
عادل ارمانؔ نے حال ہی میں ’’قسم‘‘ نامی کتاب کو زیورِ طبع سے آراستہ کرکے قارئین کی نذر کیا ہے۔ جسے ’’نور پبلی کیشنز‘‘ نے خوبصورت گیٹ اَپ کے ساتھ مزید خوبصورت بنایا ہے۔ حزن و یاس اور غم کی علامت لیے کالے ٹائٹل میں عادلؔ نہ جانے کس چیز کا ’’ارمان‘‘ لیے نیچے ہی نیچے دیکھ رہا ہے۔ فلیپ پہ حضرت بلال لوہارؔ نے لفظوں کی ٹھکائی کی ہے، تو دوسرے پہلو میں عطاء الرحمن عطاؔ نے سنبل و یاسمین کا چمنستان سجا رکھا ہے۔ پشت پہ محمد گل منصورؔ نے عادل ارمانؔ کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا ہے، تو اندرونی صفحات میں منصور الہامؔ اور ابراہیم تاجؔ نے بھی عادل ارمانؔ کو لفظوں کے تاج پہنا کر اپنی محبت کا بھرپور اظہار کیا ہے۔
112 صفحات کی یہ چھوٹی سی کتاب بہ ظاہر تو چھوٹی سی ہے، لیکن اپنے اندر موضوعات کا اِک ٹھاٹھیں مارتا سمندر رکھتی ہے۔ اس میں رومان بھی ہے اور ارمان بھی، فراق بھی ہے وصال بھی، جمال بھی ہے جلال بھی، رمز بھی ہے اور طنز بھی، مزاحمت بھی ہے اور استقامت بھی۔ گویا یہ ایک ایسا گلدستہ ہے جس میں ہر قسم کا پھول اپنی بھر پور آب و تاب کے ساتھ موجود ہے، لکھتے ہیں:
پہ سینہ کے تش زما دے
نور دا زڑہ می یارہ ستا دے
دا تصویر دے، داسے چپ دے
نہ پہ ڈز او نہ پہ تا دے
مزید لکھتے ہیں:
جوڑہ بہانہ کڑمہ کہ نہ کڑمہ ؟
ستاسو کرہ شپہ کڑمہ کہ نہ کڑمہ؟
اے ملنگہ، بس دے؟ زہ دی ولیدم؟
بندہ دروازہ کڑمہ، کہ نہ کڑمہ؟
اے جانانہ! اووایہ چی شونڈے می
سرے پہ دنداسہ کڑمہ، کہ نہ کڑمہ؟
تہ اے پکے، ستا جوڑ یقین نہ رازی
زڑہ درتہ خکارہ کڑمہ، کہ نہ کڑمہ؟
وہ محبت کے اتنے زمزمے گانے اور چشمے بہانے کے بعد بھی قصداً عمداً بھولا، نادان اور سادہ بن جاتا ہے۔ وہ بھولا بن کے کیا کہتا ہے؟ ذرا دیکھئے:
د محبت خوگے سندرے مالہ چرتہ رازی
مڑہ نو ستا پہ شان خبرے، مالہ چرتہ رازی
یہی نہیں بلکہ اس کے کلام میں طنز کی بھر پور کاٹ بھی موجود ہے، لکھتے ہیں:
ساروانہ ستا مننہ، بیا مننہ، بیا مننہ
کاروانہ ستا مننہ، بیا مننہ، بیا مننہ
تعلیم دے دَ پٹو، زما زامنو لہ ورکڑے
اے خانہ! ستا مننہ، بیا مننہ، بیا مننہ
آج کے دوست کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ
کہ زما دا رنگے یاران وی نو یقین اوکڑہ چی
زما بیا نورو دخمنانو تہ حجت نشتہ دے
الغرض! عادل ارمانؔ اِک جواں سال شاعر ہے۔ اُس کے جذبے، حوصلے اور ولولے سبھی جواں ہیں۔ وہ عزم، حوصلے اور اُمیدوں کا حدی خواں ہے۔ پشتو غزل کو ان جیسے نوجوانوں سے بہت سی توقعات وابستہ ہیں۔ اُمید ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اُس کے ذاتی ارماں، کائناتی ارمانوں کی طرف بھی پیش قدمی کریں گے۔ اور اس میں مزید پختگی، قناعت اور سنجیدگی بھی آتی جائے گی۔
اُن کا آخری شعر ملاحظہ ہو:
د خپل زڑگی د کلی خان دے کڑمہ
ڈیرہ مننہ چی جانان دے کڑمہ
یہ محبتہ! زۂ کافر وومہ خو
یہ محبتہ! مسلمان دے کڑمہ

…………………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے